پاکستان کا ورلڈ کپ ختم: بنگلہ دیش کو ہرا کر بھی ہار گیا

پاکستان کی ٹیم ورلڈ کپ سے باہر ہو گئی،بنگلہ دیش کو اپنے آخری میچ میں 94 رنز سے شکست دے دی۔ ۔پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو 316 رنز کا ہدف دیا۔
جواب میں بنگلہ دیش کی پوری ٹیم 221 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کے 11 پوائنٹس ہو گئے ہیں، نیوزی لینڈ کے بھی 11 ہی پوائنٹس ہیں مگر رن ریٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے نیوزی لینڈ سیمی فائنل کھیلے گا۔
پاکستان کی ٹیم ورلڈ کپ سے تو باہر ہو گئی مگر کئی کھلاڑیوں نے ریکارڈ بنا دیے۔شاہین آفریدی نے چھ وکٹیں حاصل کر کے ورلڈ کپ میں  سب سے کم عمر بولر کا ریکارڈ بنا دیا۔پاکستان کی جانب سے وہاب ریاض ورلڈ کپ میں 35 وکٹیں لے کر دوسرے نمبرپر آگئے ہیں اس سے پہلے عمران خان نے ورلڈ کپ کے پانچ ایڈٰشنز کھیل کر 34 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں جبکہ وسیم اکرم 55 وکٹیں لے کر سب سے آگے ہیں۔بابر اعظم نے بھی اس ورلڈ کپ میں جاوید میانداد کا پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ توڑ دیا ، 1992 کے ورلڈ کپ میں جاوید میانداد نے 437 رنز بنا رکھے ہیں، جبکہ بابر نے تین نصف سینچریوں اور سینچری کی مدد سے 474 رنز بنا کر ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔

بنگلہ دیش کی بیٹنگ

بنگلہ دیش نے بیٹنگ شروع کی تو سومیا سرکار 22 رنز پر عامر کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ بنگلہ دیش کے آؤٹ ہونے والے دوسرے کھلاڑی تمیم اقبال تھے جو آٹھ کے مجموعی سکور پر شاہین شاہ آفریدی کا شکار بنے۔مشفیق 16 رنز ہی بنا پائے تھے کہ وہاب ریاض کی تیز گیند پر بولڈ ہو گئے۔لٹن ڈاس اور شکیب نے ٹیم کا سہارا دیتے ہوئے 58 رنز کی پارٹنر شپ بنائی۔شاہین آفریدی نے لٹن ڈاس کو 32 رنز پر پریلین کی راہ دکھائی۔شکیب الحسن نے چھ چوکوں کی مدد سے 64 رنز بنائے انکو بھی شاہین آفریدی نے آؤٹ کیا۔مصدق حسین بھی صرف 16 رنز ہی بنا سکے،بابر اعظم نے شاداب کی گیند پر انکا کیچ پکڑا۔شاہین آفریدی نے سیف الدین کو کھاتہ نہ کھولنے دیا اور اپنی چوتھی وکٹ حاصل کی۔محمود اللہ کو بھی 29 رنز پر شاہین نے بولڈ کیا۔مستفیض کو ایک رنز پر آؤٹ کر کے شاہین نے اپنی چھٹی وکٹ حاصل کی۔
پاکستان کی جانب سے  شاہین نے چھ،شاداب دو وہاب اور عامر نے ایک ایک وکٹ حاصل کی ہے۔

پاکستان کی بیٹنگ

رن ریٹ کی ریس پر پورا اترنے کے لیے پاکستانی ٹیم نے بیٹنگ کا آغاز ہی سست روی سے کیا فخر زمان نے 31 گیندوں پر صرف 13 رنز بنائے اور سیف الدین کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔اس کے بعد بابر اعظم نے اچھی بیٹنگ کا مظاہری تو کیا مگر سینچری سے محروم رہے۔انکو 96 رنز پر سیف الدین نے آؤٹ کیا۔اوپنر امام الحق نے ابھی سینچری مکمل ہی کی تھی کہ مستفیض کی گیند پر ہٹ وکٹ ہو گئے۔حارث سہیل بھی صرف چھ رنز ہی بنا سکے اور چھکا لگانے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے مستفیض پانچ،سیف الدین  تین اور مہدی نے ایک وکٹ حاصل کی ۔
پاکستان کے ورلڈ کپ میں رہ جانے کے امکان تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ البتہ ناممکنات کے وقوع پذیر ہونے کی آس پر ایک موہوم سی امید باقی رہ گئی ہے۔
 آسٹریلیا، انڈیا ،انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں سیمی فائنل  میں پہنچ گئی ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان نے ورلڈ کپ میں اب تک کل آٹھ میں سے چار میچ جیتے جبکہ تین میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ایک میچ بارش کی نذر ہو گیا۔ پاکستان نے اگرچہ میزبان انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کو شکست دی تاہم پہلے ہی میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں عبرتناک شکست سے ٹیم کا رن ریٹ بہت کم ہوگیا۔

پریس کانفرنس میں سرفراز مایوس دکھائی دیے۔ فوٹو اے ایف پی

اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان نو پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر موجود ہے۔
دوسری طرف بنگلہ دیش نے ورلڈ کپ میں اب تک آٹھ میچز کھیلتے ہوئے تین میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ چار میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایک میچ بارش کی نذر ہوا ہے۔ یوں بنگلہ دیش ٹیبل پر سات پوائنٹس کے ساتھ ساتویں نمبر پر موجود ہے۔

500 رنز بنانے کی کوشش کریں گے‘

پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ورلڈ کپ کے آخری مقابلے سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف 500 رنز بنانے کی کوشش کریں گے اگرچہ ایسا کرنا آسان نہیں۔ لیکن کوشش کر سکتے ہیں کہ کسی طرح نیوزی لینڈ کو باہر رکھتے ہوئے سیمی فائنل میں رسائی حاصل ہو جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہونے کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ پہلے تو میچ جیتنے کی کوشش کریں گے۔
آئی سی سی کی ویب سائٹ کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران کپتان سرفراز احمد افسردہ نظر آرہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ جانتے ہیں اتنے بڑے مارجن سے میچ جیتنا مشکل ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ورلڈ کپ کے ابتدائی میچ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پرفارمنس اچھی نہیں رہی جس کے باعث شروع سے ہی رن ریٹ خراب ہو گیا جبکہ آسٹریلیا کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے میچ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ سے کم مارجن کی فتح بھی ٹیم کا رن ریٹ نہیں بڑھا سکی جس کے باعث آخر میں ان حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

شیئر: