Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

19 کروڑ کی ڈکیتی: لاہور میں ’زازے خان‘ کی ہلاکت سے بڑے گینگ کا خاتمہ ہو سکے گا؟

ہلاک ملزم کی شناخت زازے خان عرف زازے پٹھان کے نام سے ہوئی جو پشاور کا رہائشی تھا (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
سحری کے وقت عامر سعید نامی شہری اپنی فیملی کے ہمراہ گھر پہنچے سکیورٹی گارڈ نے دروازہ کھولا اور کار پورچ میں لگ گئی لیکن اس سے پہلے کہ سکیورٹی گارڈ دروازہ بند کرتا ایک سفید رنگ کی کار تیزی سے گیٹ کو چیرتی ہوئی اندر آئی اور اس میں سے نکلنے والے چار افراد نے دیکھتے ہی دیکھتے سکیورٹی گارڈ کو قابو کیا اور اسلحے کے زور پر فیملی کے تمام ارکان کو بھی یرغمال بنا لیا۔
گھر کا سی سی ٹی وی کیمرہ آن تھا اور پورچ میں ہونے والی یہ ساری کارروائی ریکارڈ ہو رہی تھی۔ یہ 14 مارچ کی صبح کے لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں ہونے والی واردات ہے۔
ایف آئی آر میں درج مزید تفصیلات کے مطابق اہل خانہ سحری کرکے واپس آئے تو ملزمان نے انہیں اسلحے کے زور پر یرغمال بنا لیا، تشدد کیا اور قریباً 19 کروڑ روپے مالیت کا سامان لوٹ لیا۔
اس میں 200 تولے سونا، ایک کروڑ 25 لاکھ کے ڈائمنڈ زیورات، 10 کروڑ کے قیمتی سامان، تین کروڑ کا اضافی سونا اور غیر ملکی کرنسی شامل تھی۔ واردات کے دوران گینگ نے جیمر ڈیوائسز استعمال کیں جو تین سو میٹر تک موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دیتی ہیں، جس سے متاثرین کو فوری مدد طلب کرنے میں شدید دشواری ہوئی۔
یہ واردات سفید رنگ کی ایک گاڑی پر کی گئی جس پر اسلام آباد کا نمبر لگا تھا۔
اس ڈکیتی کی واردات نے لاہور پولیس کو جنجھوڑ کر رکھ دیا۔ صورت حال گھمبیر اس وقت ہوئی جب تھوڑی دیر بعد اس گینگ نے اس ڈکیتی کے بعد ایک اور گھر بھی یہی سب کیا۔ اور ہفتے کی رات تیسری ڈکیتی بھی کر ڈالی۔ اور یوں 24 سے 48 گھنٹوں میں لاہور پولیس اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ اب اس گاڑی کے تعاقب میں تھی۔
ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کہتے ہیں کہ ’انہوں ںے اپنی گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی دوسری اور تیسری واردتوں میں نہیں بدلی اور ہمارا سیف سٹی نظام اب انتہائی مستعدی کے ساتھ سڑکوں کو مانیٹر کر رہا تھا ہمارا صرف ایک ہی ٹارگٹ تھا کہ کسی بھی طریقے سے یہ گینگ شہر سے باہر نہ نکل پائے۔ شہر کے داخلی راستوں پر ناکے تھے اور ایک ایک گاڑی کو چیک کر کے جانے دیا جا رہا تھا۔‘
کاہنہ کا پولیس مقابلہ
دو روز سے لاہور ہونے والی تین ڈکیتی کی وارداتوں کے بعد 16 مارچ کی رات گجومتہ کے علاقے میں رات قریباً دو بجے ایک پولیس مقابلہ ہوا۔
اس واقعے کی درج ایف آئی آر کے مطابق ایک اسلام آباد نمبر کی سفید کار کو روکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن کار سوار افراد نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔
اس ایف آئی آر میں جو کار کا نمبر درج ہے یہ وہی ہے جو 14 مارچ کی ڈکیتی میں ملوث ہے۔

یہ واردات 14 جنوری کی صبح کے لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں ہوئی (فائل فوٹو: لاہور پولیس)

پولیس کے مطابق دو طرفہ فائرنگ میں گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھا زازے خان نامی ایک شخص اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہو گیا۔ جس کے بعد اسے جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن راستے میں ہی وہ دم توڑ گیا جبکہ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تین دیگر ملزمان فرار ہو گئے۔ پولیس نے گاڑی قبضے میں لے لی اور اس سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد کیا جس میں امریکی کمپنیوں کا اسلحہ بھی شامل تھا۔
ہلاک ملزم کی شناخت زازے خان عرف زازے پٹھان کے نام سے ہوئی جو پشاور کا رہائشی تھا۔
مدعی عامر سعید موقع پر پہنچے اور اس کی باقاعدہ شناخت کرتے ہوئے بتایا کہ زازے خان نے انہیں اور خاندان کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور وہ 19 کروڑ کی ڈکیتی میں ملوث چار ڈاکوؤں میں سے ایک تھا۔
مدعی نے مطالبہ کیا کہ پولیس باقی تین ڈاکوؤں کو جلد گرفتار کر کے لوٹی گئی رقم اور اشیاء برآمد کرے۔
اس کیس کی جانچ میں شامل ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کی اردو نیوز کو بتایا کہ پولیس اس گینگ کے بہت قریب پہنچ چکی تھی جب انہیں اندازہ ہو گیا کہ شہر سے نہیں نکل سکتے تو یہ قصور کی طرف نکلنے لگے تھی۔
’جب مقابلہ اور یہ گاڑی چھوڑ کر بھاگے تو اب اس گینگ کی تفصیل واضح ہیں۔ یہ افغان ڈکیت گینگ راولپنڈی کے بلال ثابت گینگ سے نکلا ہے اور 2024 سے لاہور میں فعال ہے۔ اس نے 2024 میں چار بڑی ڈکیتیاں کیں، ہر بار کاریں اور بھاری رائفلیں استعمال کیں اور واردات کے بعد افغانستان کے قریبی علاقوں میں روپوش ہو جاتا ہے۔ گینگ کے آٹھ سے دس کارندے ماضی میں مختلف پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں مگر یہ گروپ اب بھی منظم طریقے سے سرگرم ہے۔‘
 لاہور پولیس کے بیان کے مطابق فرار ملزمان کی تلاش کے لیے علاقے میں ناکہ بندی، سرچ آپریشن اور سیف سٹی کیمروں سے ٹریکنگ شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس یہ تو تصدیق کر رہی ہے کہ یہ وہی گینگ ہے جس نے کروڑوں روپے کی ڈکیتی کی تاہم ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ اس مڈبھیڑ کے اندر ڈاکو اسلحہ کے ساتھ سونا اور نقدی بھی چھوڑ گئے ہیں یا نہیں۔

شیئر: