Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے انڈیا سے میچ کے ’بائیکاٹ کی وجہ‘ بننے والے مستفیض الرحمان لاہور قلندرز کا حصہ بن گئے

مستفیض الرحمان کو چھ کروڑ 44 لاکھ پاکستانی روپے میں لاہور قلندرز کا حصہ بنایا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز نے پاکستان سپر لیگ 2026 کے لیے بنگلہ دیش کے مایہ ناز فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ڈائریکٹ سائن کر لیا ہے۔
لاہور قلندرز کے مطابق مستفیض الرحمان کو چھ کروڑ 44 لاکھ پاکستانی روپے (قریباً 2 لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر) میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
یہ مستفیض الرحمان کا لاہور قلندرز کے ساتھ تیسرا دور ہو گا۔ وہ پہلی مرتبہ 2016 کے سیزن میں لاہور قلندرز کا حصہ بنے تھے تاہم کندھے کی انجری کے باعث میچز نہیں کھیل سکے تھے۔
بعد ازاں سنہ2018 میں انہوں نے لاہور قلندرز کی نمائندگی کرتے ہوئے پانچ میچز کھیلے اور 6.43 کی شاندار اکانومی کے ساتھ چار وکٹیں حاصل کیں۔
لاہور قلندرز کے مالک سمین رانا نے ای ایس پی این کرِک انفو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ونس اے قلندر از آلویز قلندر (ایک بار قلندر، ہمیشہ قلندر)، مستفیض الرحمان صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ہمارے خاندان کا حصہ ہیں، جو کبھی ہم سے جدا نہیں ہوئے۔ ہم انہیں دوبارہ ڈریسنگ روم میں خوش آمدید کہتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کا ٹیلنٹ، تجربہ اور کمٹمنٹ ہمارے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہوگا اور ہم پی ایس ایل 11 میں اپنے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل لاہور قلندرز نے اپنے کپتان شاہین شاہ آفریدی، عبداللہ شفیق، سکندر رضا اور محمد نعیم کو ریٹین کر لیا تھا۔
مستفیض الرحمان کو ابتدائی طور پر آئی پی ایل 2026 کے آکشن میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے منتخب کیا تھا تاہم بی سی سی آئی کی ہدایات کے بعد گزشتہ ماہ انہیں سکواڈ سے نکال دیا گیا تھا۔
انہیں آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بعد بنگلہ دیش نے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر انڈیا میں جا کر ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کرنے سے معذرت کی تھی جس پر اسے ایونٹ سے باہر کر دیا گیا تھا۔
پی ایس ایل میں مستفیض الرحمان اس سیزن کے دوسرے ڈائریکٹ سائن کیے گئے کھلاڑی ہیں، اس سے قبل سیالکوٹ سٹالینز نے سٹیون سمتھ کو ڈائریکٹ سائن کیا تھا۔
پی ایس ایل آکشن 11 فروری کو منعقد ہوگا، جبکہ ہر فرنچائز کو آکشن سے باہر ایک کھلاڑی ڈائریکٹ سائن کرنے کی اجازت ہے۔ ریٹین، ڈائریکٹ سائن یا آکشن کے ذریعے منتخب تمام کھلاڑیوں کے ساتھ دو سالہ معاہدہ کیا جائے گا۔
پی ایس ایل کے قوائد و ضوابط کے مطابق ہر ٹیم 16 سے 20 کھلاڑی منتخب کر سکتی ہے، جن میں پانچ سے سات غیر ملکی کھلاڑی شامل ہوں گے جبکہ کم از کم ایک ایسا مقامی کھلاڑی بھی ٹیم کا حصہ ہوگا جس کی عمر 23 سال سے کم ہو اور جو اس سے قبل پی ایس ایل نہ کھیل چکا ہو۔

شیئر: