عمران خان کی تخیلاتی کابینہ کا اجلاس

وزیر ، مشیر اس طرح کے ہنگامی اجلاس سے خوفزدہ ہی رہتے تھے کہ جانے کب، کس کے نام رخصت کا قرعہ نکل آئے
کانفرنس روم میں گہری خاموشی طاری تھی۔ کابینہ کے اہم ترین افراد اپنی نشستوں پر براجمان ہو چکے تھے۔ خان صاحب کی آمد کسی بھی لمحے متوقع تھی۔ وزرا کے علاوہ میٹنگ میں خان صاحب کے ایک خصوصی مصاحب بھی تشریف رکھتے تھے جو بار بار بہت دلار کے ساتھ بیرونی دروازے کو دیکھتے تھے۔ ان کی ایک نظر اپنی گھڑی پر اور دوسری دروازے پر تھی۔
کابینہ میں حالیہ رد و بدل کے بعد یہ اہم نوعیت کا اجلاس تھا۔ اس ہنگامی اجلاس میں صرف اہم ترین ورزا کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔
 وزیر ، مشیر اس طرح کے ہنگامی اجلاس سے خوف زدہ ہی رہتے تھے کہ جانے کب، کس کے نام رخصت کا قرعہ نکل آئے۔ اسی خدشے کے پیش نظر کانفرنس روم میں موجود ارکان میٹنگ سے پہلے ’لاسٹ منٹ‘ تیاریوں میں مصروف تھے۔ فائلوں کا جائزہ لیا جا رہا تھا ، کاغذات کو درست کیا جا رہا تھا۔
سب سے پہلے وزیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان تشریف رکھتی تھیں۔ ان کے سامنے اینکروں اور چینلوں کی فائل رکھی تھی۔ دوسری فائل میں صحافیوں کے کارنامے تحریر تھے۔
 وہ کبھی اپنی نوک پلک درست کرتیں کبھی ان فائلوں کو تختہ مشق بنا رہی تھیں۔ ان کے عقب میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری تشریف رکھتے تھے۔ سائنس کے میدان میں ان کے حالیہ دوربینی کارناموں کے علاوہ رویت ہلال کمیٹی کی برخواستگی کا مطالبہ  بھی ان کے سامنے دھرا تھا۔

وزیر تعلیم شفقت محمود ان ڈھائی کروڑ بچوں کے مندرجات سنبھالے بیٹھے تھے کہ جنہوں نے ابھی سکول جانا تھا اور جن کا ذکر گذشہ پانچ سال سے خان صاحب کی ہر تقریر میں ہو رہا تھا۔
 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایران سے تعلقات کی درستگی اور سی پیک کے ثمرات کی فائل سمیٹے بیٹھے تھے۔ ٹائی کے ساتھ ساتھ اپنی انگریزی کی نک سک بھی درست کر رہے تھے۔ فہمیدہ مرزا صوبائی تعلقات میں بہتری کی تجاویز لے کر آئی تھیں۔ نور الحق قادری حج کے انتظامات پر شاباش کے متقاضی تھے۔
 وزیر اعظم کے ’سپوکس مین‘  ندیم افضل چن وزیر اعظم کے متوقع بیانات اور ان کے غیر متوقع مضمرات پر بات کرنے کے خواہاں تھے۔
گذشہ بیانات کے مضر اثرات پر مبنی فائلوں کا ایک انبار ان کے سامنے موجود تھا۔  پارلیمانی امور کے وزیر اعظم سواتی پارلیمان میں ہونے والی کارروائی  کے حوالے سے کچھ نکات تیار کر کے لائے تھے۔اس ہنگامے کے ملکی سیاست پر اثرات  کو بھی آج ان کا موضوع ہونا تھا۔
وزیر دفاع پرویز خٹک کے سامنے نہ کوئی فائل تھی نہ ان کے سامنے کوئی کاغذ دھرا تھا۔ وہ بس خاموش، خاموش سے خلا میں گھور رہے تھے۔ سول ایوی ایشن  کے وزیر غلام سرور بھی بھرپور تیاری سے شامل حال تھے۔ وزارت پٹرولیم کے چھن کے جانے کا ان کے چہرے پر ملال ضرور تھا مگر نئی وزارت کی خوشی بھی ان سے سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔
سب سے آخر میں وزیر خزانہ حفیظ شیخ تشریف رکھتے تھے۔ ان کے سامنے فائلوں کا ایک انبار تھا۔ کبھی وہ آئی ایم ایف کی فائل نکالتے، کبھی چشمے کے نیچے سے روپے کی گرتی ہوئی قدر پر نظر ڈالتے، کبھی سٹاک مارکیٹ کی حالت زار پر نگاہ ڈالتے، کبھی ترقیاتی بجٹ کو روکنے کی تجاویز والے صفحے پر نگاہ ڈالتے اور کبھی ان ممالک کی فہرست نکال کر سامنے رکھتے جن سے قرضہ ملنے کا امکان ابھی بھی موجود تھا۔

اچانک خان صاحب کے خصوصی اور چہیتے مصاحب اپنی نشست سے اٹھ کر دروازے کی جانب لپکے۔ یہ اس بات کا عندیہ تھا کہ خان صاحب تشریف لا چکے ہیں۔ میٹنگ روم کا دروازہ کھلا اور خان صاحب تیز تیز چلتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔ خان صاحب کے لباس میں آج دو کی بجائے تین سوراخ تھے جو اس بات کا بین ثبوت تھا کہ آج معاملہ گھمبیر ہے۔
 ورزا نے بات کرنے کی اجازت چاہی ہی تھی کہ خان صاحب نے خود ہی مائیک تھام لیا۔ پہلے تو انہوں نے نواز شریف کی لوٹ مار پر اراکین اجلاس کو تفصیلی لیکچر دیا اور ان کو ایک دفعہ پھر باور کروایا کہ کس طرح نواز شریف کے چار فلیٹوں کی وجہ سے یہ ملک ستر سال سے ترقی نہیں کر سکا۔ نواز شریف سے فرصت پا کر خان صاحب آصف زرداری کے درپے ہوگئے اور پوری پیپلز پارٹی کو چور، ڈاکو، غدار اور جانے کیا کیا کہہ گئے۔
اس صورت حال پر وزرا نے سکھ کا سانس لیا ۔ خان صاحب کی ابتدائی گفت گو اس بات کا پیش خیمہ تھی کہ آج نہ کسی وزارت کی کارکردگی پر بات ہوگی نہ کسی کی فہمائش ہو گی، نہ کسی کی وزارت تبدیل ہو گی ، نہ  ڈانٹ ڈپٹ کا کوئی امکان ہے اور نہ ہی ترقیاتی امور کے بارے میں اظہار خیال کی نوبت آئے گی۔

 اس صورت حال کو بھانپ کر تمام  وزرا کرام بڑھ چڑھ کر ماضی کے ان کرپٹ حکمرانوں کی کرپشن پر چاند ماری کرنے لگے۔ ایک ارب کو سو ارب اور سو ارب کو ہزار ارب بتانے لگے۔  اتنا شور مچا کہ میٹنگ روم میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ خان صاحب اس صورت حال سے اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے مسکراتے ہوئے اپنا سیاہ چشمہ لگا لیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اب میٹنگ برخواست ہو چکی ۔ آج کا کام ہو چکا ہے۔ باقی کل دیکھا جائے۔
جان کی امان پاتے وزرا جب رخصت ہونے لگے تو خان صاحب کے خصوصی مصاحب شرکا سے گویا ہوئے۔ ’ کیا آپ میٹنگ سے رخصت ہوتے ہوئے اس شخص کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے کہ جس کی وجہ سے  آج آپ لوگوں کو وزراتیں نصیب ہوئی ہیں؟ کیا آپ اس قائد کو سلام پیش کرنا چاہیں گے جس کے ’وژن‘ کی وجہ سے آج آپ اس منصب پر براجمان ہیں؟ کیا اس عظیم لیڈر کے حق میں ایک فلک شگاف نعرہ ہم سب کا فرض نہیں بنتا؟  میٹنگ میں موجود تمام وزرا نے بے ساختہ اپنا دائیاں ہاتھ فضا میں بلند کیا اور ہم آواز ہو کر ایک  فلک شگاف نعرہ لگایا۔’جئے بھٹو‘
اس کے بعد میٹنگ ہال میں ایک مہیب خاموشی چھا گئی اور کابینہ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لِئے ملتوی کر دیا گیا۔

نوٹ۔ یہ ایک تخیلاتی کالم ہے اس میں سے سچائی تلاش کرنے والے خود اپنی عاقبت کے ذمہ دار ہوں گے۔

 

شیئر: