جوہری معاہدہ: یورپی ممالک ہم پر تنقید کی پوزیشن میں نہیں، ایران

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف ۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے یورپی ممالک اس پوزیشن میں نہیں کہ ایران پر تنقید کر سکیں۔
ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پیر کو جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس تہران کا دورہ کریں گے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ’یقینی طور پر یورپی ممالک اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ایران پر تنقید کر سکیں اور ان معاملات پر بھی جس کا معاہدے سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘
جواد ظریف نے مزید کہا کہ یورپی اور مغربی پالیسیوں کی وجہ سے خطے کو نقصان پہنچا ہے۔


یورپی ممالک ایران کے ساتھ معاشی تعلقات کو معمول پر لائیں، جواد ظریف (فوٹو:اے ایف پی)

جواد ظریف کے مطابق ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے یورپی ممالک کی یہ ذمہ داری ہیں کہ ایران کے ساتھ معاشی تعلقات کو واپس معمول پر لائیں۔‘
جوہری پروگرام روکنے کے لیے ایران نے چین، روس، جرمنی، برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کیا تھا جس کے بدلے میں ایران پر عائد کی گئی پابندیوں کو بتدریج ختم کیا جانا تھا۔
گذشتہ برس امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے خود کو علیحدہ کر کے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کیں۔


ایران کے صدر حسن روحانی (فوٹو:اے ایف پی)

 مئی میں ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ تہران جوہری معاہدے کے کچھ حصوں پر مزید عملدرآمد نہیں کرے گا اور ریلیف نہ دینے پر متعلقہ پارٹیوں کو بھی خبردار کیا کہ ایران مزید آگے جائے گا۔
جمعے کو ایران نے فرانس کی یہ تجویز مسترد کر دی تھی کہ اس کے جوہری پروگرام پر نئے سرے سے بات چیت ہو۔
ایران نے از سر نو جوہری بات چیت کی تجویز پر خبردار کیا کہ موجودہ معاہدے کو پھیلانا اس کے خاتمے پر منتج ہو سکتا ہے۔

شیئر: