’ جنسی تعلیم شرمندگی نہیں، بچوں کی حفاظت کے لیے ضروری‘

نیوز کانفرنس میں بچوں میں جنسی ہراسیت روکنے کے لیے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا
اسلام آباد میں ہونے والے فرشتہ قتل کیس کے تناظر میں کراچی میں نیوز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں کھیل اور شوبز سے وابستہ ستاروں نے گفتگو کی۔ ان شخصیات نے سکولوں میں جنسی ہراسیت سے بچاؤ کی تعلیم اور بچوں میں شعور اجاگر کرنے پر زور دیا اور اس حوالے سے ریاست کو اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے پہ تنقید کا نشانہ بنایا۔
نیوز کانفرنس میں سابق کرکٹر یونس خان، گلوکار شہزاد رائے، اداکارہ ماہرہ خان اور زیبا بختیار نے شرکت کی اور بچوں میں جنسی ہراسیت سے بچنے کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے طریقوں پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سندھ میں نصاب ترتیب دے دیا گیا ہے جو صوبے کے کافی سکولوں میں رائج بھی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے ملک کے دیگر حصوں میں بھی نافذ کیا جائے۔ شرکا کا کہنا تھا کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے اور بچوں کو تحفظ دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
کرکٹر یونس خان اور زیبا بختیار نے اس موقع پر پشتو میں بھی گفتگو کی اور پختون کمیونٹی کو مخاطب کر کے کہا کہ بچوں کے خلاف جنسی ہراسیت روکنے سے متعلق تعلیم کو حاصل کرنے میں کسی قسم کی شرمندگی محسوس نہ کریں بلکہ یہ تو بچوں کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے اور بچوں کو تحفظ دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ تصویر: اردو نیوز

اداکارہ ماہرہ خان نے کہا کہ ہمیں جنسی ہراسیت کو بھی ویسے ہی غلط فعل سمجھنا چاہیے جیسے ہم جھوٹ اور چوری کو سمجھتے ہیں اور لوگوں کو اس سے روکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے چوری کی نشاندہی پر چور کی سرزنش ہوتی ہے اور اسے سزا ملتی ہے، ایسے ہی اگر کوئی کسی بچے کو غلط طریقے سے چھوئے تو سزا اس شخص کو ملنی چاہیے نہ کہ بچے کو جھڑکا جائے۔
نیوز کانفرنس کے شرکاء نے لائف سکلز بیسڈ ایجوکیشن کو نصاب میں شامل کرنے پر زور دیا۔ شہزاد رائے جو کہ تعلیم کے حوالے سے ایک ٹرسٹ بھی چلاتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ان کے ٹرسٹ کے زیر انتظام تمام تر سکولوں میں یہ نصاب رائج ہے۔
شہزاد رائے نے میڈیا کو بتایا کہ یہ نصاب بچوں کی عمر کے لحاظ سے تشکیل دیا گیا ہے اور علماء کرام نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔

 یونس خان کا کہنا تھا کہ بچوں کو جنسی ہراسیت سے متعلق تعلیم دینے میں شرمندگی نہیں ہونی چاہیے۔ تصویر: اردو نیوز

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر صوبے میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے قیام کی اشد ضرورت ہے، ساتھ ہی ساتھ پولیس کو بھی تربیت دینے کی ضرورت ہے کہ وہ کیسے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے زیادتی کے واقعات کی تفتیش کرے۔ اس کے علاوہ جنسی ہراسیت کا شکار افراد کو قانونی تحفظ اور مدد فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
 شرکاء کا کہنا تھا کہ انہوں نے زینب قتل کیس کے بعد بھی آواز اٹھائی تھی اور اب ایک سال بعد فرشتہ قتل کیس پر بھی سراپا احتجاج ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سکولوں کے نصاب میں لائف سکلز بیسڈ ایجوکیشن کو شامل کرے۔

شیئر: