Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یونانی کوسٹ گارڈ کے جہاز اور مہاجرین کی کشتی کے تصادم میں 15 افراد ہلاک: پولیس

سرکاری ٹیلی وژن چینل ای آر ٹی  کے مطابق خیوس جزیرے کے ہسپتال کے ڈائریکٹر کرسٹوس سیاتخریس نے بتایا کہ زندہ بچ جانے والے تمام افراد افغان شہری ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
حکام نے بدھ کے روز بتایا کہ بحیرۂ ایجیئن میں یونانی کوسٹ گارڈ کے ایک جہاز اور مہاجرین کو لے جانے والی کشتی کے درمیان تصادم کے نتیجے ہلاکتوں کی تعداد 15 افراد ہوگئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ واقعہ منگل کو ترکی کے قریب جزیرہ خیوس کے ساحل کے نزدیک پیش آیا تھا۔
یونانی کوسٹ گارڈ کے ایک بیان کے مطابق ’غیر ملکی مسافروں کو لے جانے والی ایک تیز رفتار کشتی کے پائلٹ نے جس پر نیویگیشن لائٹس موجود نہیں تھیں، کوسٹ گارڈ کے بصری اور صوتی اشاروں پر عمل نہیں کیا۔‘
’اس کے بجائے پائلٹ نے کشتی موڑ دی جس کے بعد وہ کوسٹ گارڈ کی گشتی کشتی کے دائیں جانب سے ٹکرا گئی۔‘
بیان میں مزدی کہا گیا ہے کہ ’تصادم کی شدت کے باعث کشتی الٹ گئی اور ڈوب گئی۔‘
کوسٹ گارڈ کے مطابق سمندر سے 14 لاشیں برآمد کی گئیں جن میں تین خواتین شامل تھیں۔ ایک اور خاتون کو زندہ بچا لیا گیا تھا مگر وہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔
سرکاری ٹیلی وژن چینل ای آر ٹی  کے مطابق خیوس جزیرے کے ہسپتال کے ڈائریکٹر کرسٹوس سیاتخریس نے بتایا کہ زندہ بچ جانے والے تمام افراد افغان شہری ہیں۔
بچائے گئے 25 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں 11 بچے شامل ہیں جبکہ دو کوسٹ گارڈ اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
یونان کے وزیرِ تھانوس پلیورِس نے پارلیمنٹ میں انسانی سمگلروں کے خلاف سزائیں سخت کرنے پر ہونے والی بحث کے دوران ان ہلاکتوں کو ’ایک افسوسناک واقعہ‘ قرار دیا۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق، 2014 سے اب تک بحیرۂ روم میں تقریباً 33,000 مہاجرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا ’اصل مجرم سمگلرز ہیں… جو مہاجرین کو خیوس میں اتارنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘
بدھ کی صبح پانچ کشتیوں اور ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو ٹیمیں سمندر میں مزید زندہ بچ جانے والوں یا لاشوں کی تلاش میں مصروف رہیں۔ حکام کے مطابق یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مہاجرین کی کشتی پر کل کتنے افراد سوار تھے۔
ہر سال بڑی تعداد میں مہاجرین یورپ پہنچنے کے لیے بحیرۂ روم عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے نومبر میں بتایا تھا کہ 2025 کے دوران بحیرۂ روم اور مغربی افریقہ کے ساحل کے قریب بحرِ اوقیانوس میں یورپ کی طرف ہجرت کے راستوں پر 1700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے یا لاپتا ہو گئے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق، 2014 سے اب تک بحیرۂ روم میں قریباً 33 ہزار مہاجرین ہلاک ہو چکے ہیں یا لاپتا ہیں۔

شیئر: