Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سابق وزیراعلیٰ کشمیر فاروق عبداللہ پر فائرنگ، ’20 سال سے موقع کی تلاش میں تھا‘

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے (فوٹو: پی ٹی آئی)
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔
پولیس نے فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ بیس برس سے موقع کی تلاش میں تھا۔
ٹریبیون انڈیا کے مطابق کمل سنگھ جموال نامی تریسٹھ سالہ شخص نے اس وقت فاروق عبداللہ پر فائرنگ کر کے قتل کرنے کی کوشش کی تھی جب ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے۔
جمعرات کو پولیس حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کمل سنگھ جموال کے  بارے میں تفصیلی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
پولیس کمل سنگھ کے پس منظر اور دوسری متعلقہ چیزوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اقدام کے پیچھے محرک کا پتہ چلایا جا سکے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ اس واقعے میں بال بال بچے تھے، ان پر اس وقت پیچھے سے فائرنگ کی گئی تھی جب وہ بدھ کی رات کو جموں کے مضافاتی علاقے کیلاش میں منعقدہ شادی کی تقریب سے باہر نکل رہے تھے۔
فاروق عبداللہ کے گارڈز نے قتل کی اس کوشش کو ناکام بنایا، واقعے میں ایک لائسنس شدہ پستول استعمال کیا گیا جو پولیس نے برآمد کر لیا ہے۔
نائب وزیراعلیٰ سریندر چوہدری اور مشیر برائے وزیراعلیٰ ناصر اسلم وانی بھی اس تقریب میں موجود تھے جب فائرنگ کا واقعہ رونما ہوا۔
کمل سنگھ جموال جموں میں پرانی منڈی علاقے کا رہائشی ہے۔ اس نے گرفتاری کے بعد پولیس کو بتایا کہ وہ بیس برس سے اس موقعے کی تلاش میں تھا کہ کسی طور وہ فاروق عبداللہ کو نشانہ بنا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص کی حالیہ سرگرمیوں اور حملے سے قبل کی نقل و حرکت کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔
سینیئر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت کمل سنگھ سے پوچھ گچھ جاری ہے اور اس نے بتایا ہے کہ اس کی آمدنی کا ذریعہ دکانوں کا کرایہ ہے۔
 حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ تقریب کے وقت ہونے والے سکیورٹی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اس امر کا تعین ہو سکے کہ ایک مسلح شخص اندر آنے میں کیسے کامیاب ہوا۔
علاوہ ازیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما جہانزیب سیروال نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات قابل مذمت ہیں اور ان کے لیے مہذب و جمہوری معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد اب حکام کو ہر لحاظ سے شفاف اور مکمل تحقیقات کرنی چاہییں تاکہ حملے کے پیچھے کے محرکات بھی سامنے آ سکیں۔

شیئر: