سعودی عرب اور پاکستان سمیت سات ممالک کی مغربی کنارے کے الحاق کے لیے اسرائیلی اقدامات کی مذمت
سعودی عرب اور پاکستان سمیت سات ممالک کی مغربی کنارے کے الحاق کے لیے اسرائیلی اقدامات کی مذمت
پیر 9 فروری 2026 17:58
بیان میں کہا گیا کہ ’اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب اور پاکستان سمیت سات عرب و مسلمان ممالک نے پیر کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے نئے قانونی اور انتظامی اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلے فلسطینی علاقوں پر غیرقانونی خودمختاری مسلط کرنے اور الحاق کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق مغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جنہیں فلسطینی ایک مستقبل کی آزاد ریاست کے لیے اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس علاقے کا بڑا حصہ اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے، جبکہ بعض علاقوں میں مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کو محدود اختیار حاصل ہے۔
اتوار کو اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے ایسے اقدامات کی منظوری دی جن کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے لیے زمین خریدنا آسان بنایا جائے گا، جبکہ فلسطینیوں پر اسرائیلی حکام کے نفاذی اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق ان اقدامات میں دہائیوں پرانے ان ضوابط کا خاتمہ بھی شامل ہے جو یہودی شہریوں کو مغربی کنارے میں زمین خریدنے سے روکتے تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی حکام کو بعض مذہبی مقامات کے انتظامی اختیارات دینے اور فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں ماحولیاتی خطرات، آبی جرائم اور آثارِ قدیمہ کو نقصان پہنچانے جیسے معاملات میں نگرانی اور نفاذ بڑھانے کی شقیں بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد سے جاری مشترکہ بیان میں پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں اور وہ بستیوں کے قیام کو مضبوط بنانے اور زمینی حقائق بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے ان غیرقانونی فیصلوں کی شدید مذمت کی جو غی قانونی خودمختاری مسلط کرنے، آبادکاری کو فروغ دینے اور مغربی کنارے میں نیا قانونی و انتظامی نظام نافذ کرنے کے مترادف ہیں، جو فلسطینی عوام کی بے دخلی اور غیر قانونی الحاق کو تیز کر رہے ہیں۔‘
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ ’مغربی کنارے میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیاں اور غیرقانونی اقدامات پورے خطے میں تشدد اور عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔‘
بیان کے مطابق دو ریاستی حل ہی خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کا واحد راستہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ان کے مطابق ’یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، دو ریاستی حل کو نقصان پہنچاتے ہیں اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے کے فلسطینی حق کو مجروح کرتے ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور قانونی طور پر کالعدم ہیں۔ وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیل کو مغربی کنارے میں خطرناک کشیدگی روکنے پر مجبور کرے۔
آخر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق دو ریاستی حل ہی خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کا واحد راستہ ہے۔