جنگ ختم کرنے کی شرائط پر امریکہ و ایران کے عدم اتفاق سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
جنگ ختم کرنے کی شرائط پر امریکہ و ایران کے عدم اتفاق سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
پیر 11 مئی 2026 6:00
آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی سپلائی محدود ہے (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور پیر کی صبح تین ڈالر فی بیرل تک بڑھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے نکات پر متفق نہیں ہو سکے تھے اور صدر ٹرمپ نے ایران کی تجاویز کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز پہلے سے بند ہے جس کی وجہ سے عالمی طور پر توانائی کے ذرائع کی فراہمی کا سلسلہ محدود ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیر کو برینٹ کروڈ کی قیمت میں تین اعشاریہ 14 ڈالر کا اضافہ ہوا جس کے بعد تیل کی قیمت 104 اعشاریہ 47 ڈالر فی ہو گئی ہے جو کہ جمعے کے روز کے حساب سے ایک اعشاریہ 23 فیصد تک اضافہ ہے۔
اسی طرح خام تیل کی قیمت 98 اعشاریہ 51 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو کہ پچھلے سیشن کے مقابلے میں زیرو اعشاریہ 64 فیصد اضافہ ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والا مذاکرات کا سلسلہ کافی روز سے جاری ہے تاہم اتوار کو اس تنازع کے جلد خاتمے کی امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں جب امن مذاکرات کے لیے امریکہ کی جانب سے ایران کو بھجوائی گئی تجاویز پر تہران کا جواب صدر ٹرمپ کے پاس پہنچا۔
انہوں نے ایران کے جواب کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے دورے پر بیجنگ پہنچنے والے ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دوسرے معاملات کے علاوہ ایران کے ایشو پر بھی بات چیت کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے جواب کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
تیل کی قیمتوں کے حوالے سے ایک تجزیہ کار ٹونی سکیمور کا کہنا ہے کہ ’اب مارکیٹ کی تمام تر توجہ صدر ٹرمپ کے چین کے دورے پر مرکوز ہو گئی ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’امید کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ بیجنگ کو اس بات پر آمادہ کر پائیں گے کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مکمل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔‘
سعودی آرامکو کے سی ای او امین ناصر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ پچھلے دو ماہ کے دوران دنیا تقریباً ایک ارب بیرل تیل سے محروم ہو چکی ہے اس لیے اگر تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو بھی جائے تو توانائی کی عالمی مارکیٹس کو مستحکم ہونے میں وقت لگے گا۔