ایران کی جنگ سے انڈیا کی بوتل بند پانی کی صنعت کو دھچکہ، بوتلیں اور ڈھکن مہنگے
جمعرات 12 مارچ 2026 16:02
یورومانیٹر کے مطابق گزشتہ سال انڈیا میں پریمیم پانی کا حصہ بوتل بند پانی کی مارکیٹ کا 8 فیصد تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی جنگ نے شدید گرمیوں کے موسم سے پہلے انڈیا کی 5 ارب ڈالر کی پیک شدہ پانی کی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بوتل بند پانی کی مارکیٹوں میں سے ایک میں کچھ مینوفیکچررز نے ڈسٹری بیوٹرز کے لیے قیمتیں بڑھانا شروع کر دی ہیں، کیونکہ جنگ سے منسلک سپلائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے پلاسٹک کی بوتلوں، ڈھکنوں، لیبلز اور گتے کے ڈبوں سمیت مختلف اشیاء کی لاگت بڑھ رہی ہے۔
اگرچہ ابھی تک خوردہ قیمتوں پر زیادہ اثر نہیں پڑا اور بڑی کمپنیاں اضافی اخراجات خود برداشت کر رہی ہیں، لیکن تقریباً 2,000 چھوٹی بوتل بند پانی بنانے والی کمپنیوں نے اپنے ری سیلرز کے لیے قیمتوں میں فی بوتل تقریباً 1 روپے اضافہ کر دیا ہے، جو کہ تقریباً 5 فیصد اضافہ ہے۔ آل انڈیا پیکجڈ ڈرنکنگ واٹر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق آنے والے دنوں میں اس میں مزید 10 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
صارفین عام طور پر ایک لیٹر بوتل کے لیے 20 روپے سے کم، یعنی تقریباً 20 امریکی سینٹ ادا کرتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل اپوروا دوشی کے مطابق صورتحال میں بے چینی ہے اور اگلے 4 سے 5 دنوں میں اس کا اثر صارفین کی قیمتوں پر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پولیمر کی لاگت بڑھا دی ہے، جو خام تیل سے بنتا ہے اور پلاسٹک کی بوتلیں بنانے کے لیے بنیادی مواد ہے۔
پلاسٹک بوتلوں کے مواد کی قیمت 50 فیصد بڑھ کر 170 روپے فی کلوگرام ہو گئی ہے، جبکہ ڈھکن کی قیمت دوگنی سے زیادہ ہو کر 0.45 روپے فی ڈھکن تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح گتے کے ڈبے، لیبلز اور چپکنے والی ٹیپ بھی پہلے سے کہیں زیادہ مہنگی ہو گئی ہیں۔
1.4 ارب آبادی والے اس ملک میں صاف پانی ایک بڑی سہولت سمجھا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق تقریباً 70 فیصد زیر زمین پانی آلودہ ہے، جس کی وجہ سے لوگ بوتل بند پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ اس 5 ارب ڈالر کی مارکیٹ میں بسلیری، کوکا کولا کا کنلی، پیپسی کا ایکوافینا، ارب پتی مکیش امبانی کی ریلائنس اور ٹاٹا جیسی کمپنیاں حصہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں نے روئٹرز کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
پریمیم پانی بھی متاثر
بوتل بند پانی کی وسیع مارکیٹ کے اندر قدرتی منرل واٹر انڈیا میں تقریباً 400 ملین ڈالر کا کاروبار ہے اور امیر طبقے میں تیزی سے مقبول ہونے والی ایک نئی ویلنیس پروڈکٹ بن چکا ہے۔
یورومانیٹر کے مطابق گزشتہ سال انڈیا میں پریمیم پانی کا حصہ بوتل بند پانی کی مارکیٹ کا 8 فیصد تھا، جبکہ 2021 میں یہ صرف 1 فیصد تھا۔
آوا نامی کمپنی، جو اراؤلی پہاڑوں کے دامن سے حاصل کردہ منرل واٹر فروخت کرتی ہے، نے اپنے ری سیلرز کے لیے پانی کی بوتلوں کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ کمپنی کے سی ای او شیروئے مہتا نے روئٹرز کو بتایا کہ "زیادہ تر مینوفیکچررز 40 سے 50 فیصد اضافی لاگت خود برداشت کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے گاہک نہ کھوئیں۔ گرمیوں کے موسم سے پہلے یہ مشروبات کی صنعت کے لیے ایک مشکل صورتحال ہے۔"
تاہم عام مارکیٹ میں ان کمپنیوں کا غلبہ ہے جو ایک لیٹر کی بوتلوں میں ؔپینے کا پانی تیار کر کے فروخت کرتی ہیں۔ انڈیا کی کمپنی انرجی بیوریجز کے برانڈ کلیئر پریمیم واٹر نے اپنے ڈسٹری بیوٹرز کو ایک نوٹس میں بتایا کہ پیکجنگ اور پیداوار میں استعمال ہونے والے اہم خام مال کی قیمتوں میں غیر معمولی اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
نوٹس میں کہا گیاہے کہ "اب ہمارے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ ہم بڑھتی ہوئی لاگت برداشت کرتے ہوئے مصنوعات کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھ سکیں۔"
