جوفلسطینیوں کو منظور وہی عربوں کے لیے قابل قبول، عادل الجبیر

سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو جو منظور ہوگا وہی عربوں کے لیے بھی قابل قبول ہوگا۔
عادل الجبیر نے پیر کو فرانسیسی چینل 24 سے امن فارمولے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے حالات میں بہتری لانے پر خوش دلی کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ 
سعودی مقامی اخبار الشرق الاوسط کے مطابق عادل الجبیر نے کہا کہ اقتصادی پہلو اپنی جگہ اہم ہے، لیکن مسئلہ فلسطین کا سیاسی حل بھی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب 1967 والے علاقے میں خودمختار فلسطینی ریاست قائم کرانے اور مشرقی القدس کو اس کا دارالحکومت بنوانے کے لئے پرعزم ہے، اور سعودی عرب اپنا یہ مشن جاری رکھے گا۔ 
سعودی وزیر مملکت نے کہا کہ یہ مسئلہ فلسطینیوں کا ہے اور اس کے حل کا حتمی فیصلہ کرنے کا حق بھی فلسطینیوں کے پاس ہی ہے۔ ’لہٰذا فلسطینیوں کو جو منظورہوگا دیگر تمام فریقوں کے لیے وہی قابل قبول ہوگا۔‘

’مسئلہ فلسطین کے حل کا حتمی فیصلہ کرنے کا حق فلسطینیوں کا ہے،‘ سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر

واضح رہے کہ فلسطینی، امریکی صدر کے داماد اور مشیر جان کوشنر کے فلسطین اور ہمسایہ عرب ممالک کے لیے 50 ارب ڈالر کے اقتصادی منصوبے کو مسترد کرچکے ہیں۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منگل کو شروع ہونے والی دو روزہ امن کانفرنس برائے خوشحالی کی سربراہی جان کوشنر کریں گے جس میں وہ 50 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان بھی کریں گے۔
اس کانفرنس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، عالمی مالیاتی فنڈ کی ڈائریکٹر جنرل کرسٹین لیگرڈ اور انٹرنیشنل فٹبال آرگنائریشن (فیفا) کے چیئرمین گلیانی انفنٹینو سمیت نمایاں بین الاقوامی شخصیات شریک ہوں گی۔
فلسطینی نائب صدر محمود العالول کے مطابق مسئلہ فلسطین کے سیاسی حل سے قبل اقتصادی پہلوﺅں پر کوئی گفتگو نہیں ہوگی اور یہ فلسطینی صدر کا اٹوٹ مؤقف ہے۔ 
فلسطینی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہر روز فلسطینی عوام اور انکے حقوق سے متعلق امریکہ دشمنی منکشف ہورہی ہے اور امریکہ کے اس نئے منصوبے کو ’بلفور معاہدے‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ فلسطینی عوام کی بحیثیت قوم اور ریاست نفی کررہے ہیں۔

 

 

 

شیئر: