امارات کا شہر العین 3ہزار برس پہلے آباد تھا،ماہرین آثار قدیمہ

ابوظبی میں محکمہ ثقافت و سیاحت کے ماتحت ماہرین آثار قدیمہ نے انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا شہر العین 3ہزار برس پہلے آباد تھا۔آبادی کے ثبوت العین کے ’ھیلی2‘علاقے میں تاریخی کھدائی کے دوران ملے ہیں ۔
العین شہر ابوظبی کے مشرق میں واقع ہے ۔ یہ ریاست کا دوسرا اور امارات کا چوتھا اہم شہر مانا جاتا ہے ۔یہ ابوظبی سے 160کلومیٹر دور ہے ۔ العین کے مشرق میں الحجر کا پہاڑی سلسلہ اور جنوب میں حفیت کا کوہستانی سلسلہ پڑتا ہے ۔ یہ سطح سمندر سے 1500میٹر اونچا ہے ۔ اس کے جنوب مغرب میں دنیا بھر میں مشہور صحرا الربع الخالی اور سعودی عرب واقع ہیں ۔ شمال میں مساعید پڑتا ہے ۔ یہ قطر کی سرحدوں سے ملا ہوا ہے ۔ 
العین کی تاریخی اہمیت ہے ۔ تاریخ کا کوئی حوالہ ایسا نہیں جس میں اس کا تذکرہ نہ ملتا ہو ۔ یہاں 3ہزار قبل مسیح نصف ثانی کے دور کے آثار دریافت ہو چکے ہیں ۔

العین کے 3 ہزار برس پرانے کا پتہ دینے والے تاریخی آثار۔

العین بین الاقوامی انسانی ورثے میں شامل
یونیسکو العین کو بین الاقوامی انسانی ورثے میں شامل کئے ہوئے ہے ۔ یہ امارات کا پہلا تاریخی مقام ہے جسے 2011ء میں یونیسکو نے عالمی ورثے کا حصہ بنایا تھا۔
نئی تاریخی کھدائیوں سے  پتہ چلا ہے کہ لوہے کے دور میں ھیلی کے باشندے روزمرہ کی زندگی کس طرح گزارتے تھے۔ کھانے پینے کے طور طریقے کیا تھے ۔ کس طرح کا طرز تعمیر اپنائے ہوئے تھے ۔ کس قسم کی زرعی اجناس کی کاشت کیا کرتے تھے ۔میل ملاپ کے رسم و رواج کیا تھے ۔ 
اماراتی جریدے الخلیج کے مطابق محکمہ ثقافت و سیاحت کے سربراہ محمد خلیفہ المبارک نے بتایا ’ھیلی 2‘کے مقام پر تاریخی مطالعات العین کے تاریخی ورثے سے واقفیت کا بہت بڑا سرچشمہ ثابت ہورہے ہیں۔ ہمیں اپنے آبائو اجداد کو قریب سے سمجھنے کیلئے یہاں ہونیوالی کھدائیوں اور تاریخی مطالعات پر مزید توجہ دینا ہو گی ۔ ہم اپنے آبائو اجداد کے ورثے کی حفاظت کریں گے ۔ ’ھیلی2‘سے ملنے والے آثار موجودہ اور آئندہ کی نسلوں کیلئے انتہائی مفید ثابت ہونگے ۔
ھیلی 2پر پہلی بار کھدائی کا آغاز گزشتہ صدی کے ساتویں اور آٹھویں عشرے میں ہوا تھا۔ھیلی2العین میں واقع ہے ۔یہاں کئی مکانات عمدہ حالت میں ملے ہیں ۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں قدیم زمانے میں کوئی بستی آباد تھی ۔مکانات کی دیواریں غیر معمولی طور پر مضبوط ہیں ۔ 

2018ء کے دوران العین کے علاقہ نے ماہرین آثار قدیمہ کو اس وقت چونکا دیا جب یہاں ہر تاریخی گھر کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔یہ پتہ لگانے کی کوشش کی گئی کہ ھیلی کے مقام پر آباد قدیم دور کے لوگ یومیہ زندگی کس طرح گزارتے تھے۔ ان سوالات کے جوابات ھیلی 1کی کھدائیوں کے دوران نہیں ملے تھے۔ تازہ کھدائیوں کے دوران متعدد بھٹیاں بہت اچھی حالت میں ملی ہیں۔یہ بھٹیاں پتھروں سے بنائی گئی تھیں۔مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ العین کے پرانے باسی پتھر گرم کر کے ان پر گوشت تیار کیا کرتے تھے ۔ 
ابوظبی محکمہ ثقافت و سیاحت کے ماتحت ماہرین آثار قدیمہ نے نباتات کے ماہرین کے تعاون سے یہ بھی پتہ لگا لیا ہے کہ العین بستی کے لوگ کس قسم کے پودوں کی کاشت کیا کرتے تھے ۔ یہاں کوئلہ جات اور جلے ہوئے بیج ملے ہیں ۔ ان کے مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ یہاں کے لوگ 3ہزار برس قبل گندم اور کھجوروں کی کاشت کیا کرتے تھے ۔ یہاں سے دستی مصنوعات بھی بڑی تعداد میں ملی ہیں ۔ 
یہاں ایک عجیب و غریب عمارت پائی گئی ہے جسے عمارت نمبر15کا نام دیا گیا ہے ۔ اس کے قریب مٹی کی ایک خوبصورت مہر ملی ہے ۔ اس پر ہرن کا نقش بنا ہوا ہے ۔اس کا امکان ہے کہ یہ مہر مٹی سے بنائی جانیوالی آرائشی اشیاء پر نشان لگانے کیلئے استعمال کی جاتی ہو ۔ 
ماہرین آثار قدیمہ نے یہاں موجود ایک دیوار کے ملبے کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ قدیم دور میں یہاں کے باشندے تعمیرات میں پکی اینٹیں استعمال کیا کرتے تھے ۔ اینٹیں جوڑنے کیلئے کیا طریقہ کار استعمال کیا کرتے تھے ۔ دیوار صاف کرنے پر پتہ چلا کہ اس میں جو اینٹیں استعمال کی گئی ہیں ان پر اینٹ بنانے والوں کی انگلیوں کے نشانات موجود ہیں ۔ یہ اینٹیں 3ہزار برس پرانی ہیں ۔ بیشتر اینٹوں پر انگلیوں کے نشانات پائے گئے ہیں ۔ البتہ یہ نہیں پتہ چل سکا کہ یہ نشانات کتنے افراد کے ہیں ۔ ماہرین آثار قدیمہ اینٹوں سے انگلیوں کے نشانات کا ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ 
اینٹوں پر انگلیوں کے نشانات سے دو باتیں ظاہر ہوئی ہیں ایک تو یہ کہ یہ نشانات آرائش کیلئے نہیں تھے ۔ دوسری بات یہ پتہ چلی ہے کہ اینٹیں بنانے والوں نے جان بوجھ کر خلا چھوڑا ہے ۔ اس کی بدولت دیواروں کا ڈھانچہ زیادہ ٹھوس اور مضبوط ہو جاتا تھا ۔ فن تعمیر کا یہ طرز جسے لوہے کے دور میں استعمال کیا گیا عصرِ حاضر کے فن تعمیر سے بیحد مشابہت رکھتا ہے ۔ یہ 3ہزار برس پہلے کے لوگوں کے یہاں ترقی یافتہ  فن تعمیر کے تصور کا پتہ دے رہا ہے ۔ 
سلیمانؑ اور ان کے جنات 
العین میں قدیم چشمے ہر کس و ناکس کی نظر میں آتے ہیں ۔ قدیم زمانے میں زراعت کے کام آتے تھے ۔ ان کی بابت العین کے باشندوں میں طرح طرح کی کہانیاں اور افسانے پھیلے ہوئے ہیں ۔ العین کے معمر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ چشمے قدیم زمانے میں سلیمان ؑ اور ان کے ماتحت جنات نے بنائے تھے ۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ ان چشموں میں جودیوہیکل پتھر استعمال کئے گئے ہیں انہیں اٹھانا طاقتور ترین انسانوں کے بھی بس سے باہر تھا ۔ 

العین کی ایک ایسی عمارت جس کی بابت دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ سلیمانؑ نے جنات کی مدد سے بنوائی تھی

العین کے قدیم بازار
گزشتہ صدی کے چوتھے عشرے سے پہلے العین میں کوئی بازار نہیں تھا۔یہاں کے باشندے البریمی اور حماسہ بازاروں سے خریدوفروخت کیا کرتے تھے ۔ کہتے ہیں کہ یہاں سب سے پہلے محمد بن مراد نے بازار قائم کیا تھا وہ شارجہ سے آئے تھے ۔ انہوں نے 8دکانیں کھولی تھیں ۔ علاوہ ازیں’’ سوق الکرکم‘‘ کے نام سے ایک چھوٹا سا بازار بھی شروع کیا تھا۔
العین میں قلعے
العین میں 40سے زیادہ محل ، قلعے اور تاریخی مقامات پائے جاتے ہیں ۔ یہاں 1971ء میں العین عجائب گھر بھی قائم کیا گیا ۔ یہ نوادر کا بہت بڑا خزانہ ہے ۔ 
 

شیئر: