کیا ’اقامہ میمزہ‘ گرین کارڈ جیسا ہے؟

سعودی مجلس شوریٰ نے غیر ملکیوں کے لیے منفرد اقامہ ’’اقامہ ممیزہ‘‘ قانون کی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کی بدولت غیر ملکیوں کو سعودی عرب میں متعدد مراعات اور حقوق حاصل ہوں گے جب کہ ان پر کئی ذمہ داریاں بھی عائد ہوں گی۔
شوریٰ کا اجلاس بدھ کو صدر ڈاکٹر عبداللہ آل الشیخ کی زیر صدارت ہوا۔ منفرد اقامہ قانون کا مسودہ سعودی کابینہ نے شوریٰ کو بھیجا تھا ۔76ارکان نے مسودہ قانون کے حق میں اور  55نے مخالفت میں ووٹ دیے دیا ۔ بیشتر ارکان نے اسے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں قرار دیا۔
منفرد اقامے کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کی سوچ یہ ہے کہ اس کی بدولت مملکت میں سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کا رواج ختم ہو گا۔ سعودی معیشت کو فروغ حاصل ہو گا اور تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی ۔ 
اقامہ ممیزہ کیا ہے؟
سعودی نیوز ویب سائٹس نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ اقامہ ممیزہ (منفرد اقامہ ) دو طرح کا ہو گا۔ ایک اقامہ ایک برس کے لیے جاری ہو گا اور قابل تجدید ہو گا۔دوسرا اقامہ غیر معینہ مدت کے لیے جاری کیا جائے گا ۔ 
منفرد اقامہ حاصل کرنے کے لیے متعدد شرائط رکھی گئی ہیں۔ جو کچھ یوں ہیں، امیدوار کے پاس دائمی اقامہ( 5سالہ اقامہ) ہو، امیدوار کی عمر کم سے کم 21برس ہو۔
امیدوار کا ریکارڈ جرائم سے پاک ہو ۔ وہ متعینہ رقم کا مالک ہو۔ اس کے پاس موثر پاسپورٹ ہو۔ وہ متعدی امراض سے پاک ہونے کا سرٹیفکیٹ رکھتا ہو۔ 
حقوق اور مراعات
منفرد اقامے رکھنے والوں کو کئی حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی ۔وہ اپنے ہمراہ مملکت میں اپنے اہل خانہ کو رکھ سکیں گے جب کہ رشتے داروں کو بھی وزٹ ویزے پر بلا سکیں گے ۔ رہائش ، تجارت اور صنعت کے لیے جائیداد خرید سکیں گے ۔ نجی ٹرانسپورٹ حاصل کر سکیں گے ۔ نجی اداروں میں ملازمت بھی کر سکیں گے۔ایک نجی ادارے سے دوسرے نجی ادارے میں منتقل ہو سکیں گے ۔ 
یہ مراعات منفرد اقامہ رکھنے والوں کے اہل خانہ کو بھی حاصل ہوں گی، البتہ منفرد اقامہ رکھنے والے ایسے کسی پیشے سے منسلک نہیں ہو سکتے جو سعودیوں کے لیے مخصوص ہیں ۔ اس کے علاوہ غیر ملکیوں پر مقررہ فیس سے بھی انہیں استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا ۔

 منفرد اقامہ رکھنے والے کو سعودی عرب سے آنے جانے کی سہولت حاصل ہو گی ۔ انہیں اس کے لیے خصوصی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ 

مملکت میں کاروبار کا حق
منفرد اقامہ رکھنے والے سعودی ہوائی اڈوں ، بندرگاہوں اور بری سرحدی چوکیوں سے آتے جاتے وقت سعودیوں کے لیے مخصوص امیگریشن کائونٹر استعمال کر سکیں گے ۔ انہیں غیر ملکی سرمایہ کاری قانون کے مطابق مملکت میں کاروبار کا بھی حق حاصل ہو گا۔
 مجلس شوریٰ کے پاس کردہ قانون کے مسودے کی حتمی منظوری سعودی کابینہ دے گی ۔ اس کے یہ قانون سرکاری گزٹ ’ام القریٰ‘ میں شائع ہو گا ۔ اس کے بعد ہی قانون موثر ہوگا ۔ 
یاد رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وژن 2030ء جاری کرتے وقت منفرد اقامے کا تذکرہ کیا تھا ۔انہوں نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ گرین گارڈ جیسا ہو گا، گرین کارڈ نہیں ہو گا۔ اس کا مطلب سعودی شہریت کا حصول نہیں ۔ 
 

شیئر: