افغان امن عمل: چار اہم نکات پر مذاکرات کا آغاز

افغانستان میں تنازع کے سیاسی حل کے لیے مذاکرات کی ایک اور کوشش کی جارہی ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)
افغانوں کے مابین علیحدہ مذاکرات آج قطر میں ہورہے ہیں جس میں 60 کے قریب افغان رہنما شرکت کر رہے ہیں۔
افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں سیاسی شخصیات، خواتین اور دیگر افغان سٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانوں کے مابین  مذاکرات کا انعقاد قطر اور جرمنی کی جانب سے کیا گیا ہے، جس میں امریکہ براہ راست حصہ نہیں لے گا۔

چند ماہ قبل افغان دھڑوں کے درمیان ماسکو میں بھی ملاقات ہو چکی ہے (فوٹو:اے ایف پی)

واضح رہے کہ افغان طالبان نے صدر اشرف غنی کی حکومت سے مذاکرات کرنے سے صاف انکار کردیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ افغان ان مذاکرات میں ’ذاتی حیثیت‘ میں شرکت کریں گے۔
صدر اشرف غنی کی حکومت جسے طالبان ’کٹھ پتلی حکومت‘ قرار دیتے ہیں، امریکہ طالبان مذاکرات میں شامل نہیں۔
یہ فروری اور مئی میں ماسکو میں ہونے والے اجلاس کی طرح کی ایک ملاقات ہے۔
یاد رہے کہ کچھ ماہ پہلے افغانوں کے درمیان اسی قسم کی ملاقات ماسکو میں بھی ہو چکی ہے جسے ایک بریک تھرو کہا گیا تھا، لیکن اس میں خواتین کے حقوق، غیرملکی افواج کے انخلا اور حکومت سازی میں طالبان کے کردار سمیت اہم اور حساس معاملات کو حل نہیں کیا جا سکا تھا۔
واشنگٹن نے کہا تھا کہ وہ ستمبر میں افغان صدارتی الیکشن کے لیے بیرونی فوج کے انخلا کو ممکن بنانے کے لیے طالبان کے ساتھ سیاسی معاہدہ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے سنیچر کو قطر میں امریکہ طالبان مذاکرات کے حوالےسے بتایا کہ’ یہ چھ دن اب تک طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکراتی دور میں مثبت رہے ہیں۔

زلمے خلیل زاد نے افغانوں کے مابین بات چیت کا خیر مقدم کیا (فوٹو: اے ایف پی)

امریکہ طالبان مذاکرات کا یہ سلسلہ دو روز تک روک دیا گیا ہے جو منگل سے شروع ہوگا۔
زلمے خلیل زاد نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’دراصل وہ چار اہم نکات جن پر ہم مذاکرات کے آغاز سے بات کر ر ہے ہیں ان میں دہشتگردی،بیرونی فوجوں کا انخلا،افغانوں کے مابین بات چیت اور جنگ بندی شامل ہیں۔
میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ پہلی بار ہے کہ چاروں ایشوز پر ہماری ٹھوس بات چیت ہوئی اور ان معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
قطر میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ وہ پیش رفت سے خوش ہیں، ہمیں ابھی تک کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

شیئر: