سعودی عرب میں کرنسی فری پروگرام ،پٹرول اسٹیشنوں کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن

مملکت کے وژن 2030 کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنسی فری پروگرام پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزارت بلدیات و دیہی ترقی کی جانب سے پٹرول سٹیشنوں کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دے گئی۔
آئندہ ہفتے متعلقہ اداروں کی تفتیشی ٹیمیں پٹرول اسٹیشنوں پر چیکنگ شروع کر دیں گی جس سٹیشن پر رقم کی وصولی نقد کی جائے گی جرمانے عائد کئے جائیں گے۔
وزارت بلدیات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پروگرام کا بنیادی ہدف تجارتی پردہ پوشی ( غیر ملکیوں کے سعودیوں کے ناموں سے کاروبار) کا خاتمہ اور معاشرے کو کرنسی فری پروگرام کی جانب لے جانا ہے۔ سبق نیوز کے مطابق وزیر بلدیات و دیہی ترقی کی جانب سے مملکت میں تمام پٹرول اسٹیشن مالکان کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں کہ وہ اپنے سٹیشن پر’مدی‘ ڈیبٹ کارڈ سے وصولی کریں۔ نقدی کا لین دین قطعی طور پر نہ کیا جائے۔ 
وزارت کا کہنا ہے کہ کرنس فری پروگرام عام شہریوں کے بھی مفاد میں ہے جس پر ہر ایک کو عمل کرنا چاہیے تاکہ اس کے ثمرات سے معاشرہ مستفیض ہو سکے۔
وزارت بلدیات نے وزارت تجارت و سرمایہ کاری اور سعودی مانٹرنگ ایجنسی کے تعاون سے جامع منصوبہ بندی کی ہے جس کے تحت خریداری کے لیے ’مدی کریڈٹ کارڈز‘ استعمال کیے جائیں۔

مدی کریڈٹ کارڈ کیا ہے؟

وزارت تجارت اور سعودی مانٹرنگ ایجنسی کے اشتراک سے گزشتہ برس سے مدی کارڈ متعارف کرایا گیا ہے۔
سعودی عرب میں موجود تمام بینکوں نے اپنے اے ٹی ایم کارڈز میں مدی کی سہولت جاری کی ہے جس کے ذریعے خریداری ممکن ہوسکتی ہے۔
سعودی مانیٹرنگ ایجنسی کی جانب سے سعودی پیمینٹ نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا ہے جو براہ راست صارف کے بینک اکاونٹ سے مربوط ہو تا ہے جس کے ذریعے صارف کسی بھی سپن مشین کے ذریعے سعودی عرب میں ادائیگی کر سکتا ہے۔
کارڈ کا بنیادی مقصد معاشرے کو کرنسی فری کرنا اور تمام ادائیگیاں مدی کارڈ کے ذریعے کرنا ہے ۔ مملکت کے مستقبل کے وژن 2030 کے مطابق سعودی عرب میں تجارتی لین دین کو کرنسی فری کرنا ہے اس حوالے سے سعودی مالیاتی ادارے اور وزارت تجارت جامع منصوبہ بندی پرعمل کر رہے ہیں جسے مرحلہ وار نافذ کیاجائے گا۔ 
 

شیئر: