کیا مودی عمران خان کو مدعو کریں گے؟

مودی کے مدعو کرنے کی صورت میں عمران خان ان کی دعوت قبول کریں گے یا نہیں؟
انڈین انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ نریندرا مودی کی جیت کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ مودی اپنی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو مدعو کریں گے یا نہیں؟ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کیا عمران خان کو مودی کی تقریب حلف برداری میں جانا چاہیے؟
یاد رہے کہ جب سنہ 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ نریندرا مودی پہلی بار انتخابی بازی جیتے تھے تو انہوں نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو مدعو کیاتھا۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنی تقریب حلف برداری میں انڈین وزیراعظم نریندرا مودی کو مدعو نہیں کیا تھا۔
سوشل میڈیا صارفین اس شش و پنج میں مبتلا ہیں اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔

امجد زمان خان نامی ایک صارف نے اپنی رائے دیتے ہوئے لکھا ’مودی عمران خان کو حلف برداری کی تقریب میں کبھی نہیں بلائے گا۔‘

بلیو ایج نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا ’امید ہے اب مودی صاحب عمران خان صاحب کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی بھرپور دعوت دیں عمران خان کے خوابوں میں۔‘

مودی کے مدعو کرنے کی صورت میں عمران خان ان کی دعوت قبول کریں گے یا نہیں، اس حوالے سے کچھ صارفین اپنے مشورے دیتے نظر آئے تو کچھ قیاس آرائیاں کرتے۔
ٹھیک کرے گا سب کپتان کے ہیش ٹیگ سے چلنے والے ایک ٹوئیٹ میں فارس علی خان نامی ایک صارف نے لکھا ہے، ’وزیر اعظم عمران خان دعوت قبول کرنے کے لیے راضی ہیں اور اگر مودی نے اپنی تقریب حلف برداری میں بلایا تو انڈیا جائیں گے۔

دوسری جانب قاسم نامی ایک صارف نے لکھا ’برائے مہربانی آپ بھی ان کی حلف برداری میں نہ چلے جائیے گا نواز شریف کی طرح اگر گئے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو موقع مل جائے گا۔‘

ذوالقرنین نامی صارف نے لکھا ’خدا کے لیے اب ہمارا وزیراعظم مودی کی حلف برداری کی تقریب میں منہ اٹھا کر نہ چلا جائے۔‘

محمد انس نے لکھا ’خان صاحب نے دوڑتے ہوئے مودی کی تقریب حلف برداری میں پہنچ جانا ہے،مودی تھوڑا سا اشارہ کرے بس۔

عمر چیمہ نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے کہا ’اب مودی کا یار کیا کرے گا، جائے گا حلف برداری کی تقریب میں؟‘

ایک اور صارف محمد ایاز فتیانہ نے لکھا ’خان صاحب امید ہے آپ حلف برداری میں جاکر پاکستان کی توہین نہیں کریں گے اور نہ ہی کشمیری شہیدوں کی توہین کریں گے بلکہ کشمیر کی آزادی کی بات کریں گے۔‘

یہی نہیں ،کچھ صارفین نے تو رائے عامہ جاننے کے لیے پول بھی شروع کردیا ہے۔

 

شیئر: