’واٹس ایپ پر طلاق شادی کی بے وقعتی اور بیوی کی توہین‘ امارات میں نئی بحث

آن لائن طلاق جدید ٹیکنالوجی کا گھنائونا استعمال ہے۔ تصویر: اے ایف پی
ہماری روزمرہ زندگی میں سماجی رابطے کے وسائل اور ان کی مختلف ایپلی کیشنز کا عمل دخل بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ سرکاری معاملات سے لے کر انتہائی درجے کے نجی امور تک میں سماجی رابطے کے وسائل دخل انداز ہوگئے ہیں، مگر اب اس کا منفی استعمال 'آن لائن طلاق' کے لیے بھی کیا جا رہا ہے۔
کئی شوہر جیون ساتھی سے علیحدگی  کے اعلان کے لئے سماجی رابطے کے وسائل مثلاً فیس بک، واٹس ایپ، سنیپ چیٹ اور اسکائپ وغیرہ استعمال کرنے لگے ہیں۔
آن لائن طلاق کا مسئلہ ان دنوں متحدہ عرب امارات میں موضوع  بحث بن گیا ہے۔ قانونی، دینی اور سماجی حلقوں نے اس پر فکرانگیز خیالات پیش کئے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ جو شخص طلاق کے اعلان کے لیے سماجی رابطے کے کسی بھی وسیلے کا سہارا لیتا ہے اس کا مقصد صرف شریک حیات سے علیحدگی اور نئی زندگی کی شروعات نہیں ہوتا وہ  ایک طرح سے ایسا کرکے اپنے رفیق حیات کی توہین اور اسے بے وقعت ظاہر کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
امارات کی عدالتوں میں  ایسے مقدمات بھی ریکارڈ پر آ رہے ہیں جن میں خواتین نے سماجی رابطے کے وسائل سے ملنے والے طلاق کے پیغامات پر طلاق نامے جاری کرنے کے مطالبے کیے ہیں۔ 
سماجی شخصیات کا کہنا ہے کہ آن لائن طلاق جدید ٹیکنالوجی کا ایک گھناؤنا استعمال ہے اوراس کے معاشرے پر منفی اثرات پڑنے لگے ہیں۔ اس طرح طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی یہ جھگڑے بڑھنے لگے ہیں۔ شوہر کبھی کبھار غصے کے عالم میں  سماجی رابطے کے وسائل سے بیوی کو طلاق بھجوا دیتا ہے بعد میں انکار کر دیتا ہے کہ اس نے ایسا کوئی پیغام ارسال نہیں کیا۔ 

طلاق کے لیے بھی گواہوں کی پابندی ہونی چاہیے، ڈاکٹر یوسف الشریف۔ تصویر: اے ایف پی

امارات کے قانونی مشیر ڈاکٹر یوسف الشریف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ایسے طریقے استعمال کرکے رشتہ زوجیت کو بے معنی  بنا رہے ہیں۔ ’اس سے پتہ چلتا ہے کہ کئی لوگ رشتہ زوجیت کو اہمیت نہیں دیتے، یہ رشتہ الفت اور رحم دلی کا ہے۔ آن لائن طلاق کے واقعات فریق ثانی کی تذلیل ہیں۔‘
الشریف نے بتایا کہ موبائل استعمال کرنے والے کی نشاندہی مشکل کام ہے۔ ’مثلاً اگر کسی شوہر نے اپنی بیوی کو فیس بک یا واٹس ایپ سے طلاق کا پیغام بھیجا ہو تو ضروری نہیں کہ یہ میسج بھیجنے والا خود شوہر ہی ہو۔ ممکن ہے کہ کسی دوست نے یہ حرکت کی ہو، اس کا بھی امکان ہے کہ خود بیوی نے یہ حرکت کی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی خاتون نے جو اس مرد میں دلچسپی لے رہی ہو ایسی حرکت کی ہو۔‘
الشریف نے کہا کہ نکاح یقین کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ ’یقین حاصل کرنے کیلئے دو گواہ، دلہن کا سرپرست، نکاح خواں اور نکاح نامہ ضروری ہے۔ طلاق ثابت کرنے کیلئے بھی یہ پابندیاں ہونی چاہئیں۔ بعض فقہا نے اس قسم کی رائے دی ہے۔ معاشروں اور خاندانوں کو بچانے کےلیے اس رائے پر عملدرآمد موثر ثابت ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’طلاق سے متعلق شوہر بیوی کی بات اس وقت تک نہ تسلیم کی جائے جب تک طلاق دینے کا پختہ ثبوت سامنے نہ آ جائے۔‘
 الشریف نے توجہ دلائی کہ بہت سارے مرد خواتین کے جذبات کا خیال نہیں رکھتے۔ بات بات پر طلاق کی دھمکی دیتے ہیں۔ کئی لوگ  معمولی سی بات پر بیوی سے کہتے ہیں کہ اگر فلاں کام کیا تو وہ انہیں طلاق دے دیں گے۔
الشریف نے مطالبہ کیا کہ طلاق کی بھرمار کو روکنے اور طلاق کے اختیار کے بے جا استعمال کو قابو کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ مثلاً ایک قانون یہ بنایا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی شوہر بات بے بات طلاق کی دھمکی دے تو اسے عبرتناک سزا دی جائے تاکہ طلاق کا لفظ منہ سے نکالنے سے قبل وہ ایک ہزار بار سوچے۔
انہوں نے کہا کہ شادی کے معاملے میں فریق ثانی کا احترام، اس کے جذبات کی پاسداری اور رشتہ زوجیت کی حفاظتت انتہائی ضروری ہے۔

’طلاق سے متعلق شوہر بیوی کی بات اس وقت تک نہ تسلیم کی جائے جب تک طلاق دینے کا پختہ ثبوت سامنے نہ آ جائے۔‘

متحدہ عرب امارات میں طلاق کی شرح، طلاق کے طور طریقوں اور طلاق کے حالات کی بابت کوئی مستند سروے دستیاب نہیں البتہ ابوظہبی کے مرکز شماریات کا کہنا ہے کہ 2017 کے دوران شادی کے ایک برس کے اندر ہی 28.5 فیصد طلاقیں ہوئیں جبکہ شادی کو تین برس ہوجانے پر52.2 فیصد طلاقیں ریکارڈ کی گئیں۔
مرکز شماریات نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 2018 کے دوران ابوظہبی میں 2017 کے مقابلے میں  طلاق کے واقعات میں اضافہ ہوا۔

امارات میں  طلاق کی رجسٹریشن کا طریقہ کار

امارات کی حکومت نے طلاق کے عدالتی رجسٹریشن کے لئے مختلف مراحل طے کیے ہیں۔

٭ شوہر یا  بیوی طلاق کا اندراج  خاندانی رہنمائی کے مرکز میں کرائے۔ امارات کی تمام ریاستوں میں اس قسم کے مراکز سرکاری طور پر کھلے ہوئے ہیں۔ یہ مراکز فریقین کے درمیان ربط وضبط پیدا کرنے اور خاندانی رہنمائی فراہم کرنے والی شخصیت سے ملاقات کا وقت متعین کرتے ہیں۔
 ٭ خاندانی رہنمائی فراہم کرنے والے سے ملاقات کے بغیر امارات میں طلاق کی کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔ طلاق کے لئے یہ کارروائی  ضروری ہوتی ہے۔
 ٭ فریقین رہنما مرکز میں دوستانہ انداز میں طلاق کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ دونوں کے درمیان ہونے والی مفاہمت  کا مضمون  تیار کیا جاتا ہے۔
 اگر فریقین میں سے کوئی ایک یا دونوں طلاق پر بضد ہوں تو ایسی صورت میں خاندانی امور کا رہنما ان کی درخواست  عدالت بھیج دیتا ہے۔

شیئر: