قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن سے کون کون غائب رہا؟

قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں جہاں اپوزیشن حکومت کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافے پر آڑے ہاتھوں لے رہی ہے وہیں حکمران جماعت کے ارکان کی اجلاس میں عدم دلچسپی نے عوامی مسائل کے حوالے سے ان کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے۔
قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق 10 جون سے شروع ہونے والے بجٹ سیشن کے سوموار تک 11 اجلاس ہو چکے ہیں جن میں بجٹ پر بحث مکمل ہو چکی ہے تاہم  ریکارڈ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سمیت 28 کے قریب حکومتی ارکان زیادہ تر اجلاسوں سے غائب رہے۔
بجٹ پر بحث کے دوران غائب رہنے والے حکومتی ارکان میں  پی ٹی آئی کے رہنما اور اینکر عامر لیاقت حسین سرفہرست ہیں جنہوں نے بجٹ بحث کے دوران سوموار تک ایک بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
وزیر اعظم عمران خان خود بھی 11 میں سے نو اجلاسوں میں غائب رہے جبکہ صرف دو بار انہوں نے اجلاس میں شرکت کی تاہم انہوں نے ان دو مواقع پر بھی بجٹ یا عوامی مسائل پر ایوان میں ایک منٹ بھی گفتگو نہیں کی۔
خود بجٹ تیار کرنے والے مشیر خزانہ حفیظ شیخ بھی بجٹ  پیش ہونے کے بعد زیادہ تر اجلاسوں سے غائب رہے۔


عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے صرف چار اجلاسوں میں شرکت کی اور سات میں غیر حاضر رہے۔

دوسری طرف اپوزیشن کی طرف سے بھی چار ارکان ایسے ہیں جنہوں نے اب تک ایک بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی ان میں مسلم لیگ نواز کی مسرت آصف خواجہ اور راؤ اجمل خان جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پیر نور محمد علی شاہ جیلانی اور ذوالفقار علی شامل ہیں۔
اپوزیشن لیڈر اور نواز لیگ کے صدر شہباز شریف سات بار ایوان میں آئے اور چار بار غائب رہے تاہم انہوں نے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے دو گھنٹے سے لمبی تقریر کی۔
پارلیمانی رہنماؤں میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما خالد مگسی نے سب سے زیادہ 10 اجلاسوں میں شرکت کی جبکہ نواز لیگ کے خواجہ آصف نے 11 میں سے آٹھ اجلاسوں میں شرکت کی۔
پرجوش تقریروں کے لیے مشہورعوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے صرف چار اجلاسوں میں شرکت کی اور سات میں غیر حاضر رہے۔
رواں ہفتے منگل کے اجلاس میں حکومت کی طرف سے چونکہ مطالبات زر پیش کیے جانے تھے اس لیے حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی حاضری بڑھ گئی تاہم عامر لیاقت حسین منگل کو بھی غائب رہے۔

شیئر: