سید نور کو پاکستانی ہیروئن کے لیے ایرانی ہیرو کی تلاش  

کیا پاکستانی فلم بین صائمہ کو مین کردار میں قبول کریں گے؟
     فلم ساز سید نور نے  ایران کے ساتھ مل کر  بڑے بجٹ کی فلم شروع کر نے کا اعلان کیا ہے۔پاکستانی ہیروئین کے لئے ایرانی ہیرو کی تلاش چند دنوں میں مکمل ہو جائے گی۔  سید نورپاکستانی فلموں کی بین الاقوامی نمائش کے بارے میں بہت پر امید ہیں وہ کہتے ہیں‘‘ایران اور ترکی کے سینما گھر،جدہ میں بننے والے جدیدسینما گھروں میں پاکستانی فلموں کے لئے بہت اسکوپ ہے۔ 
     اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے سید نور کہتے ہیں‘پاکستانی فلم انڈسٹری اپنے سنہری دور کی طرف چل پڑی ہے۔ہم باتوں سے عمل کی طرف آ گئے ہیں۔پاکستان اور ایران مل کر فلمسازی کی طرف عملی قدم بڑھا چکے ہیں۔جب یہ دونوں ممالک مل کر کام کریں گے تو ہم ایک نئی طرز کی مشترکہ فلم سازی کی بنیاد رکھیں گے۔ایرانی فلم دنیا کی بہترین فلموں میں شمار ہوتی ہے جس کا ثبوت آسکر ایوارڈ کے لئے ایرانی فلموں کی بہتات ہے۔ہم نے کبھی ایرانی فلم کو اپنے ہاں عوامی سطح پر متعارف کروانے کا نہیں سوچالیکن اب وہ وقت آ گیا ہے۔’
سید نور نے پر جوش لہجے میں کہا کہ انڈسٹری کو خوشحالی کی طرف لے جانے کے لئے مدد چاہئے تو وہ ایران یا عرب ریاستوں سے کیوں نہیں۔انہوں نے بتایا ایران کے ساتھ مل کر  بڑے بجٹ کی فلم  کیلئے تمام ابتدائی مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔ ہم نے دونوں ملکوں کے موسیقاروں اور گلوکاروں کے ساتھ مل کر فلم کی موسیقی پر کام شروع کر دیا ۔فلم ایک ہی وقت میں دونوں ممالک کی کاسٹ کے ساتھ دونوں طرف ریلیز ہو گی ،یہ خیال بہت ہی خوش کن ہے۔’ 
ایرانی ایکٹرآغا مہدی نادِ علی،پروڈیوسر فارق مغل کے ساتھ اس وقت لاہور کے شباب اسٹوڈیوز میں سید نور کے ساتھ فلم کے نام اور کہانی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔فلم اسٹار صائمہ پھر مین کردار نبھاتی نظر آئیں گی۔جب کے ان کے مقابل ہیرو کی تلاش کا مرحلہ چند دن کی دوری پر ہے۔
    کیاپاکستانی فلم بین صائمہ کو مین کردار میں قبول کریں گے،اس بارے میں سید نور کہتے ہیں‘بالکل کریں گے،فلم کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ  کردار کون نبھائے گا۔ہم ایک بہترین اسکرپٹ پر کام کر رہے ہیں جس میں صائمہ خود کو منوائیں گی’۔
 سید نور نے کہا‘کسی مسئلے کی نشاندہی کرنا آسان لیکن اس کا حل پیش کرنا مشکل ،مگر ضروری ہے،آخر کب تک ایک ہی بات کا رونا روتے رہیں کہ پاکستانی فلم انڈسٹری ڈوب گئی  ،ڈوب رہی ہے یا ڈوب جائے گی۔ہمیں خوشحالی کی بات سوچنا ہو گی،دنیا بہت بڑی اور ہمارے لئے آپشنز بہت زیادہ ہے۔ ملک بھر میں اس وقت ایک سو کے قریب سینما گھرموجود ہیں۔ 
فائیو اسٹارز ہوٹلز جیسے چمکتے دمکتے سینما گھر پاکستان میں بننے والی سالانہ30سے35فلموں کے ساتھ اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتے۔ہمیں بہت زیادہ پروڈکشن کرنا ہوگی،وہ ہم اکیلے نہیں کر سکتے۔ہمیں ایران ،ترکی اور عرب ریاستوں سے رابطے کرنے چاہئیں تاکہ فلم انڈسٹری چلتی رہے اور انڈیا کے ساتھ میں انڈسٹری کو جس بے یقینی کا سامنا ہے اس کے نجات مل جائے۔’
 سید نور نے ہمیشہ انڈین فلموں کی نمائش کی مخالفت کی اور کھل کر کہا‘‘پاکستانی سینما میں مشرقی روایات اور ہمارے اصل کلچر کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ انڈین فلمیں جس تیزی سے فحاشی کی طرف جا رہی ہیں ہم زیادہ دن انہیں برداشت نہیں کر پاتے۔ہمارے بچے سوچتے ہیں یہ ہمارا کلچر ہے،مگر ایسا نہیں ہے۔جب کہ دوسری طرف اگر ہم برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر فلمیں بنائیں۔جو ان ممالک میں بھی نمائش کے لئے پیش ہوں اور ہمارے ہاں بھی۔اس سے سینما گھر آباد رہیں گے اور انڈسٹری چلتی رہے گی۔
سید نور  کہتے ہیںہماری فلموں کی شرم وحیا ابھی باقی ہے۔ انہیں انڈین  فلموں کے مقابلے میں کم سنسر شپ کا سامنا ہو گا۔اس لئے یہی وقت ہے کہ ایران کے بعد جدہ سمیت پورے عرب میں پاکستانی فلموں کے لئے جگہ بنائی جا ئے اور ان ممالک کی فلموں کو بھی ہمارے سینما گھروں میں لایا جائے۔ پاکستانی فلمیں بن رہی ہیں لیکن وہ تعداد اور معیار میں کم ہیں،اسلامی ممالک ایک دوسرے کے تعاون سے فلم انڈسٹری میں ایک نئے بلاک کو متعارف کروانے چل پڑے ہیں،میں اس سلسلے میں اپنی کوشش جاری رکھوں گا۔’
    
جیوا،سنگم،سرگم،چور مچائے شور،چوڑیاں،مجاجن جیسی  سیکڑوںکامیاب فلموں کے خالق سید نور کا شمار ایسے فلم میکرز میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستانی فلم اندسٹری کو سہارا دینے میں ہمیشہ نمایا ں کردار ادا کیا ہے۔وہ جب بھی کچھ دنوں بعد سامنے آتے ہیں تو ایک نئی خبر ساتھ ہوتی ہے۔حال ہی میں ایران میں ہونے والے فلم فیسٹیول میں سید نور کی ملاقات ایرانی پروڈیوسر فاروق مغل سے ہوئی تومشترکہ فلم سازی پر معاملات طے پاگئے۔

شیئر: