سینیٹ کمیٹی نے بینکوں کو صارفین سے ایس ایم ایس چارجز وصول کرنے سے روک دیا
بدھ 4 فروری 2026 16:05
بشیر چوہدری، صالح سفیر عباسی۔ اردو نیوز اسلام آباد
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے کمرشل بینکوں کو صارفین کو بھیجے جانے والے ایس ایم ایس پر سروس چارجز وصول کرنے سے روک دیا ہے۔
بدھ کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین کمیٹی نے ایس ایم ایس سروس چارجز سے متعلق شکایات کا معاملہ اٹھایا۔
انہوں نے گورنر سٹیٹ بینک سے استفسار کیا کہ یہ کون سا طریقہ ہے کہ صارفین سے ایس ایم ایس سروس کے چارجز وصول کیے جا رہے ہیں؟
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بینکوں نے ایس ایم ایس سروس چارجز کے ذریعے اربوں روپے کما لیے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ سہولت فراہم کر رہا ہے تو وہ سہولت اپنی ہی صارفین کو دیتا ہے۔
اس موقع پر گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ بینک ایس ایم ایس سروس صارفین کی رضامندی سے فراہم کرتے ہیں، اور جو صارف یہ سہولت لیتا ہے اس سے چارج وصول کیا جاتا ہے۔
جس پر چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ گورنر سٹیٹ بینک ہمیشہ کی طرح نجی بینکوں کی وکالت کر رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر بھی صارفین کو پیغامات بھیجتا ہے، کیا وہ اس کے چارجز وصول کرتا ہے؟ اس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ بینک صارفین سے ایس ایم ایس چارجز وصول کرتے ہیں، جو صارفین کے ساتھ زیادتی ہے۔
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گورنر سٹیٹ بینک نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ بینک صارفین سے فی ایس ایم ایس 0.54 سے 0.89 پیسے تک چارج کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بینک صارفین سے کوئی اضافی رقم وصول نہیں کر رہے۔
اس پر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کو اصولی طور پر ایس ایم ایس چارجز وصول کرنے سے روکنے کی سفارش کر دی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بینک صارفین کی جانب سے اکثر یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ بینک کی جانب سے بھیجے جانے والے الرٹس اور پیغامات پر تمام صارفین سے چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔
صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کٹوتی ان کی مرضی کے بغیر اور پیشگی اطلاع دیے بغیر کی جاتی ہے۔
کمیٹی اجلاس کے دوران ایف بی آر کی جانب سے فائلرز کو ٹیکسٹ میسجز بھیجنے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔
یہ سوال سینیٹر اسد قاسم نے مالی رازداری کے حوالے سے اٹھایا تھا، جس پر چیئرمین ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو مختصر بریفنگ دی۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ٹیکسٹ میسج صرف ایف بی آر اور متعلقہ فائلر تک محدود ہوتا ہے، جس سے کسی کی مالی رازداری متاثر نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ میسجز بھیجنے سے ایف بی آر کو فائدہ ہوا ہے اور فائلرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
اس حوالے سے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کسی کو ذاتی حیثیت میں پیغام بھیجنے سے کون سی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں خود بطور وزیر خزانہ ایف بی آر کا میسج موصول ہوا تھا۔
سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بھی ایف بی آر کا پیغام موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی یہ پیغام ملا ہے اور یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
بحث کے بعد قائمہ کمیٹی نے سینیٹر اسد قاسم کی جانب سے اٹھائے گئے میسجز کے معاملے کو نمٹا دیا۔
خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں صنعت، کاروبار اور دیگر شعبوں پر عائد سپر ٹیکس کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ سینیٹر شیری رحمان نے سپر ٹیکس سے متعلق معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت واضح کر چکی ہے کہ سپر ٹیکس عائد کرنا پارلیمان کا اختیار ہے، تاہم اس ٹیکس سے عوام اور کاروباری طبقے پر دباؤ بڑھا ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے بھی دوہرے سپر ٹیکس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے گرفتاریوں کے ذریعے ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس وقت فروری کا مہینہ جاری ہے اور دو ماہ بعد وہ دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا انتظار کیے بغیر مجموعی صورتحال پر بریفنگ لی جائے اور چیئرمین ایف بی آر سے ٹیکس اصلاحات پر مکمل پریزنٹیشن لی جائے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ایک ہی طبقے سے بار بار ٹیکس وصول کر کے ریونیو میں اضافہ کوئی پائیدار ماڈل نہیں۔ اس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ جب بات نکل چکی ہے تو اس پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے اداروں کی بندش سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ جو ادارے بند کیے جا رہے ہیں، انہیں مکمل پیکجز کے ساتھ بند کیا جا رہا ہے اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو رہی۔