قرضوں کی تحقیق کے لیےانکوائری کمیشن کی آٹھ ذمہ داریاں

پاکستان کی حکومت نے وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق گزشتہ دو حکومتوں کے دورمیں لیے گئے قرضوں کی تحقیقات کے لیے گیارہ رکنی کمیشن بنا دیا ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب کمیشن کے نوٹیفیکیشن کے مطابق اس میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور دیگر سول اداروں کے ساتھ ساتھ ملٹری انٹیلیجنس اورآئی ایس آئی کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
ڈپٹی چئیرمین نیب حسین اصغر کی سربراہی میں کام کرنے والا کمیشن چھ ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کے علاوہ ہر ماہ ایک عبوری رپورٹ بھی بنائے گا۔ اس کے لیے مناسب بجٹ بھی کمیشن کو مہیا کیا جائے گا۔
دلچسپ بات ہے کہ کمیشن صرف فروری 2008 سے ستمبر 2018تک کی دو سول حکومتوں کے اخراجات کا فرانزک آڈٹ کرے گا جبکہ اس سے قبل فوجی حکمران جنرل مشرف دور کے اخراجات کے حوالے سے تحقیقات کمیشن کے دائرہ کارمیں نہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی اورپاکستان مسلم لیگ نواز کے گزشتہ دو ادوار میں ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبایا گیا۔

کمیشن کونسے آٹھ کام کرے گا؟
کمیشن کا ضابطہ کار آٹھ نکات پر مشتمل ہے ۔
1۔ کمیشن گزشتہ دس سالوں میں اہم ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت کا جائزہ لے گا اور ان کا تقابل سرکاری قرضوں میں اضافے سے کرے گا۔ دستاویز کے مطابق سن دوہزار آٹھ میں پاکستان کا سرکاری قرضہ چھ ہزا چھ سو نوے ارب تھا جو کہ ستمبر دوہزار اٹھارہ میں بڑھ کر تیس ہزار آٹھ سو چھیالیس ارب ہو گیا۔
2۔کمیشن ہرسرکاری منصوبے کا جائزہ لے کر تحقیق کرے گا کہ اس کے لیے جو قرض لیا گیا کیا اسی پر خرچ ہوا؟
3۔ کیا کسی سرکاری منصوبے کے شرائط و ضوابط میں ایسی ہیر پھیر تو نہیں کی گئی کہ کمیشن یا کک بیک حاصل ہو سکے؟
4۔کیسی سرکاری عہدیدار یا اس کے اہل خانہ یا تعلق داروں نے سرکاری پیسے سے غیر قانونی زاتی اخراجات تو ادا نہیں کیے؟
5۔کیا مالیاتی زمہ داری اور قرضوں کے حد کے قانون برائے ۲۰۰۵ کے تحت مقرر کی گئی حد کو توڑا تو نہیں گیا؟ اور اگر ایسا ہوا تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟
6۔ کیا ۲۰۰۵ کے اس قانون میں کی گئی ترامیم آئین کی شق ۱۶۶ سے متصادم تو نہیں؟

7۔ اچھی ساکھ کی حامل مقامی یا بین الاقوامی آڈٹ فرموں کے زریعے فروری دو ہزار آٹھ سے ستمبر دو ہزار اٹھارہ تک کے تمام حکومتی خرچوں کا  فارنسک آڈٹ  کرایا جائے گا ۔
8۔ان تمام معاملات میں زمہ داری کا تعین کرنااور کسی قسم کی بے قاعدگی کوتحقیق اور عدالتی کاروائی کے لیے متعلقہ محکمے اور ایجنسی کو بھیجنا بھی کمیشن کی زمہ داریوں میں شامل ہو گا۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے 11 جون کی رات قوم سے خطاب میں ملک کو قرضوں میں جکڑنے کی وجوہات جاننے اور سابق حکومتوں بالخصوص گزشتہ دس سال میں کی گئی مبینہ کرپشن بے نقاب کرنے کیلیے اپنی سربراہی میں ایک اعلی اختیاراتی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
ناقدین کیا کہتے ہیں
کمیشن کے قیام پر تبصرہ کرتے ہوئے سینٗیر وکیل اکرام چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں احتساب کے ادارے موجود بھی ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں تو کسی نئے  کمیشن کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ سابق وزیر قانون اور مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کے مطابق موجودہ حکومت اپنی مرضی کے ادارے اور اپنی مرضی کے بندے لگانا چاہتی ہے،، نہ پہلے اس قسم کی کوئی حکومت آئی اور نہ ہی کسی نے اپنی مرضی کے ادارے بنائے،، جو ادارے پہلے موجود ہیں انھیں کام نہیں کرنے دیا جا رہا اور جو لوگ انصاف کرنے والے ہیں ان کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شیئر: