سابق امریکی فوجیوں کی اکثریت افغان جنگ کی مخالف

امریکہ میں سابق فوجیوں اور عوام  کی اکثریت کا کہنا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں جنگ نہیں شروع کرنی چاہیے تھی۔
واضح رہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ  18 برس سے طالبان کے ساتھ جنگ کر رہا ہے اور اب اس کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیو ریسرچ سنٹر کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 58 فیصد سابق امریکی فوجی اور 59 فیصد امریکی عوام افغانستان میں جنگ کے حامی نہیں ہیں اور 10 میں سے صرف چار افراد ایسے تھے جنہوں نے کہا کہ امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنا چاہیے تھا۔
امریکہ کی عراق جنگ اور شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فوجی مداخلت کو بھی سابق فوجیوں اور عوام نے رد کیا ہے۔ سروے کے مطابق 64 فیصد سابق فوجیوں اور 55 فیصد لوگوں نے امریکہ کی اس کارروائی کی مخالفت کی ہے۔

58 فیصد سابق امریکی فوجی اور 59 فیصد امریکی عوام افغانستان میں جنگ کے حامی نہیں ہیں۔ فوٹو روئٹرز

پیو ریسرچ سنٹر کے اس سروے میں اہم بات یہ ہے کہ ’امریکہ کی افغانستان اور عراق جنگ کی مخالفت کرنے والے سابق فوجیوں میں ان کی تعداد زیادہ ہے جنہوں نے ان جنگوں میں حصہ لیا اور ان فوجیوں کی تعداد کم ہے جنہوں نے ان جنگوں میں حصہ نہیں لیا۔‘
اس سروے میں غلطی کی گنجائش بہت کم ہے جو کہ سابق فوجیوں کے لیے 3.9 فیصد رکھی گئی ہے اور عام لوگوں کے لیے غلطی کا تناسب 3.1 فیصد ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں عام صدارتی انتخابات سے پہلے طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں سے امریکی فوجیوں کا انخلا ممکن ہو سکے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کا ایک دور حال ہی میں دوحہ میں ہوا جو چھ روز تک جاری رہا اور اس دوران دو روز کے لیے طالبان اور 70 افغان مندوبین کے درمیان بھی مذاکرات ہوئے۔

شیئر: