Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خطے میں جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان بڑے توانائی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے؟

مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ نے عالمی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش، تیل کی سپلائی میں آٹھ ملین بیرل یومیہ کی کمی اور فریٹ ریٹس میں 100 فیصد اضافے کے باعث پاکستان جیسی درآمد پر انحصار کرنے والی معیشت پر اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔
حکومت نے ایمرجنسی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جبکہ مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت 400 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی ہے۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری میں کاٹن کی درآمد معطل ہونے سے مقامی قیمتوں میں 500 روپے فی من اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اثرات آئندہ آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔
جنگ کے باعث عالمی تیل کی سپلائی میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے تاریخ کا سب سے بڑا اقدام کرتے ہوئے 400 ملین بیرل تیل سٹریٹیجک ذخائر سے جاری کیا ہے مگر اس کے باوجود تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔ پاکستان جو اپنی قریباً تمام تیل کی ضرورت مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، اس کی زد میں آ گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر وزراء نے پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ جنگ کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور مستقبل میں درآمدات مزید مہنگی پڑیں گی۔
اثرات کہاں کہاں تک پہنچے ہیں؟
کاٹن انڈسٹری میں کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کہتے ہیں کہ جنگ کی وجہ سے کاٹن کی درآمدات مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں ’ابتدائی طور پر یہ ڈیمانڈ درآمد شدہ کاٹن سے پورا ہو رہی تھی مگر جاری جنگ کی وجہ سے درآمد شدہ کاٹن کی شپمنٹس معطل ہو گئی ہیں۔ نتیجتاً ٹیکسٹائل ملز نے مقامی مارکیٹ کی طرف رخ کیا جہاں کوالٹی کاٹن کی دستیابی انتہائی محدود ہے، جس سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔‘

ایل پی جی کی قیمت 60 روپے فی کلو بڑھ کر 400 روپے فی کلو  تک پہنچ گئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

گزشتہ ایک ہفتے میں مقامی کاٹن کی قیمت 500 روپے فی من بڑھ کر 17 ہزار روپے فی من ہو گئی ہے۔
احسان الحق کہتے ہیں کہ اگر سپلائی کی یہ صورتحال برقرار رہی تو عید الفطر کے بعد قیمتیں 18 ہزار روپے فی من تک پہنچ سکتی ہیں۔ پالیسٹر فائبر کی قیمت بھی 30 روپے فی کلو بڑھ گئی ہے۔ ٹیکسٹائل ملز اب گرمیوں کے گارمنٹس کے لیے مقامی کاٹن پر انحصار کر رہی ہیں جبکہ برآمدات پہلے ہی گر رہی تھیں۔
انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ برآمدات کو مزید متاثر کرے گا۔
حکومت نے پبٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ایمرجنسی اضافہ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس وقت پیٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل 336 روپے فی لیٹر کر دی ہے۔ اس کے فوری اثرات ایل پی جی پر پڑے ہیں۔
ایل پی جی کی قیمت 60  روپے فی کلو بڑھ کر 400  روپے فی کلو  تک پہنچ گئی ہے۔

حکومت نے پبٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ایمرجنسی اضافہ کا اعلان کر رکھا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایل پی جی مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے رہنما علی حیدر کہتے ہیں کہ حکومت سے فوری درآمدات کا بندوبست نہ کیا تو ریٹ اس سے بھی اوپر جائے گا۔   
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں تو پاکستان میں مہنگائی سات فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈبویلپمنٹ اکنومکس (پی آئی ڈی ای) کی وارننگ کے مطابق آبنائے ہرمز کی مکمل بندش سے درآمدات کا بل 1.8 سے 2 بلین ڈالر سالانہ اضافہ کر سکتا ہے۔ 
ملک کے صنعت کاروں نے حکومت سے ’انرجی ایمرجنسی‘ نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
دوسری طرف حکومت نے ابھی 27 دن کے تیل کے ذخائر کی یقین دہانی کرائی ہے مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جنگ کئی ہفتوں تک جاری رہی تو قیمتیں مزید بڑھیں گی اور درآمدات میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ 

 

شیئر: