سعودی عرب: ’حرم کی پہلی صف میں مصلے کی تجارت‘

سعودی عرب میں رمضان کے آخری عشرے میں حرم مکی کی پہلی صف میں باجماعت نماز ادا کرنا بہت سے لوگوں کی خواہش ہوتی ہے جس کی تکمیل کیلئے دنیا بھر سے آنے والے زائرین گھنٹوں انتظار کرتے رہتے ہیں۔
زائرین کی اس خواہش کو دیکھتے ہوئے بعض افراد نے پہلی صف میں جگہ کے حصول کو کمائی کا ذریعہ بناتے ہوئے مصلے ڈال کر پہلے سے ہی ’بکنگ‘ شروع کی۔ یہ افراد اپنے مصلے کی جگہ پہلی صف میں نماز ادا کرنے کے خواہش مندوں کو فروخت کرتے پائے گئے تو حرمین کے امور کی نگرانی کرنے والا ادارہ حرکت میں آیا۔ 
حرم کی پہلی صف میں جگہ حاصل کرکے فروخت کرنے کے رجحان کے خلاف ادارہ امور حرمین گذشتہ کئی برس اقدامات کر رہا ہے۔ 
ادارہ امور حرمین کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران اور خاص طور پر آخری عشرے میں مختلف ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں جو پہلی صف میں مصلے رکھ کر جگہ کی قیمت وصول کرنے والوں کی نگرانی کرتی ہیں۔
امسال محکمے کی جانب سے 26 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو 24 گھنٹے ڈیوٹی دے  کر اس امر کو یقینی بنائیں گی کہ ’مصلے کی تجارت‘ نہ کی جائے ۔
عربی روزنامہ الریاض کے مطابق شعبہ انسداد ظاہری تجاوزات کے ڈائریکٹر جنرل طارقی المالکی نے کہا ہے کہ کسی بھی صورت میں حرم شریف میں مصلے کی تجارت کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ’جو افراد اس میں ملوث ہوئے ان سے سختی سے نمٹتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کی جائے۔‘

طارق المالکی نے اس حوالے سے مزید کہا کہ حرم شریف میں اس بات کی کوئی تخصیص نہیں کہ کون کیا ہے۔ ’جو پہلے آتا ہے اور جسے جہاں جگہ ملتی ہے اسے چاہیے کہ وہ وہاں بیٹھے اور نماز ادا کرے۔‘
المالکی نے معتمرین سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنا زیادہ وقت عبادت میں گزاریں اور ان لوگوں سے اجتناب کریں جو مصلے فروخت کرتے ہیں کیونکہ یہ کسی طرح جائز نہیں۔
اس حوالے سے مختلف مکاتب فکر کے علماء بھی متفق ہیں کہ کسی صورت میں حرم شریف میں جگہ مختص نہ کی جائے اور جگہ کے عوض رقم وصول کرنا بھی جائز نہیں۔
عربی روزنامے الاقتصادیہ کے مطابق مفتی اعلی شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے بھی  کہا ہے کہ حرم شریف یا کسی بھی مسجد کی پہلی صف میں نماز کی جگہ اپنے لئے مختص کروا لینا درست نہیں۔ ’اپنے گھروں میں سونے والے اور کاروبار میں مشغول افراد پہلی صف میں شامل ہونے کیلئے اپنے لیے جگہ مختص کروا کر دوسروں کی حق تلفی کے مرتکب ہوتے ہیں۔‘

واضح رہے گزشتہ کئی برسوں سے حرمین شریفین میں بعض افراد نے یہ کاروبار بنا لیا تھا وہ اپنے مصلے حرمین کی پہلی صفوں میں ڈال کر باہر نکال جاتے اور ایسے افراد کو تلاش کرتے تھے جنہیں پہلی صف میں نماز ادا کرنا ہوتی تھی۔ یہ افراد ان لوگوں سے نقد رقم لے کر انہیں اس مصلے پر لاتے اور انہیں وہاں بٹھا دیتے تھے۔
ماہ رمضان کے آخری عشرے میں حرم میں صفوں کے حساب سے "قبضہ" کی گئی جگہوں کی قیمت 2 سو سے 8  سو ریال تک مقرر تھی جسے ادا کرکے آخر میں آنے والے بھی پہلی صف میں شامل ہو سکتے تھے۔
حرمین میں مصلوں کے حوالے سے قبضہ مافیا کا انکشاف اس وقت ہوا جب امور حرم کی انتظامیہ کے ایک رکن کو ایک غیر ملکی پر شک ہوا کہ وہ ایک معتمر سے رقم وصول کر رہا ہے۔ انتظامیہ کے رکن نے اس کا تعاقب کر کے پکڑا جب وہ رقم وصول کرنے کے بعد معتمر کو مصلے تک پہنچا کر واپس لوٹ رہا تھا۔
خیال رہے کہ امسال حرم شریف کے مطاف کی توسیع کے بعد معتمرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ادارہ امور حرمین کی جانب سے گشت کرنے والے اہلکاروں کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے جو اس امر کی خصوصی طور پر نگرانی کریں گے کہ مصلوں کی تجارت کرنے والوں کو روکا جا سکے۔

شیئر: