’ممیزہ‘ اقامے سے کیا حقوق اور مراعات حاصل ہوں گے؟

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے مراعات کا اعلان
 سعودی کابینہ نے منگل کو’’منفرد اقامہ ‘‘ کی منظوری دے دی۔اجلاس شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت جدہ کے قصر السلام میں منعقد ہوا۔ منفرد اقامہ کا لائحہ عمل 90روز میں اندر اندر تیار کر لیا جائے گا۔ اس کی ذمہ داری خصوصی مرکز کے سپرد کر دی گئی ہے۔
مجلس شورٰی نے بدھ کو منفرد اقامہ قانون کا مسودہ پاس کر کے حتمی منظوری کے لیے کابینہ کو بھیجا تھا۔
منفرد اقامہ مرکز سعودی عرب میں مقیم اور غیر مقیم غیر ملکیوں کے لیے منفرد اقامے کی شرائط اور اس کی درخواست کا طریقہ کار متعین کرے گا ۔
رکن شورٰی لطیفہ الشعلان نے بتایا کہ غیر ملکیوں کو جاری کیے جانے والے منفرد اقامہ سے تارکین کو متعدد حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی ۔کچھ ذمہ داریاں بھی ہوں گی۔اس کی بدولت سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کے سلسلے کا خاتمہ ہو گا اور سعودی عرب میں تجارت اور معیشت کے عمل کو تقویت پہنچے گی۔
سعودی عہدیدار نے ’الشرق الاوسط‘ سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی خبررساں ادارے ’بلومبرگ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ملکیوں کو گرین کارڈ کے طرز پر دائمی اقامہ جاری کرنے کی خصوصی سکیم زیر غور ہے ۔


کیا غیر ملکیوں کے لیے ’اقامہ ممیزہ‘‘گرین کارڈ جیسا ہے؟

شورٰی کا اجلاس بدھ کو صدر ڈاکٹر عبداللہ آل الشیخ کی زیر صدارت ہواتھا۔ منفرد اقامہ قانون کا مسودہ سعودی کابینہ نے شورٰی کو بھیجا تھا ۔76ارکان نے مسودہ قانون کے حق میں اور  55نے مخالفت میں ووٹ دیا ۔ بیش تر ارکان نے اسے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں قرار دیا۔
منفرد اقامے کے حق میں ووٹ ڈالنے والوں کی سوچ یہ ہے کہ اس کی بدولت مملکت میں سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کا سلسلہ ختم ہو گا۔ سعودی معیشت کو فروغ حاصل ہو گا اور تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی ۔
اقامہ ممیزہ کیا ہے؟
سعودی نیوز ویب سائٹس نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ اقامہ ممیزہ (منفرد اقامہ ) دو طرح کا ہو گا۔ ایک اقامہ ایک برس کے لیے جاری ہو گا اور قابل تجدید ہو گا۔اس کی فیس ہو گی ۔دوسرا اقامہ غیر معینہ مدت کے لیے جاری کیا جائے گا جس کی حیثیت اقامہ دائمہ کی ہو گی ۔
منفرد اقامہ حاصل کرنے کے لیے متعدد شرائط رکھی گئی ہیں۔ جو کچھ یوں ہیں، امیدوار کے پاس دائمی اقامہ( 5سالہ اقامہ) ہو، امیدوار کی عمر کم سے کم 21برس ہو۔
امیدوار کا ریکارڈ جرائم سے پاک ہو ۔ وہ مقررہ فیس ادا کرتا ہو۔ اس کے پاس موثر پاسپورٹ ہو۔ وہ متعدی امراض سے پاک ہونے کا سرٹیفکیٹ رکھتا ہو۔


حقوق اور مراعات

منفرد اقامہ رکھنے والوں کو کئی حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی۔وہ اپنے ہمراہ مملکت میں اپنے اہل خانہ کو رکھ سکیں گے جب کہ رشتے داروں کو بھی وزٹ ویزے پر بلا سکیں گے ۔ رہائش ، تجارت اور صنعت کے لیے جائیداد خرید سکیں گے ۔ نجی ٹرانسپورٹ  کے مالک بن سکیں گے ۔ نجی اداروں میں ملازمت بھی کر سکیں گے۔ایک نجی ادارے سے دوسرے نجی ادارے میں منتقل ہو سکیں گے ۔
یہ مراعات منفرد اقامہ رکھنے والوں کے اہل خانہ کو بھی حاصل ہوں گی، البتہ منفرد اقامہ رکھنے والے ایسے کسی پیشے سے منسلک نہیں ہو سکتے جو سعودیوں کے لیے مخصوص ہیں ۔ اس کے علاوہ غیر ملکیوں پر مقررہ فیس سے بھی انہیں استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا ۔
 منفرد اقامہ رکھنے والوں کو سعودی عرب سے آنے جانے کی سہولت حاصل ہو گی ۔ انہیں اس کے لیے خصوصی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔
مملکت میں کاروبار کا حق
منفرد اقامہ رکھنے والے سعودی ہوائی اڈوں ، بندرگاہوں اور بری سرحدی چوکیوں سے آتے جاتے وقت سعودیوں کے لیے مخصوص امیگریشن کائونٹر استعمال کر سکیں گے ۔ انہیں غیر ملکی سرمایہ کاری قانون کے مطابق مملکت میں کاروبار کا بھی حق حاصل ہو گا۔
سعودی کابینہ کی طرف سے
 مجلس شوریٰ کے پاس کردہ قانون کے مسودے کی حتمی منظوری  کے بعد قانون کا متن سرکاری گزٹ ’ام القرٰی‘ میں شائع ہو گا ۔ اس کے بعد ہی قانون موثر ہوگا ۔ لائحہ عمل  90روز میں جاری ہو گا۔
 

شیئر: