Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی افغان دارالحکومت کابل، قندہار اور پکتیا پر بمباری، دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے سرحدی چوکیوں پر حملے کے چند گھنٹے بعد جمعہ افغان دارالحکومت کابل، قندہار اور پکتیا پر بمباری کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ فوجی چوکیوں پر یہ بمباری چند دن پہلے ہونے والے مہلک فضائی حملوں کے جواب میں  کی گئی۔
دونوں فوجوں نے کہا کہ سرحدی جھڑپوں میں درجنوں فوجی ہلاک ہوئے، جو حالیہ مہینوں میں پاکستان کے افغانستان میں متعدد فضائی حملوں اور سرحدی جھڑپوں کے بعد پیش آئیں۔
پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ ترار نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ افغان طالبان کے دفاعی اہداف کابل، پکتیا اور قندھار میں نشانہ بنائے گئے۔
افغان دارالحکومت میں، اے ایف پی کی ٹیم نے دو گھنٹے سے زیادہ کے عرصے میں جہازوں کی آوازیں، دھماکوں اور فائرنگ سنی۔
افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں، جہاں طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخونزادہ مقیم ہیں، اے ایف پی کے صحافی نے بتایا کہ اس نے اوپر جہازوں کو پرواز کرتے سنا۔
طالبان حکومت نے پاکستانی فضائی حملوں کی تصدیق کی، اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
افغان وزارت دفاع نے بتایا کہ زمینی کارروائی میں اس کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے۔

افغان وزارت دفاع نے بتایا زمینی کارروائی میں اس کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
 

افغان اہلکار نے رپورٹ دی کہ تورخم سرحدی گزرگاہ کے قریب، پاکستان سے واپس آنے والے مہاجرین کے کیمپ میں متعدد شہری زخمی ہوئے۔
ننگرہار صوبے کے اطلاعاتی سربراہ قریشی بادلون نے کہا کہ کیمپ پر ایک مارٹر گرا، اور بدقسمتی سے ہمارے سات مہاجرین زخمی ہوئے، ایک خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔
پاکستان کی سرکاری ٹیلی ویژن نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ افواج پاکستان نے افغان طالبان رجیم کی کابل، قندھار اور پکتیا میں اہم ملٹری تنصیبات کو مؤثر فضائی حملوں میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ پاکستانی فضائیہ کے حملوں کے دوران کابل میں دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز تباہ کر دیے گئے۔‘

سکیورٹی ذرائع نے قندھار میں فضائی حملے کے دوران ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کرنے کا دعوی کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

سکیورٹی ذرائع نے قندھار میں فضائی حملے کے دوران ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کرنے کا دعوی کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ’ پاکستانی فضائیہ کے فضائی حملوں کے دوران قندھار میں ایمونیشن ڈیپو اور لاجسٹک بیس جبکہ پکتیا میں بھی کور ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کر دیا گیا۔‘
اس سے چند گھنٹے قبل افغان فوج نے پاکستان پر حملہ کیا تھا جس کے جواب میں پاکستان نے بھرپور جوابی کارروئی  ’آپریشن غضب للحق‘ کے نام سے شروع کی۔
دوسری  جانب افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’افغان فورسز نے رات 12 بجے فائرنگ روک دی ہے۔‘

سکیورٹی ذرائع نے قندھار میں فضائی حملے کے دوران ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کرنے کا دعوی کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

عنایت خواریزانی نے دعویٰ کیا کہ طالبان فورسز نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔ اس سے قبل پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ فورسز نے افغان چوکیوں کی ایک تعداد کو تباہ کیا اور بھاری جانی نقصان پہنچایا۔
 پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ’ پاکستانی فوج کی جوابی کاروائی میں افغان طالبان رجیم کے 72 کارندے ہلاک اور120 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
جمعے کوعلی الصبح ایکس پر جاری بیان میں وزیراطلاعات نے 'آپریشن غضب للحق' کے حوالے سے تازہ ترین تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ 'افغان طالبان رجیم کے 72 کارندے ہلاک، 120 سے زائد زخمی  جبکہ افغان طالبان رجیم کی 16 پوسٹیں تباہ اور 7 پوسٹوں پر قبضہ  کیا گیا ہے۔
خیال رہے افغان طالبان حکومت کی جانب سے سرحد کے ساتھ پاکستان کی فوجی چوکیوں پرحملے کے جواب میں پاکستانی فوج کی کاروائی کو  'آپریشن غضب للحق' کا نام دیا گیا ہے۔

شیئر: