پاکستانی ٹیم نے ایک بار پھرحیران کر دیا، عامر خاکوانی کا تجزیہ
پاکستان نے ڈھاکہ میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں بنگلہ دیشی ٹیم کو آوٹ کلاس کر دیا۔ ایک سو اٹھائیس رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز برابر کر دی۔ اب تیسرا میچ فیصلہ کن ثابت ہو گا۔
پہلے میچ میں جس طرح پاکستانی بیٹنگ ڈھیر ہوئی تھی اور ایک بہت بری شکست سے دوچار ہونا پڑا، اس سے یہ خطرہ لگنے لگا تھا کہ شاید پاکستان یہ سیریز وائٹ واش ہی نہ کرا بیٹھے۔ دوسرے میچ میں مگر پاکستانی ٹیم نے باؤنس بیک کیا، وہی پرانا روایتی کم بیک جس کی پاکستان ایک زمانے میں شہرت رکھتا تھا۔
دوسرے ون ڈے میچ میں تین چار چیزیں اہم ہوئی ہیں۔ سب سے نمایاں نوجوان اوپنر معاذ صداقت کی غیر معمولی کارکردگی ہے۔ معاذ نے ڈومیسٹک اور شاہینز میں بہت اچھا پرفارم کیا، کئی لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اسے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے سکواڈ کا حصہ بنانا چاہیے۔ ایسا نہیں ہوسکا، ایک لحاظ سے اچھا ہوا کہ نوجوان کھلاڑی کو اپنا پہلا ٹورنامنٹ اتنے پریشر میں نہ کھیلنا پڑا۔
بنگلہ دیش سیریز کے پہلے دو میچز میں دو نوجوان کھلاڑیوں کو موقع ملا۔ ان میں سے ایک معاذ صداقت نے آج خود کو منوا لیا۔ معاذ پہلے میچ میں ناکام ہوگیا تھا، جلد آوٹ ہوگیا۔ آج اس پر دباؤ تھا، مگر اس نے جو اننگز کھیلی وہ شاندار ہونے کے ساتھ بے خوفی، جرات اور عمدہ تکنیک کا حسین امتزاج تھی۔
معاذ نے وکٹ کے چاروں طرف خوبصورت شاٹس کھیلے، اس نے مستفیض الرحمن جیسے تجربہ کار بولر کو بہت عمدہ کور ڈرائیوز کھیلے، ناہید رانا کو بھی جارحانہ سٹروکس کھیلے، سپنرز کو بھی اچھا کھیلا، نکل کر اونچے شاٹ بھی لگائے، گراؤنڈڈ دلکش ڈرائیوز بھی، عمدہ پل شاٹس کھیلے اور ایک اچھا نو لک شاٹ بھی۔ صرف چھیالیس گیندوں پر معاذ نے ٹی 20 سٹائل میں بیٹنگ کرتے ہوئے ایک سو تریسٹھ رنز کے سٹرائیک ریٹ سے پچھتر رنز بنائے۔ جن میں پانچ چھکے شامل تھے۔ معاذ نے بڑی پراعتماد بیٹنگ کی اور ہر بولر کی پٹائی کی۔ وہ ایک ریمپ شاٹ کھیلنے کے چکر میں آوٹ ہوئے، کچھ دیر مزید وکٹ پر ٹھیرے رہتے تو آرام سے اپنی ڈیبیو سنچری بنا سکتے تھے۔ معاذ نے مگر ٹیم کی خاطر تیز کھیلنے کو ترجیح دی۔ یہ ایک اور خوبی ان کی نظر آئی۔
صاحبزادہ فرحان بھی اچھا کھیلے، مگر لگتا ہے وہ ون ڈے کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں، انہوں نے وکٹ پر ٹھیرے رہنے کی کوشش کی، 31 رنز بنائے۔ نوجوان شمائل حسین جنہیں پہلے ون ڈے میچ میں بھی کھلایا گیا تھا، وہ پچھلے میچ کی طرح اس بار بھی ایک غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیلتے ہوئے آوٹ ہوگئے۔
شمائل حسین نے دونوں میچز میں اپنی وکٹ تھرو کی۔ شارٹ آف لینتھ گیندوں کو اندھا دھند ہٹنگ کے چکر میں آوٹ ہوئے۔ آج انہوں نے جو شاٹ کھیلا ، وہ خاصا مایوس کن تھا، ان کی نظر گیند سے ہٹ گئی تھی، سر بھی سٹل نہیں تھا۔ ایسے سوسائیڈل شاٹس کھیلنے سے شمائل حسین ٹیم سے باہر ہوجائیں گے۔ پہلے بھی ان پر تنقید ہو رہی ہے کہ ان کے پروگورنمنٹ اینکر والد کی وجہ سے انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ یقینی طور پر یہ بات نہیں ہوگی، شمائل حسین کی اچھی ڈومیسٹک پرفارمنسز ہیں، مگر بہرحال جب اتنا اچھا موقعہ ملا ہے تو پھر اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ جب ٹیم کا سکور مناسب ہے، رن ریٹ بھی اچھا ہے تو پھر اندھا دھند ہٹنگ کرنے کے بجائے پہلے سیٹ ہو کر کچھ رنز کر لینے چاہئیں، پھر پاور ہٹنگ کی جائے۔
آج کے میچ کی تیسری نمایاں بات سلمان آغا اور محمد رضوان کی ہنڈرڈ رنز پارٹنر شپ تھی۔ سلمان آغا خاص طور پر بڑے پراعتماد نظر آئے، نہایت عمدہ شاٹس کھیلے، نکل کر اونچے سٹروک کھیلے، عمدہ سوئپ شاٹس، ڈرائیو، سلاگ سوئپ بھی۔ محمد رضوان بھی اچھا کھیلے۔ دونوں جب کھیل رہے تھے تو صاف نظر آ رہا تھا کہ پاکستان تین سو پلس رنز کر جائے گا۔ جب 35اوورز میں دو سو رنز بن چکے ہوں، وکٹیں ہاتھ میں ہوں، 'سو کالڈ پاور ہٹرز' نے آنا ہو تو پھر پندرہ اوور میں سو رنز بنانے کچھ بھی مشکل نہیں۔
سلمان آغا کا آوٹ ہونا افسوسناک تھا۔ بنگلہ دیشی کپتان مہدی حسن نے سپورٹس مین سپرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔ رضوان نے ڈرائیو کیا، بولر مہدی نے پیر سے روکا، سلمان آغا بھی ساتھ ہی کھڑا تھا اس سے بھی گیند ٹکرائی، سلمان آغا نے سمجھا کہ گیند ڈیڈ ہوگئی ہے۔ اس نے جھک کر گیند باولر کو دینا چاہی، مگر مہدی حسن نے لپک کر گیند پہلے اٹھائی اور وکٹوں پر ماری، سلمان آغا چونکہ کریز سے باہر تھا اس لیے وہ رن آوٹ ہوگیا۔
تکنیکی طور پر یہ فیصلہ درست تھا، مگر بہرحال سپورٹس مین سپرٹ کے خلاف تھا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، تاہم سلمان آغا کو بھی سیکھنا چاہیے کہ بھائی گیند پکڑ کر دینا تیرا کام نہیں، پہلے آپ کریز میں تو پہنچو، پھر ایسی ہمدردی کرتے رہنا۔ اس واقعے سے امید ہے سلمان آغا اور دیگر نوجوان کھلاڑیوں کو سبق ملا ہوگا کہ آج کی دنیا میں سپورٹس مین سپرٹ کی اہمیت کم ہے اور بائی رولز چلنے کی ضرورت زیادہ۔
محمد رضوان اس واقعے سے غیر ضروری طور پر طیش میں آ گئے، دو گیندوں بعد ہی نکل کر چھکا لگانے کی کوشش میں آؤٹ ہوگئے اور پھر اس سے پاکستانی بیٹنگ کولیپس ہونے کا آغاز ہوگیا۔ بقیہ لوئر مڈل آرڈر اور لوئر آرڈر ڈھیر ہوگیا۔
حسین طلعت جنہیں کھلانے کی ابھی تک کوئی وجہ کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہی، وہ آج پھر ناکام ہوئے۔ ایک فضول سلاگ شاٹ کھیلتے ہوئے بولڈ ہوگئے۔ عبدالصمد رن آوٹ ہوئے، اس میں کچھ قصور ان کا بھی تھا، دو رنز نہیں بن رہے تھے، اتنی عجلت کاہے کی۔ فہیم اشرف چلو مستفیض الرحمن کی سلوکٹر سے دھوکا کھا گئے۔
شاہین شاہ آفریدی کپتان تھے، انہیں یہ تو سوچنا چاہیے تھا کہ سب سے زیادہ ضروری پچاس اوورز پورے کھیلنا ہے۔ اس کے باوجود شاہین شاہ نے اپنے مخصوص انداز میں اونچا شاٹ کھیلا، وکٹ گنوا کر چلتے بنے۔
سب سے زیادہ افسوس وسیم جونیئر پر آیا جب سنتالیسواں اوور چل رہا تھا، نو آؤٹ ہوچکے تھے، وسیم جونیئر کو پچاس اوور پورے کھیلنے اور رسک لئے بغیر ٹوٹل میں بیس پچیس رنز کا اضافہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی، اس نے اونچا شاٹ کھیلا اور آوٹ ہو کر تین اوورز پہلے ہی اننگ ختم کرا دی۔ یہ کمزور کھیل کا مظاہرہ کیا گیا۔ پاکستان کو تین سو رنز کرنے چاہیے تھے۔
آج پاکستان کی بولنگ ابتدا ہی سے اچھی رہی۔ شاہین شاہ نے بہتر بولنگ کرائی اور دو وکٹیں لیں، ایک وکٹ وسیم جونیئر کو ملی اور یوں پہلے چھ اوورز میں بنگلہ دیش اپنی تین ٹاپ آرڈر وکٹیں گنوا بیٹھا۔ پھر بارش اور طوفان آیا، میچ رک گیا اور پھر قواعد کے مطابق اوورز کٹ ہوئے، بنگلہ دیش کو ایک بہت مشکل ٹآرگٹ ملا۔ تاہم معاذ صداقت کی نپی تلی بولنگ کونہ سراہنا زیادتی ہوگی، معاذ نے اچھی بولنگ کرائی اور کم رنز دے کر تین وکٹیں لیں۔ رہی سہی کسر حارث روف نے پوری کر لی جب ٹیل اینڈرز کو آوٹ کر تین وکٹیں ہتھیا لیں۔ بنگلہ دیش 114 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے میچ میں پاکستانی کارکردگی بھی یہی رہی تھی۔ معاذ صداقت مین آف دا میچ رہے۔ اس نوجوان کھلاڑی سے بہت سوں کو امیدیں ہیں، ان شااللہ وہ پاکستان کا روشن ستارہ بنیں گے۔
آج کے میچ کی جیت سے سیریز دلچسپ ہوگئی ہے، آخری میچ اب اہم ہوگا۔ پاکستان کو آخری میچ جیتنا چاہیے تاکہ جو شائقین ان سے مایوس ہوچکے ہیں، انہیں کچھ تو حوصلہ ملنا چاہیے۔ ایک بات البتہ آج کے میچ میں بھی محسوس ہوئی کہ ہمارے کوچ کے آل راونڈرز کھلانے کا شوق کسی اچھی ٹیم کے خلاف مہنگا پڑے گا۔
آج بھی پاکستان حقیقی معنوں میں صرف تین سپیشلسٹ باولرز کے ساتھ کھیلا۔ شاہین شاہ، حارث روف اور وسیم جونئر۔ فہیم اشرف کو بطور سپیشلسٹ باولر کھلانا پرلے درجے کی خوش گمانی ہے۔ اسی طرح معاذ صداقت نے اچھی بولنگ کرائی مگر بہرحال وہ پارٹ ٹائم سپنر ہی ہیں، سپیشلسٹ سپنر نہیں۔ حسین طلعت سے بھی کوئی توقع نہیں، ویسے ان سے تو باولنگ بھی نہیں کرائی گئی۔ کم از کم ایک سپشلسٹ سپنر کو ٹیم میں شامل کرنا چاہیے تھا، ابرار یا فیصل اکرم کو چانس دیا جاتا۔ ایک آل راونڈر کم کر لینا چاہیے ۔ حسین طلعت یا فہیم اشرف میں سے کسی ایک کو کھیلنا چاہیے۔ کسی بڑی ٹیم کے خلاف صرف تین بولرز سے کھیلنا بہت ہی تباہ کن اور خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ خیر آج پاکستان جیت گیا تو اس جیت سے لطف اٹھانا چاہیے۔