ٹرمپ کو خلیجی اتحادی ممالک پر ممکنہ ایرانی حملوں کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا: ذرائع
ٹرمپ کو خلیجی اتحادی ممالک پر ممکنہ ایرانی حملوں کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا: ذرائع
منگل 17 مارچ 2026 10:59
سورسز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
امریکہ کی ایک خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا گیا تھا کہ ایران پر حملہ خلیجی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے جبکہ پیر کو انہوں نے ایران کے ردعمل کو حیران کن قرار دیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ میں انٹیلی جنس رپورٹس سے واقفیت رکھنے والے ایک سرکاری اہلکار اور دو سورسز کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ایک سورس نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’جنگ سے قبل کی انٹیلی جنس اسسمنٹ میں نہیں بتایا گیا تھا کہ ایران ایسا ضرور کرے گا تاہم اس کے ممکنہ ردعمل میں یہ نکتہ بھی موجود تھا۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز دو بار کہا تھا کہ ایران کی جانب سے قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کے خلاف حملے حیران کن ہیں۔
یہ بات انہوں نے پہلے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے کینیڈی سینٹر کے اجلاس میں کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس (ایران) کے بارے میں یہ خیال نہیں تھا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے پیچھے جائے گا، یہ حیران کن ہے، کسی کو یہ امید نہیں تھی۔‘
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ انتظامیہ کے کچھ دیگر دعوؤں کے بعد سامنے آیا ہے جن کو امریکی انٹیلی جنس کی حمایت حاصل نہیں تھی جیسا کہ ایران جلد امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا میزائل حاصل کر لے گا۔ اس کو جوہری بم بنانے کے لیے دو سے چار ہفتے درکار ہوں گے اور پھر اس کو استعمال کیا جائے گا۔
یہ الزامات اور خطے میں ایران کی جانب سے امریکہ اور اس کی فوج کو ممکنہ فوری خطرہ ان مختلف وجوہات میں سے ایک ہے جو صدر ٹرمپ اور ان کے معاونین نے جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے کو درست ثابت کرنے کے لیے پیش کی ہیں۔
جنگ شروع ہونے کے بعد ایران خلیجی ممالک میں کئی حملے کر چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
دیگر دو سورسز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کو آپریشن سے قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہ تہران ممکنہ طور پر اقتصادی طور پر بہت اہمیت رکھنے والی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کرے گا۔‘
پچھلے دو ہفتوں کے دوران ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں میں ڈرونز اور میزائلز کے ذریعے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں امریکہ کے فوجی اڈوں کے علاوہ امارات کے اندر ایک فرانسیسی اڈہ بھی شامل ہے جبکہ ان کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر، ہوٹلز، ہوائی اڈوں اور توانائی کے ذرائع کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے گزرنے والے تقریباً تمام ہی جہازوں کو روک دیا ہے اس راستے کے ذریعے 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے اور بندش کے بعد سے عالمی سطح پر توانائی کے ذرائع کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
ڈیموکریٹک ارکان نے جنگ کے حوالے سے حکومتی بریفنگز کے بعد پچھلے ہفتے کہا تھا کہ اس میں انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی جس سے لگتا ہو کہ امریکہ و اسرائیل یہ جنگ شروع کرنے کی ضرورت ہو۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا جبکہ نیشنل انٹیلی جنس آفس کی جانب سے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو بریفنگ دی گئی تھی کہ حملے کی صورت میں خطے کے حالات بڑے تصادم کی طرف جا سکتے ہیں جن میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے خلاف انتقامی کارروائیاں بھی شامل ہوں گی، خصوصاً اس صورت میں اگر ان ممالک نے امریکی حملوں کی کی حمایت کی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ردعمل کا تذکرہ پیر کو ایک بار پھر اوول آفس میں بھی کیا۔
ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس پر حیران ہیں کہ کسی نے ان کو ایران کے جوابی حملوں کے بارے میں بریف نہیں کیا تھا۔
جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’کسی نے بھی نہیں کیا، دنیا کے بڑے ماہرین میں سے کسی نے یہ سوچا تک نہیں تھا کہ وہ حملہ کرنے والے ہیں۔‘