اپنی شناخت سے خوش نہیں ہوں، بالی وڈ کی دنگل گرل

زائرہ وسیم نے فلم دنگل میں کام کیا۔ تصویر: فیس بک
دنگل گرل زائرہ وسیم نے اتوار کو اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں اعلان کیا ہے کہ وہ فلموں میں آنے کے پانچ سال بعد اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ یہ وہ جگہ نہیں جہاں وہ پہنچنا چاہتی ہیں۔
انھوں نے اداکاری سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ 'میں اس میدان سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو سکتی ہوں لیکن میں اس میدان کی نہیں ہوں۔'
انھوں نے لکھا: 'پانچ سال پہلے، میں نے ایک فیصلہ کیا جس نے میری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی۔ میں نے بالی وڈ میں قدم رکھا اور اس نے مقبولیت کے دروازے کھول دیے۔ میں توجہ کا مرکز بن گئی اور کامیابی کی مثال اور مجھے نوجوانوں کا رول ماڈل کہا جانے لگا۔
'اب جبکہ میں پانچ سال مکمل کر رہی ہوں میں یہ اعتراف کرتی ہوں کہ میں درحقیقت اپنی اس شناخت سے خوش نہیں ہوں۔ بہت عرصے تک مجھے یہ محسوس ہوتا رہا کہ میں کوئی اور بننے کے لیے جدو جہد کر رہی ہوں۔'

زائرہ وسیم کو اچھی کارکردگی پر نیشنل چائلڈ ایوارڈ بھی دیا گیا۔ فوٹو: زائرہ وسیم فیس بک

18 سالہ اداکارہ نے اپنے طویل پوسٹ میں کہا: 'میں مستقل اپنے روح اور خیال کے درمیان کشمکش میں رہی اور میں اپنے راسخ ایمان کے لیے کوشاں رہی اور میں ایک بار نہیں بلکہ سینکڑوں بار ناکام ہوئی۔۔۔ ميں بھٹکتی رہی یہاں تک کہ مجھے اللہ کے کلام قرآن سے سکون ملا۔'
زائرہ وسیم نے لکھا کہ انھیں اللہ کی رحمت سے ان کی بیماری کا پتہ چلا جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ 'دو طرح کی بیماریاں ہیں شک وشبہ اور خواہش نفسانی۔'
زائرہ نے قرآن کی آیات نقل کرتے ہوئے ذکر کیا کہ اللہ نے انھیں راہ راست پر محض اپنے فضل و کرم سے ڈال ڈیا۔
انھوں نے لکھا: 'میرے فیصلے کے پس پشت قرآن کی ہدایت اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پیغامات ہیں اور اس نے زندگی کے تعلق سے میرا رویہ اور اس زندگی کے معنی بدل دیے۔'
انھوں نے مزید لکھا: 'یہ سفر تھکا دینے والا تھا، زندگی بہت مختصر ہے لیکن اتنی ہی طویل بھی ہے کہ آپ خود سے جنگ نہیں کر سکتے۔ اس لیے آج میں اس مستحکم فیصلے پر پہنچی ہوں اور میں باضابطہ طور پر اس میدان سے اپنے آپ کو علیحدہ کرتی ہوں۔'
انھوں نے یہ بھی لکھا کہ کھلے عام اس بات کا اعلان کر کے وہ اپنی قابل احترام تصویر پیش نہیں کرنا چاہتیں بلکہ ایک نئی ابتدا کرنا چاہتی ہیں۔

زائرہ وسیم نے حال ہی میں پرینکا چوپڑا اور فرحان اختر کے ساتھ فلم میں کام کیا۔ فوٹو: فیس بک 

انھوں نے  اپنے پوسٹ میں قرآن اور حدیث سے بہت سے اقوال بھی نقل کیے۔
ان کی اس پوسٹ پر سینکڑوں افراد نے تبصرہ کیا ہے اور زیادہ تر نے انھیں مبارکباد دی ہے اور ان کے اس قدم کو سراہا ہے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی سابق سٹوڈنٹ یونین کی رکن اور سماجی کارکن شہلا رشید نے لکھا: 'آپ باصلاحیت اور ہوشیار ہیں۔ آپ جس شعبے میں بھی جائيں گی اچھا کریں گی۔ آپ کی آگے کی زندگی کے لیے نیک تمنائیں۔ امید کہ آپ جس شعبے میں بھی جائيں ہمارا سر فخر سے اونچا کریں۔
جبکہ بعض لوگوں نے کہا کہ اب انھیں بالی وڈ میں کوئی کام نہیں مل رہا ہے اس لیے وہ مذہب کے راستے پر نکل پڑی ہیں۔
خیال رہے کہ پرینکا چوپڑہ اور فرحان اختر کی فلم 'دی سکائی از پنک' میں زائرہ وسیم شامل تھیں اور یہ فلم مکمل ہو چکی ہے جس کا اعلان گذشتہ دنوں پرینکا چوپڑہ نے کیا تھا۔
 

شیئر: