آپریشن غضب للحق: پاکستان کے کابل اور ننگرہار پر مزید فضائی حملے
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے آپریش غضب للحق کے تحت پیر کی رات کو افغانستان پر فضائی حملے کیے، جن میں طالبان حکومت کی ان عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
منگل کی صبح ایکس پر ایک پوسٹ میں عطا اللہ تارڑ نے حملوں کے حوالے سے تفصیلات بتائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل میں دو مقامات پر حملے کیے گئے جن میں ٹیکنیکل سپورٹ کے انفراسٹرکچر اور گولہ بارود کے ذخیروں کو تباہ کیا گیا۔
پوسٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملوں کے بعد انہی مقامات پر ہونے والے دھماکوں سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہاں پر گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔
انہوں نے حملوں کے بارے میں مزید بتایا کہ ننگر ہار میں بھی طالبان حکومت کے ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اورلاجسٹکس، گولہ بارود اور دوسرے تکنیکی انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے حملوں کے حوالے سے مزید تفصیلات بھی شیئر کیں۔
’تمام ٹارگٹس کو درستی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا جن میں وہ انفراسٹرکچر بھی شامل تھا جس کو افغان طالبان اپنی دہشت گردی کی پراکسیز بشمول فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی مدد کے لیے استعال کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے پوسٹ میں شامل کی گئی ویڈیو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس میں سب کچھ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور دہشت گردوں کی حمایت اور سرپرستی کرنے والی طالبان حکومت کا پروپیگنڈا اور جھوٹے دعوے افغانوں اور دنیا کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔
پوسٹ کے آخری نکتے میں کہا گیا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف اس وقت تک کارروائیاں جاری رہیں گی جب تک مطلوبہ مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں کر لیے جاتے۔