سٹارک کی چار وکٹیں، سری لنکا کو 87 رنز سے شکست

ورلڈ کپ کے 20ویں میچ میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو 87 رنزسے ہرا دیا ، اوول کے میدان میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

آسٹریلیا نے سری لنکا کو جیت کے لئے 335 رنز کا  ٹارگٹ دیا جواب میں سری لنکا کی ٹیم کینگروز کی بولنگ کا سامنا نہ کر سکی اور پوری ٹیم 247 رنز پرڈھیر ہو گئی ۔

آسٹریلیا کی جانب سےسٹارک نے چار،رچرڈسن تین، کمنز اور برینڈورف نے ایک ایک وکٹ حاصل کی ۔

سری لنکن بیٹنگ

سری لنکا کی جانب سے جارحانہ اننگ کا آغاز کیا گیا  دونوں اوپنرز نے نصف سینچری مکمل کی،کوسل پریرا 52 رنز بنا کر سٹارک کی گیند پربولڈ ہوئے ۔دوسرے نمبر پر آنے والے تھیریمانے 16 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، کپتان کارونا رتنے  نے بہترین اننگز کھیلی مگر سینچری بنانے میں ناکام رہے اور 97 رنز پر رچرڈسن کی گیند پر میکسویل کو کیچ پکڑا دیا اس کے بعد کوئی کھلاڑی بھی جم کر کھیل نہ پایا، میتھیو صرف نو رنز بنا پائے،سری وردھانا کو بھی تین رنز پر سٹارک نے بولڈ کر دیا۔پریرا سات رنزپر سٹارک کا شکار ہوئے،مینڈس نے ٹیم کے مجموعی سکور میں 30 رنز کا اضافہ کیا اور 39ویں اوور میں سٹارک کی گیند پر کیری کو کیچ دیا۔اڈانا بھی زیادہ دیر کریز پر نہ رہے اور آٹھ رنز پرکیچ آؤٹ ہوئے،ملنگا صرف ایک رنز بنا پائے۔

 

آسٹریلیا کی بیٹنگ

آسٹریلیا نے بیٹنگ کا آغاز محتاط طریقے سے کیا اور بغیر کسی نقصان کے 17ویں اوور تک 80 رنز بنائے  آسٹریلیا کی جانب سے سب سے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی وارنز تھے جو 26 رنز بنا کر ڈو سلوا کی بہترین گیند پر بولڈ ہوئے، دوسرے نمبر پر آنے والے عثمان خواجہ بھی دس رنز پر ڈی سلوا کی گیند پر اڈانا کو کیچ دے بیٹھے۔اس کے بعد سمتھ اور فنچ نے عمدہ بیٹنگ کی فنچ 153 رنز بنا کر اڈانا کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔سمتھ نے بھی بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کے مجموعی سکور میں 73 رنز کا اضافہ کیا۔مارش نے  تین رنز ہی بنائے تھےکہ سری وردھانا کو اڈانا کی گیند پر کیچ دے بیٹھے۔ کیری چار رنز پر جبکہ کمنز بغیر کسی رنز کے رن آؤٹ ہوئے۔

سری لنکا کی جانب سے ڈی سلوا اور اڈانا دو دو،  جبکہ ملنگا نے ایک وکٹ حاصل کی۔

آسٹریلیا نے اب تک کے اپنے چار میچز میں سے تین میچز جیتے ہیں اور ایک ہارا ہے،  جبکہ سری لنکا کے اب تک کے چار میچز میں سے دو میں بارش ہوئی ایک میچ جیتا اور ایک ہارا ہے۔

 آج شام کو ورلڈ کپ کے 21ویں میچ میں افغانستان اور جنوبی افریقہ کارڈف میں ٹکرائیں گے۔

آسٹریلیا بمقابلہ سری لنکا

اب تک کھیلے گئے ورلڈ کپ کے 11 ایڈیشنز میں سری لنکا اور آسٹریلیا کی ٹیمیں 10 مرتبہ آمنے سامنے آئی ہیں۔ میگا ایونٹ میں سب سے زیادہ ٹائٹل جیتنے والی ٹیم کو سری لنکا پر بھی برتری حاصل ہے۔

ورلڈ کپ میں سات مرتبہ آسٹریلیا نے اور دو مرتبہ سری لنکا نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ایک بار میچ بغیر نتیجہ کے ختم ہوا۔

 

1975 کے پہلے ہی ایڈیشن میں دونوں ٹیمیں کا مقابلہ ہوا جس میں آسٹریلیا نے 52 رنز سے میدان مارا۔ دوسری مرتبہ 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی آسٹریلیا نے سری لنکا کو سات وکٹوں سے شکست دی۔ 1996 کا ورلڈ کپ سری لنکا نے جیتا۔ اس ورلڈ کپ میں دو مرتبہ دونوں ٹیموں کا میچ ہوا، پہلے میچ میں سری لنکا کو واک اوور جیت ملی جبکہ دوسرے میچ میں آسٹریلیا کو اس ورلڈ کپ کی چمپئن ٹیم یعنی سری لنکا نے سات وکٹوں سے شکست دی۔

پانچویں مرتبہ 2003 کے ورلڈ کپ میچز میں آسٹریلیا نے 96 رنز سے سری لنکا کو شکست دی اسی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا نے ایک بار پھر 48 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

ساتویں مرتبہ 2007 کے پہلے میچ میں آسٹریلیا نے پھر سے سات وکٹوں سے فتح پائی اسی ورلڈ کپ کے دوسرے میچ میں بھی آسٹریلیا نے 53 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ یہ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی سری لنکا کے خلاف آٹھویں جیت تھی۔

2011 کے ورلڈ کپ میں نویں بار دونوں ٹیمیں میدان میں تو اتریں مگر میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا۔ 2015 کے ورلڈ کپ میں دسویں مرتبہ بھی آسٹریلیا نے کامیابی کی روایت برقرار رکھی اور اس بار سری لنکا کو 64 رنز سے شکست ہوئی۔

ورلڈ کپ رینکنگ میں آسٹریلیا پانچویں جبکہ سری لنکا نویں نمبر پر موجود ہے اس ورلڈ کپ میں سری لنکا کی ٹیم کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے۔

آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کو ہرانے کے لیے سری لنکا کو سخت اور بہترین پلان کے ساتھ میدان میں اترنا ہو گا۔

افغانستان بمقابلہ جنوبی افریقہ

ورلڈ کپ کے دوسرے میچ میں افغانستان اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں ٹکرائیں گی۔ ورلڈ کپ کے اب تک کے ایڈیشنز میں افغانستان اور جنوبی افریقہ مدمقابل نہیں آئے۔ آئی سی سی رینکنگ میں تو جنوبی افریقہ تیسرے نمبر پر موجود ہے تاہم رواں ورلڈ کپ میں اس کی کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی۔ رینکنگ میں افغانستان کا نمبر دسواں ہے۔

ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کی طرح افغانستان کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے اور دونوں ٹیمیں ہی اب تک کوئی میچ جیت نہیں سکیں۔ آج کے میچ میں کوئی ایک ٹیم جیت تو جائے گی مگر ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہو گی ۔

 

 

شیئر: