فریال تالپور 9 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور کو نو روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے۔
قومی احتساب بیورو نے سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کو جمعہ کے روز جعلی اکاونٹس کیس میں گرفتار کیا تھا اور نیب راولپنڈی کے ترجمان محمد بلال خان کے مطابق اسلام آباد میں واقع ان کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ آصف علی زرداری پہلے ہی جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں نیب کی حراست میں ہیں۔
نیب ترجمان کے مطابق نیب نے فریال تالپور کے طبی معائنے کے لیے  ڈاکٹرز کی ٹیم بھی بلا لی ہے۔
اس سے قبل جمعہ کو ہی چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نیب قوانین کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایف ایٹ میں واقع ان کے گھر کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ 
دس جون کو  اسلام آباد ہائی کورٹ نے جعلی بنک اکاونٹس کیس میں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی قبل از گرفتاری ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

نیب کی پانچ رکنی ٹیم فریال تالپور کی سب جیل قرار دی گئی رہائش گاہ پر موجود ہے:تصویر اے ایف پی

سابق صدر کی گرفتاری کے خلاف پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے لاہور، پشاور اور کراچی سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔  
پیپلز پارٹی کا ردعمل
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا منشوردو نہیں ایک پاکستان تھا، لیکن ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں۔
جمعے کو اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹوکا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی گرفتاری بجٹ کے موقع پر کر کے حکومت نے اپنی معاشی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سیاسی انتقام کا سلسلہ جاری ہے۔ ان گرفتاریوں کی وجہ سے یہ حکومت اپنی معاشی پالیسیاں چھپانا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت میں سیاسی انتقام نہیں ہے، ہم گھر کی عورتوں کے پیچھے نہیں جاتے۔ خواتین پر کیسز بنانے والے بزدل لوگ ہیں۔
اسپیکر کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت دھاندلی کے ذریعے بجٹ پاس کرائے گی تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔
مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز نے فریال تالپور کی گرفتاری پر ٹویٹ میں لکھا ہے ’سیاسی مخالفوں کی بہنیں بیٹیاں جیلوں حوالاتوں اور جھوٹے و انتقامی مقدمات کی نذر۔ صرف ایک مقدس و معصوم بہن علیمہ خان ہے جو اعتراف جرم کر کےبھی بنا کسی ذریعہ معاش کے اربوں کے اثاثے ثابت ہونے پر جرمانہ بھر کر قانون کو کٹہرے میں کھڑا کر کے، اسکا تمسخر اڑا کر کے چلتی بنی! کیا بات ہے!

    

کیس کا پس منظر
خیال رہے کہ جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپوراوران کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی تھیں۔
پاکستانی بینکوں میں موجود  بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔
2018 کو سپریم کورٹ نے آصف زرداری اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔
اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
فریال تالپور کون ہیں؟
فریال تالپور 26 اپریل 1958 کو پیدا ہوئیں. انھوں نے پہلا الیکشن 1997 میں نوابشاہ سے لڑا جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں. بعد ازاں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد فریال تالپور نے لاڑکانہ سے ضمنی الیکشن میں حصہ لیا اور جیت کر پہلی بار 2008 میں قومی اسمبلی کی ممبر بنیں.
فریال تالپور کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے. اس کیس کا آغاز 2015 میں ہوا جب ایف آئی اے نے ایسے اکاؤنٹس کی تحقیقات شروع کیں جن سے کئی ارب روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئیں تھیں. یہ کیس کچھ عرصے سست روی کا شکار رہا اور سابق چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار کے سو موٹو نوٹس کے بعد سال 2018 جولائی میں آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں حسین لوائی، طحہ رضا اور دیگر کو گرفتار کرکے میگا کرپشن سکینڈل کا پہلا کیس رجسٹر کیا گیا.

 

 

شیئر: