ڈیجیٹل کلینک:گھر بیٹھے علاج کروانے کی سہولت

عذرا بی بی علاج کے لیے اپنے گاؤں کے پہاڑی راستے کا کئی میل سفر طے کرتی ہیں تو ہسپتال میں سینکڑوں مریضوں کو ڈاکٹرز کا منتظر پاتی ہیں۔
30 برس کی عذرا بی بی کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے قصبے بفہ سے ہے، جہاں ملک کے دیگر دور افتادہ علاقوں کی طرح نہ صرف میڈیکل آفیسر بلکہ لیڈی ڈاکٹرز کی بھی کمی ہے۔
پاکستان کے دور دراز علاقوں میں لیڈی ڈاکٹرز کی شدید ضرورت کے باوجود حکومت ان علاقوں کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا نہیں کر سکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ایسی خواتین ڈاکٹروں کی کمی نہیں ہے جو سرکاری خرچ پر یا خود میڈیکل کالجز سے ڈاکٹر تو بن جاتی ہیں، لیکن شادی کے بعد پریکٹس نہیں کرتیں، یہی وجہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اکثر لیڈی ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔
انہی میں سے ایک ڈاکٹر انعم بھی ہیں، جنہوں نے شادی کے بعد اپنے بچوں کی پرورش کے لیے ڈاکٹری کے پیشے کو خیر باد کہہ دیا تھا لیکن اب انہوں نے اپنے پیشے سے منسلک رہنے کے لیے ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔

لیڈی ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پاکستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ کلینکس کھل رہے ہیں، جو دور دراز کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والی خواتین کو آن لائن علاج معالجے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ 
ضلع مانسہرہ میں شاہراہ قراقرم سے تین کلومیٹر شمال میں ایک قصبے بفہ میں ایک ایسا ہی ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک ’صحت کہانی‘ ہے۔ کہیں قریب لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کے باعث علاقے کی خواتین علاج کے لیے اس کلینک میں آتی ہیں، جہاں لیڈی ڈاکٹر کی فیس صرف 100 روپے ہے۔
اس کلینک میں موجود نرس گل نسرین تسلی کے ساتھ خواتین کا وزن کرتی ہیں، بلڈ پریشر اور شوگر چیک کرتی ہیں اور ضرورت پڑے تو الٹراساؤنڈ بھی کرتی ہیں اور ویڈیو کال کے ذریعے آن لائن موجود لیڈی ڈاکٹر کو مریض کی حالت کے بارے میں بتاتی ہیں تو وہ دوا تجویز کرتی ہیں۔

ڈاکٹر انعم بھی اس ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک کا حصہ ہیں اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے مریضوں کا علاج کرتی ہیں۔ اس ویڈیو کانفرنس میں وہ عذرہ بی بی کا علاج کر رہی ہیں جن کا دو ماہ قبل بچہ پیدا ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کے جسم اور گھٹنوں میں تکلیف رہتی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر ’اردو نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر انعم کا کہنا تھا ’میرا ان تمام گھر بیٹھی خواتین ڈاکٹرز کے لیے پیغام ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، کچھ نہ کرنے سے بہتر ہے وہ گھر بیٹھے اپنی فیلڈ سے منسلک رہیں اورمیری طرح وہ اپنے بچوں کا خیال بھی رکھ سکتی ہیں، ورنہ وہ آہستہ آہستہ اپنے پیشے سے بالکل لاتعلق ہوجائیں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارمز پر کام کرکے لیڈی ڈاکٹرز نہ صرف روزگار حاصل کر سکتی ہیں بلکہ معاشرے کی بہتری میں اپنا حصہ بھی ڈال سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لیڈی ڈاکٹرز گھر بیٹھ کراپنی ڈگری کو ضائع کرتی ہیں تو وہ ایک طرح سے کسی دوسرے کا حق مار رہی ہیں۔
عذرہ بی بی کی کہانی دراصل پاکستان کے دورافتادہ دیہات میں علاج و معالجے کی سہولت سے محروم رہنے والی خواتین کی کہانی ہے، لیکن اپنے علاقے میں اس کلینک کے کھلنے سے وہ کافی مطمن نظر آتی ہیں۔
’اردو نیوز‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’بچے کی پیدائش کے بعد میرے جسم اور ٹانگوں میں درد رہتا ہے، گورنمنٹ ہسپتال بہت دور ہے، اکیلی جا نہیں سکتی، گھر کے کسی مرد کو چھٹی کروانی پڑتی ہے، پھر ٹیکسی کروانی پڑتی ہے جس کے لیے کبھی پیسے ہوتے ہیں اور کبھی نہیں، سول ہسپتال میں ایک ہی لیڈی ڈاکٹر ہے اور مریضوں کی لمبی لائن ہوتی ہے، ڈاکٹر نہ بلڈ پریشر چیک کرتی ہے، نہ وزن کرتی ہے بس جلدی سے دوائی لکھ کر دے دیتی ہے۔‘

عذرہ نے کہا کہ ان کے پاس دوسرا آپشن یہ ہے کہ کسی پرائیویٹ لیڈی ڈاکٹر سے علاج کروایا جائے جو مہنگا ہونے کی وجہ سے ان کی پہنچ سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کلینک کی لیڈی ڈاکٹر بہت اچھی ہیں، میں اس علاج سے مطمئن ہوں۔‘
اس کلینک پر آئی ایک اور خاتون رشیدہ بیگم کا کہنا تھا ’میرے معدے میں تکلیف رہتی تھی، میں نے بہت علاج کروایا، لیکن کوئی فرق نہیں پڑا، پھر میں نے اس کلینک کا بورڈ دیکھا اور ان کے پاس آئی، اب میں پہلے سے کافی بہتر ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں خواتین کو اکیلے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے اور مرد ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے جانے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتیں۔ لہٰذا انہیں اس کلینک سے کافی سہولت ملی ہے۔
خواتین پاکستان کی کل آبادی کا نصف یعنی 10 کروڑ سے زیادہ ہیں اور ان کی زیادہ تر تعداد دیہات میں رہتی ہے جہاں وہ صحت کے بے شمار مسائل میں جکڑی ہوئی ہیں۔ لیڈی ڈاکٹرز کی کمی کا خمیازہ دیہات میں رہنے والی ان بد قسمت خواتین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان کے مختلف صوبوں میں ’صحت کہانی‘ کے 25 کلینک کام کر رہے ہیں۔ اس سے منسلک لیڈی ڈاکٹروں کی تعداد 1500 سو کے قریب ہے اور نرسنگ سٹاف 100 سے زیادہ ہے۔

ان کلینکس میں پرائمری اور سیکنڈری سطح پر علاج کیا جاتا ہے اور اگر ابتدائی ٹیسٹوں کے بعد معلوم ہو کہ کلینک میں بیماری کا علاج ممکن نہیں تو ہسپتال میں داخل ہونے کی تجویز دی جاتی ہے۔ 
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی نے ’اُردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ’ٹیلی میڈیکیشن کا رجحان پوری دنیا میں رائج ہے اور پاکستان میں بھی اس سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام مرض کی ابتدائی سطح پر علاج کرانے کی حد تو ٹھیک ہے لیکن ڈاکٹر کے پاس خود جا کرچیک اپ کروانے کا نعم البدل نہیں۔‘

ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک ’صحت کہانی‘ کی چیف ایگزیکیٹو آفیسر ڈاکٹر سارہ سعید نے ’اُردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ میں خواتین کی تعداد 70 فیصد ہے، جن میں سے صرف 23 فیصد ہی میڈیکل پریکٹس کے لیے اپنے آپ کو رجسٹر کرواتی ہیں اور اس طرح پاکستان میں 85 ہزار لیڈی ڈاکٹرز ہیں جو شادی کے بعد یا سسرال کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کے باعث اپنا پیشہ جاری نہیں رکھتیں۔
ڈاکٹر سارہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں صحت کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے یا تو خود پسماندہ علاقوں میں ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک قائم کرے یا نجی طور پر چلنے والے کلینکس کے ساتھ شراکت داری کرے تاکہ لوگوں کو درپیش صحت کے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
آن لائن کلینکس کی بدولت جہاں ڈاکٹر انعم اور ان جیسی کئی لیڈی ڈاکٹرز اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بآسانی نبھا سکتی ہیں وہیں دیہی علاقے کی خواتین کے لیے گھر کے قریب ہی علاج کروانا بھی ممکن ہو گیا ہے۔

شیئر: