جھڑپیں جاری، پاکستان کا افغانستان کی مزید چوکیاں، اسلحہ ڈپو تباہ کرنے کا دعویٰ
جھڑپیں جاری، پاکستان کا افغانستان کی مزید چوکیاں، اسلحہ ڈپو تباہ کرنے کا دعویٰ
جمعہ 27 فروری 2026 6:47
پاکستان اور افغانستان کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان کے سکیورٹی ذرائع افغانستان کی مزید چوکیاں اور اسلحہ خانے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پڑوسی ممالک کے درمیان جھڑپیں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب افغانستان کے ان حملوں کے بعد شروع ہوئیں جن کو اس نے ایک روز قبل پاکستان کی جانب سے ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ پر بمباری کا بدلہ قرار دیا تھا۔
پاکستان کی افغانستان کے مختلف شہروں پر حملوں کے تھوڑی دیر بعد جاری کیے گئے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہماری فوجیں جارحیت کرنے والوں کو کچل سکتی ہیں۔‘
پاکستانی حکومت کے آفیشل ایکس پیج پر کی گئی پوسٹ کے مطابق ’شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہماری افواج کسی بھی قسم کے جارحانہ عزائم کو کچلنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں، اور پوری قوم ان کے ساتھ شانہ بشانہ ہے۔‘
اسی طرح پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کے بعد جوابی کارروائی میں طالبان فوج کی کئی پوسٹیں تباہ ہوئی ہیں اور انگوراڈہ میں ایک اور افغان پوسٹ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کو جانب بلا اشتعال جارحیت کا جواب انتہائی مستعدی اور مضبوط انداز میں دیا گیا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان نے بلااشتعال جارحیت کا مظاہرہ کیا (فوٹو: اے ایف پی)
اسی طرح انہوں نے جمعے کی صبح ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ’پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے ’آپریشن غضب الحق‘ کے حوالے سے لکھا کہ پاکستان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق ’جوابی کارروائیوں میں افغان طالبان کا ایک بڑا اسحلہ ڈپو اور بٹالین ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے لکھا کہ اب تک افغان طالبان کے 36 سے ٹینک، آرٹلری گنز اور اے پی سیز کو تباہ کیا جا چکا ہے۔
افغانستان کی حکومت کے ترجمان نے قبل ازیں پاکستان فضائیہ کے جوابی حملوں کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ کابل میں کم سے کم تین دھماکے سنے گئے ہیں تاہم مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔
حکومتی ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے قندھار اور جنوب مشرقی صوے پکتیا میں بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔