’ماں سب جانتی ہے‘ عالمی دن پر چند ’سپر مامز‘ کی باتیں

نوشین نقوی
آج ماں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کی ابتدا امریکہ میں امن کے لیے کام کرنے والی اینا جاروس نے کی ۔ انہوں نے امریکی حکومت کو اس بات پر قائل کیا کہ مائوں کا ایک خاص دن ہونا چاہیے ۔
کیونکہ ماں ایک ایسی شخصیت ہے جو دنیا میں آپ کے لیے وہ سب کچھ کرتی ہےجو کوئی دوسرا نہیں کر سکتا ۔
سنہ 1914 میں امریکی صدر وُڈرو وِلسن نے مئی کے دوسرے اتوار کو ایک باقاعدہ اعلان کے تحت ’مدرز ڈے‘ قرار دے دیا ۔
آ ج کے تیز رفتار بھاگتے دور میں گھریلو اور پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی پیدائش، ان کی اچھی تربیت اور ان کو مکمل وقت دینا ایک عام نہیں بلکہ ’سپرمامـز‘ کا کام ہے۔
اردو نیوز نے ایسی ہی کچھ ’سپرمامز‘ سے ان کے تجربات معلوم کرنے کے لیے گفتگو کی۔
سپرماڈل مہرین سید
مہرین سید دو بچوں کی ماں ہیں۔ پیاری سی بیٹی کے بعد حال ہی میں ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے مہرین کہتی ہیں کہ ’میری دنیا رنگوں اور روشنیوں کی دنیا ہے لیکن یہ رنگ، یہ روشنیاں اپنے بچے کی ایک مسکراہٹ کے سامنے پھیکی پڑ جاتی ہیں۔ جب میں پہلی بار ماں بننے والی تھی تومشوروں کی بہتات تھی، لیکن میں نے زیادہ ڈاکٹر یا ماں کی سنی کیونکہ میرا ایمان ہے کہ ماں سب جانتی ہے اور ماں سے بڑھ کے کوئی ہمدرد نہیں ہو سکتا۔ حیرانی تب ہوتی تھی جب لوگ اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرکے بیٹا پیدا کرنے کے بھی طریقے بتانے لگ جاتے تھے۔ میں نے صحیح معنوں میں ماں بننے کے بعد ماں کی عظمت کوجانا ہے۔ ایک ماں جس طرح یہ جنت کا مقام حاصل کرنے کے لیے جتن کرتی ہے تکلیفیں سہتی ہے ہم اس کا بدل نہیں دے سکتے۔‘
 
مستنیرہ کرن خان
مستنیرہ کرن خان ایک ذاتی ویب ٹی وی کے لیے دن رات متحرک نظر آتی ہیں ۔ان کی ننھی سی بیٹی پریشے بھی ماں کی دیکھا دیکھی کیمرے سے دوستی کر چکی ہیں۔ مستنیرہ اپنی زچگی کی دنوں کے بارے میں کہتی ہیں۔ کہ ’ہمارے ہاں ماں بننے کے عمل میں کوئی پرائیویسی نہیں۔  یہ ایک مشکل کام ہے لیکن ایک ایسی مشکل جس سے آپ بطور ماں بہت محبت کرتے ہیں اور خود کو معتبر سمجھتے ہیں۔‘
 
گونیلہ حسنین، خاتون صحافی
گونیلہ صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن بھی ہیں، گذشتہ برس انہوں نے متعدد انٹرنیشنل کانفرنسز میں شرکت کے لیے لندن، سری لنکا ، نیپال اور دبئی کا سفر کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب وہ حاملہ تھیں ۔ انہوں نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا بھر کی کام کرنے والی مائیں زچگی کا سفر دوکشتیوں کی سوار ہو کر کرتی ہیں ایک طرف تو ان کا کیرئیراور دوسری طرف ایک حاملہ عورت سے جڑے ہمارے تخیلات کہ اس کو کیسا ہونا چاہیے اورکیسا لگنا چاہیے ۔ جب میں چار ماہ کی حاملہ تھی تو مجھے شیوننگ سکالرشپ کے لیے لندن جانا تھا ۔ میری ڈاکٹر نے بھی مجھے سفر سے منع کیا مگرمیں نے زچگی کے عمل کو بیماری سمجھنے سے انکار کر دیا اور اپنے بچے کو کوکھ میں لیے دنیا گھمائی ۔ یہ خوبصورت اور منفرد تجربہ ہمیشہ ہم دونوں کی یادوں میں رہے گا ۔‘
 
آمنہ اجمل، ڈریس ڈیزائنر
آمنہ اجمل کا شمار پاکستان کی بہترین ڈریس ڈیزائنرز میں ہوتا ہے، ان کے تین بچے ان کے سوشل میڈیا صفحات پربھی توجہ حاصل کیے رہتے ہیں۔ اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے آمنہ کہتی ہیں کہ ’کام کے ساتھ بچے پیدا کرنا اور پھر ان کی تربیت کرنا ایک بڑا ٹارگٹ ہے لیکن سلام ہے کام کرنے والی ماؤں کے حوصلے اور جذبے کو جووہ آگے بڑھتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے مثال بنتی ہیں۔ میرے بچے میری پہلی ترجیح ہیں۔‘
 
عفیفہ فیصل، ٹیلیویژن پروڈیوسر
عفیفہ فیصل نجی ٹی وی چینل میں پرائم ٹائم پروگرام کی پروڈیوسر ہونے کے چیلنجز کا ذکر ہوئے کہتی ہیں کہ ’میرے تین بچے ہیں اور میرا پورا کیرئیر ہی ان تینوں کے ساتھ ساتھ چلا ہے۔ گھر، باہر، شوہر اور بچے ۔۔۔۔ ان سب کے بیچ کئی بارعورت گم جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ڈے کئیر سینٹرز کا کوئی رواج نہیں، شاید ہم یقین بھی نہیں کرتے کہ ڈے کئیر سینٹرز ہمارے بچوں کے ساتھ بہترسلوک کریں گے۔ تین بچے جن میں سے ایک سکول جانے لگے ،ایک اٹھ کر شرارتیں کرنے کے قابل ہو جائے اورایک پیدا ہی ہوا ہو۔۔۔۔۔اس تجربے کو خوشگوار کہنا ہی حوصلہ فراہم کرتا ہے۔‘
 
 
 
 
 
 

شیئر: