فیصل آباد میں رُوپ بدلنے والی ’لیڈی سمگلر‘ کو پولیس نے کیسے گرفتار کیا؟
فیصل آباد میں رُوپ بدلنے والی ’لیڈی سمگلر‘ کو پولیس نے کیسے گرفتار کیا؟
جمعہ 27 فروری 2026 6:31
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
پولیس حکام کے مطابق برآمد ہونے والی منشیات میں آئس بھی شامل ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی
پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد میں پولیس نے ایک ایسی خاتون کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو شہر میں ’لیڈی سمگلر‘ کے نام سے جانی جاتی رہی ہے اور منشیات کی ترسیل کے لیے کبھی لڑکی اور کبھی لڑکے کا رُوپ دھار لیتی تھی۔
فیصل آباد کے تھانہ غلام محمد آباد میں تعینات پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو مخبر کی اطلاع پر ناکہ بندی کے دوران اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ لڑکے کے بھیس میں منشیات لے جا رہی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نہ صرف مردوں بلکہ خواتین میں بھی رُوپ بدل کر منشیات سپلائی کرتی رہی ہے۔
غلام محمد آباد تھانے کے حکام نے اردو نیوز کو بتایا کہ کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی۔ پولیس نے اس حوالے سے بتایا کہ ’ایک خاتون لڑکوں کا حُلیہ اختیار کر کے علاقے میں آئس اور ہیروئن فروخت کرتی تھی۔ اسی اطلاع پر پولیس نے ناکہ بندی کی اور مشتبہ شخص کو روک کر تلاشی لی گئی۔‘
اس حوالے سے تھانہ غلام محمد آباد میں درج ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے مخبر خاص کی اطلاع پر ناکہ بندی کی تھی کہ اسی دوران ایک ’لڑکا‘ آیا۔ تلاشی لینے پر معلوم ہوا کہ وہ ایک خاتون ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ’ملزمہ کو لیڈی کانسٹیبل کی مدد سے گھیرے میں لیا گیا اور اس کی جامع تلاشی لی گئی۔ ملزمہ کے دائیں ہاتھ میں مٹھائیوں کا شاپر تھا جس میں ہیروئن برآمد ہوئی جبکہ اس کی جیب سے بھی منشیات ملی۔‘
پولیس حکام کے مطابق برآمد ہونے والی منشیات میں آئس بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کی شناخت نشا کے نام سے ہوئی ہے جسے ایف آئی آر میں ’بدنام زمانہ آئس اور ہیروئن سیلر‘ قرار دیا گیا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق جب پولیس ناکے پر ملزمہ سے پوچھ گچھ کر رہی تھی تو اسی دوران ایک موٹرسائیکل سوار موقعے پر آیا۔ ’پولیس کو دیکھ کر موٹر سائیکل سوار مُڑا اور فرار ہو گیا۔‘ ایف آئی آر میں ملزمہ کے حوالے سے درج ہے کہ اس نے پولیس کو بتایا کہ فرار ہونے والا شخص ’رانا پومی‘ نامی مبینہ مین ڈیلر ہے جو اس نیٹ ورک کا اہم کردار ہے۔
ملزمہ نہ صرف مردوں بلکہ خواتین میں بھی رُوپ بدل کر منشیات سپلائی کرتی رہی ہے (فائل فوٹو: اے پی پی)
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ خود لڑکے کا رُوپ دھار کر مردوں کو منشیات سپلائی کرتی رہی ہے تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنے اصل حُلیے میں بھی منشیات کی ترسیل کرتی تھی۔ اس حوالے سے پولیس نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ لڑکیوں میں لڑکی بن کر اور لڑکوں میں لڑکا بن کر رسائی حاصل کرتی اور پھر منشیات کا دھندہ کرتی تھی۔‘
اس کیس میں تحقیقات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ مبینہ طور پر کافی عرصے سے شہر کے مختلف علاقوں میں رُوپ بدل کر منشیات فروخت کرتی رہی ہے۔ غلام محمد آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس کے مبینہ گینگ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔