موت کا کنواں: ’ڈر تو دیکھنے والوں کو لگتا ہے‘

آپ نے کبھی موت کا کنواں دیکھا ہے؟ نہیں؟ تو پھر یہ جملہ تو ضرور سنا ہوگا کہ فلاں جگہ موت کا کنواں بن گئی ہےیا وہ شخص تو ایسے موٹرسائیکل بھگاتا ہے جیسے موت کے کنویں میں چلاتا ہو۔  
لیکن موت کے کنویں کی دیواروں پر موٹرسائیکل چلانے والا شخص کیا واقعی ہمارے جیسا ایک عام انسان ہوتا ہے؟
’موت کا کنواں‘ لکڑی کے تختوں سے تیار کردہ ایک مصنوعی کنواں نما ہوتا ہے اور اس کی اونچائی تقریباً پچیس سے پینتیس فٹ تک ہوتی ہے۔ اس کی عمودی دیواروں پر موٹر سائیکل اور گاڑی اس انداز میں چلائی جاتی ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ 
پاکستان کے بیشتر دیہی علاقوں میں منعقد ہونے والے میلوں میں موت کا کنواں عوامی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ 

36 سالہ محمد اجمل عرف گوگا ببر شیر  کا تعلق پنجاب کے ضلع گجرات سے ہے، وہ موت کے کنویں میں موٹرسائیکل دوڑانے کا فن جانتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں وہ اسی فن کا مظاہرہ کرکے اپنی گزر بسر کر رہے ہیں۔ 
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمت اور حوصلے والا کام  ہے۔ ’جب  لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں، شور ڈالتے اور تالیاں بجاتے ہیں تو ہمارا دل خوشی سے بڑا ہو جاتا ہے۔ اوپر سے دیکھنے والوں کے دل دھک دھک کر رہے اور ہمارا دل خوشی سے پھول رہا ہوتا ہے۔‘
محمد اجمل کا کہنا تھا کہ وہ انھوں نے دس سال کی عمر میں اس میدان میں قدم رکھا اور پندرہ سال اپنے بڑے بھائی نعمت علی سے اس کی تربیت حاصل کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی موت کے کنویں میں گاڑی چلانے میں مہارت رکھتے ہیں اور وہ کنویں میں سائیکل بھی چلا چکے ہیں۔ 
محمد اجمل کہتے ہیں کہ ’میں نے پانچ سال اس فن کی تربیت حاصل کی اور پندرہ سال کی عمر میں  پہلی بار اس کا مظاہرہ کیا۔‘ 

موت کے کنویں میں موٹرسائیکل چلانا پرخطر کھیل ہے۔ اس میں حادثات کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ ذرا سی کوتاہی جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ 
محمد اجمل عرف گوگا کہتے ہیں کہ ’بائیک ٹھیک ہونی چاہیے، اس کی دیکھ بھال اچھے طریقے سے ہونی چاہیے اور باقی سب تو اللہ کے سپرد ہی ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حادثے بھی پیش آجاتے ہیں۔ چین کا ٹوٹ جانا، ٹائر پھٹ جانا یا انجن میں خرابی پیدا ہونے سے گرنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں چوٹ لگنے کا  خطرہ ہوتا ہے اور موت بھی واقع ہوسکتی ہے، اسی لیے اسے موت کا کنواں کہا جاتا ہے۔‘ 
وہ بتاتے ہیں کہ ’چند سال پہلے موت کے کنویں میں موٹرسائیکل چلاتے ہوئے میرا بھی حادثہ ہوا تھا جب موٹرسائیکل کا ٹائر پھٹ گیا تھا۔ اس حادثے میں میرا بایاں بازو ٹوٹ گیا تھا۔‘ 

جب محمد اجمل سے پوچھا گیا کہ موٹرسائیکل چلاتے ہوئے ان کے ذہن میں کیا چل رہا ہوتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ذہن میں ہم اپنے چکر پورے کر رہے ہوتے ہیں۔ اس میں گھومنے اور چکر کھانے کی پریکٹس کرنا پڑتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بائیک چلاتے چلاتے چکر آجائیں اس لیے چکر لگانے کی بھرپور پریکٹس کرنا پڑتی ہے۔‘ 
موت کا کنواں اب معدوم ہوتی ہوئی روایات کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ شہروں میں اب سرکس کا رواج بھی خال خال ہی نظر آتا ہے اور ماضی قریب میں ملک میں شدت پسندی کی لہر کے باعث بھی بہت سے میلوں اورعلاقائی تقریبات متاثر ہوئیں جہاں محمد اجمل جیسے فنکاروں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے اور روزی روٹی کمانے کے مواقع ملتے تھے۔ 

اب ملکی حالات تو خاصے بہتر ہو چکے ہیں تاہم سرکس اور موت کے کنویں جیسے کھیل سے وابستہ فنکار کوئی اور پیشہ اختیار کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ محمد اجمل کہتے ہیں کہ ’بچوں کے اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں۔ ان کی فیس، کتابیں اور یونیفام کا خرچ تو پورا کرنا ہوتا ہے، اس کے علاوہ کوئی کاروبار یا ذریعہ آمدن نہیں ہے اسی لیے اس کام سے وابستہ ہوں۔‘
محمد اجمل کا کہنا ہے کہ ’میرے بچے اس کام میں دلچسپی نہیں رکھتے، ایک بیٹا نویں اور دوسرا ساتویں میں پڑھتا ہے۔ اور اگر وہ یہ کام کرنا چاہتے ہیں تو اپنے بل بوتے پر ہی کریں گے۔‘ 
لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ان کے خاندان کا کوئی فرد اس کام میں دلچسپی نہیں رکھنا۔ محمد اجمل کے ایک بھانجے محمد آصف اب ان کی ٹیم کا حصہ ہیں، اور ان کے ساتھ گاڑی اور موٹرسائیکل کے کرتب دکھاتے ہیں۔ 

موت کے کنویں میں چلایا جانے والا موٹرسائیکل بھی خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے، لیکن محمد اجمل کا کہنا ہے کہ ’موت کے کنویں کا موٹرسائیکل عام موٹرسائیکلوں جیسا ہی ہوتا ہے اور یہ ہمارا جذبہ اور ہمت ہی ہوتی ہے کہ ہم اس کو اس انداز میں چلا کر لوگوں کا دل جیتیں۔‘ 
محمد اجمل کا کہنا ہے کہ زندگی اور موت کے اس کھیل سے وہ ایک شو میں دو سے دس ہزار تک کما لیتے ہیں جو تین سے چار لوگوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وہ سب سے برا وقت ہوتا ہے جب کسی وجہ سے شو نہ ہو سکے۔‘  

شیئر: