Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر جھڑپیں،افغان دارالحکومت کابل دھماکوں سے لرز اٹھا

جمعہ کو علی الصبح  افغان دارالحکومت کابل زور دار دھماکوں نے لزر اٹھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان دارالحکومت میں موجود اس کے صحافیوں اور مقامی رہائشیوں نے بتایاکہ یہ دھماک اس کے چند گھنٹوں بعد سنے گءے جب طالبان حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس نے پاکستان کے خلاف سرحدی کارروائی شروع کی ہے۔
اے ایف پی کی ٹیم کے مطابق تقریباً رات 1:50 بجے (جمعرات 2120 جی ایم ٹی) سے شہر بھر میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جن کے ساتھ طیاروں کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔
ایک رہائشی نے بتایا کہ شہر میں آٹھ تک دھماکے ہوئے۔
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک رہائشی نے کہا کہ 'پہلے دو دھماکے ہم سے کچھ فاصلے پر ہوئے۔ آخری دھماکے ہمارے قریب تھے جن سے گھر لرز اٹھا، اور ہر دھماکے کے بعد لڑاکا طیاروں کی آواز سنائی دیتی تھی۔'
اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق دھماکوں کے بعد وسطی کابل میں تقریباً رات 2:30 بجے تک وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔
اس سے چند گھنٹے قبل افغان فوج نے پاکستان پر حملہ کیا تھاجس کے جواب میں پاکستان نے بھرپور جوابی کاررواٰءی  'آپریشن غضب للحق کے نام سے شروع کر دیا ہے۔
افغان اور پاکستانی صحافیوں کے مطابق دھماکوں کی آوازیں قندھار میں بھی سنی گءی۔
دوسری  جانب افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان فورسز نے رات 12 بجے فائرنگ روک دی ہے۔
عنایت خواریزانی نے دعویٰ کیا کہ طالبان فورسز نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔ اس سے قبل پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ فورسز نے افغان چوکیوں کی ایک تعداد کو تباہ کیا اور بھاری جانی نقصان پہنچایا۔
دریں اثنا پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ’ پاکستانی فوج کی جوابی کاروائی میں افغان طالبان رجیم کے 72 کارندے ہلاک اور120 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
جمعے کوعلی الصبح ایکس پر جاری بیان میں وزیراطلاعات نے 'آپریشن غضب للحق' کے حوالے سے تازہ ترین تفصیلات بتاتے ہوے لکھا تھا کہ 'افغان طالبان رجیم کے 72 کارندے ہلاک، 120 سے زائد زخمی  جبکہ افغان طالبان رجیم کی 16 پوسٹیں تباہ اور 7 پوسٹوں پر قبضہ  کیا گیا ہے۔
خیال رہے افغان طالبان حکومت کی جانب سے سرحد کے ساتھ پاکستان کی فوجی چوکیوں پرحملے کے جواب میں پاکستانی فوج کی کاروائی کو  'آپریشن غضب للحق' کا نام دیا گیا ہے۔
افغان طالبان رجیم کا ایک ایمونیشن ڈپو، بٹالین ہیڈکوارٹر، سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 36 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دیے گئے۔
وزیراطلاعات نے مزید لکھا کہ ’مزید جوابی کارروائیاں جاری ہیں اور ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔‘

شیئر: