ٹرمپ،ایرانی صدر کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر تیار

ایران کےخلاف عسکری طاقت کا استعمال بھی خارج از امکان نہیں ۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ براہ راست بات چیت پر رضامندی ظاہر کی ہے تاہم کہا ہے کہ
 ایران کےخلاف عسکری طاقت کا استعمال خارج از امکان نہیں ۔
برطانوی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ " ایران کے خلاف عسکری پیش رفت کے امکان کو مسترد نہیں کیاجاسکتا یہ امکان ہر وقت موجود رہے گا "۔ ایرانی ایٹمی میزائلوں کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ " اس موضوع پر ایران سے مذاکرات بہتر حل ہوسکتے ہیں "۔
امریکی صدر نے کہا کہ جب اقتدارسنبھالا تو ایران ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر کام کررہا تھا اور شاید اب بھی ایسا ہی ہے۔
ایرانی صدر حسن روحانی سے مذاکرات کے امکان کے حوا لے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ " جی ہاں بلکل" ۔میں مذاکرات کو ترجیح دوں گا۔
 دوسری طرف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پھر کہا ہے کہ ا یران میزائل پروگرام سے دستبردار نہیں ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی پیش کش سے تہران کو دھوکا نہیں دے سکتے۔ واشنگٹن ایران کو اس کی میزائل صلاحیتوں سے محروم نہیں کرسکے گا۔ 
سکتا ہے۔
واضح رہے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے بحری بیڑا اور مزید فوجی یونٹ مشرقی وسطی میں بھیجے تھے تاکہ خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کریں ۔ امریکی بحری بیڑا اورفوجی یونٹ کی تعیناتی ان ان انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد کی گئی جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے مشرق وسطی میں بڑے پیمانے پر حملے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جن میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا قوی امکان موجود ہے ۔ 

شیئر: