پاکستان میں یکساں تعلیمی نصاب، ‘اٹھارویں ترمیم سے متصادم‘

 

پاکستان کی وفاقی حکومت نے مدارس سمیت تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے،تاہم سندھ حکومت نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کے پاس صوبوں کے تعلیمی نصاب سے متعلق فیصلے نافذ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے مطابق وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں بشمول مدارس میں یکساں نصاب تعلیم نافذ کیا جائے، تاہم صوبہ
سندھ کی وزارت تعلیم کا موقف ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ ہے اوروفاق تعلیمی نصاب متعین کرنے کا مجازنہیں ہے۔
سندھ کے وزیر تعلیم سردارعلی شاہ نےاُردو نیوز کو بتایا کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت کے خدشات سے وفاقی حکومت کو متعدد بارآگاہ کیا گیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سندھ کے وفد نے وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ قومی نصاب کونسل کی میٹنگ میں شرکت نہیں کی تھی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس قومی نصاب کونسل کے قیام کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد ملک بھرمیں یکساں نصاب کے نفاذ کے حوالے سے اتفاق رائے کا حصول تھا۔

رواں سال وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں اس کونسل کےاجلاس بھی منعقد ہوئے، تاہم سندھ کی طرف سےان اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا اور موقف اپنایا گیا کہ اس کونسل کا قیام غیرآئینی اوراٹھارویں ترمیم سے متصادم ہے۔
صوبائی وزارت تعلیم کے ترجمان سعید میمن نے بتایا کہ وفاقی وزیر تعلیم نے سردارعلی شاہ سے کراچی میں ملاقات کی اور ان کے خدشات سنے جس کے بعد یہ اتفاق رائے ہوا کہ سندھ اپنا نصاب متعین کرنے میں خود مختار ہو گا، لیکن کچھ چیزوں میں وفاق کی رائے لی جائے گی۔
فردوس عاشق اعوان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملک بھر کے مدارس میں بھی یکساں نصاب نافذ کیاجائےگا، تاہم سندھ وزارت تعلیم کے ترجمان کے مطابق وفاقی حکومت نے اس حوالے سے صوبائی حکومت کو کوئی احکامات جاری نہیں کیے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نےاعلان کیا تھا کہ مدارس کووزارت تعلیم کے ماتحت کیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے بھی صوبائی وزارت تعلیم کے پاس کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے۔
سندھ پرائیویٹ سکولزایسوسیشن کے چیئرمین حیدرعلی نےاردو نیوزکوبتایا کے صوبے میں اس وقت بھی حکومت کی طرف سے منظور شدہ نصاب ہی رائج ہے، بس اس کے ناشر مختلف ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نصاب کے حوالے سے صوبائی حکومت جواحکامات دے گی وہ ان پرعملدرآمد کرلیں گے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے جامعہ بنوریہ کے کوآرڈینیٹر سیف اللہ ربانی نے اُردو نیوز کو بتایا کہ وفاق المدارس کا تو دیرینہ مطالبہ تھا کہ انہیں وزارت تعلیم کے ماتحت کیا جائے، اوراس حوالے سے سامنے آنے والا بیان خوش آئیند ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی اس تبدیلی کے بارے میں کسی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یکساں نصاب کے نفاذ کی بابت سیف اللہ ربانی کا کہنا تھا کہ وفاق المدارس کے ماتحت مدارس میں دینی و دینوی تمام علوم پڑھائے جاتے ہیں اورموجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید تعلیم بھی دی جاتی ہے، اس صورت میں یکساں نظام کا نفاذ مدارس کے لئے آسان ہوگا۔

شیئر: