سٹائلش کرکٹر نذر محمد، جو عشق کے ہاتھوں کلین بولڈ ہو گئے

سنہ1947 میں برصغیر کی تقسیم سے پہلے ہی نذر محمد کی بیٹنگ کا شہرہ ہوگیا تھا۔
اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ میں تعلیم کے دوران وہ لاہور کے مشہور ممدوٹ کرکٹ کلب سے وابستہ ہوگئے۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخلے کے بعد ان کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ یہ تعلیمی ادارہ کرکٹ کا گڑھ تھا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کارداراور وکٹ کیپر امتیاز احمد بھی اسلامیہ کالج کے طالب علم تھے۔
سنہ 1945 میں اسلامیہ کالج میں نذر محمد کو قائد اعظم محمد علی جناح سے ملنے کا شرف حاصل ہوا، وہ واحد پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر ہیں جن کی بانیِ پاکستان کے ساتھ تصویر موجود ہے۔ 
تقسیم سے قبل گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج کے درمیان انٹرکالجیٹ مقابلوں کا کانٹے دار فائنل لاہور کی سماجی زندگی کا اہم واقعہ تھا۔ عوام اسے بڑے جوش وخروش سے دیکھنے آتے۔
اس ساری فضا کو ممتاز اداکار، صدا کار اور اینکر، ضیا محی الدین نے ادبی جریدے ’دنیا زاد‘ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں بڑے مؤثر پیرائے میں بیان کیا ہے، جس سے یہ ایک ٹکڑا ملاحظہ کریں:
’گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج کا سالانہ کرکٹ میچ دنگل بھی تھا اورجشن بھی، لوگ اسی شوق سے ہر سال یونیورسٹی کے میدان میں آتے جیسے کسی عرس میں جارہے ہوں۔ اصل میں یہ مقابلہ دو ٹیموں کا نہ تھا، یہ مقابلہ تھا لاہور کے دروازوں کے اندر رہنے والے باسیوں کا ان سے جو دروازوں کے باہر رہتے تھے، بعض اس کو کفر اور اسلام کی جنگ سمجھتے اور بعض دنگل کا اکھاڑہ۔‘
کالج اور یونیورسٹی کرکٹ سے باہر بھی نذر محمد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع ملا اور انھوں نے برصغیر کے اہم کرکٹ مراکز، بمبئی، دہلی، کراچی اور پٹیالہ میں اپنی بیٹنگ کے جوہر دکھائے۔ ناردن انڈیا کرکٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے رانجی ٹرافی کھیلے۔ مشہور کرکٹ ٹورنامنٹ پینٹینگولر میں مسلمان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی۔ 
نذر محمد کا شمار ان سٹائلش بیٹسمینوں میں ہوتا جو بولر کو خاطر میں نہ لاتے اور اپنے نیچرل انداز میں کھیلتے۔ مایہ ناز فاسٹ بولر فضل محمود نے اپنی آپ بیتی ’فرام ڈسک ٹو ڈان‘ میں دو واقعا ت کا ذکر کیا ہے جن سے نذر محمد کی دلاوری کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔
انھوں نے لکھا ہے کہ سنہ 1946 میں آسٹریلین سروسز الیون کے خلاف میچ میں نذر محمد نے نارتھ زون کی طرف سے کھیلتے ہوئے لاہور جم خانہ کرکٹ گراﺅنڈ میں معروف آسٹریلیوی فاسٹ بولر کیتھ ملر کے باﺅنسر پر شاندار ہک شاٹ کھیلا تو گیند پویلین کے کلاک سے لگا اور اس کا شیشہ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ ملر اس شاٹ پر بیٹسمین کو داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔
فضل محمود نے تقسیم سے پہلے ایک انٹر یونیورسٹی ٹاکرے کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ڈرنگ سٹیڈیم بہاولپور میں فاسٹ بولر دتو پھڈکر کا باﺅنسر ان کے ماتھے پر لگا اور انھیں میدان سے باہر جانا پڑا، طبی امداد ملنے کے بعد وہ دوبارہ کھیلنے کے لیے بیتاب ہوگئے۔
غصے میں خود کو برا بھلا کہتے رہے کہ معمولی سے بولر کے ہاتھوں وہ زخمی ہوگئے۔ وکٹ گری تو میدان میں دوبارہ اترے اور پھڈکرکو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا، مراد یہ کہ اس کے باﺅنسروں کو باﺅنڈری لائن کی راہ دکھائی۔
سنہ 1952 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سٹیٹس ملا تو امید تھی کہ اسے نذر محمد کے تجربے اور صلاحیت سے فائدہ پہنچے گا۔ حنیف محمد کی دریافت سے انھیں ایک اچھا اوپننگ پارٹنر بھی مل گیا۔ 

1950 کی دہائی کا پاکستانی کرکٹ سکواڈ

حنیف محمد نے سنہ 2015 میں ’ایکسپریس‘ اخبار کو انٹرویو میں بتایا:
نذر محمد میری بڑی ہمت بندھاتے۔ میں سکول بوائے تھا، اس لیے بڑا بن کر حوصلہ بڑھاتے۔ پنجابی میں کہتے ’گھبرانا نئیں، مینوں ویکھیں ، میں کس طراں کھیڈنا واں۔‘
سنہ 1952 میں پاکستان ٹیم دورہ ہندوستان پر روانہ ہوئی۔ دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم میں پاکستان ٹیم نے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ اپنے ملک کی طرف سے نذر محمد نے پہلی گیند کھیلی۔ پہلا رن بنایا۔ میچ پاکستان ہار گیا لیکن ہمت نہ ہاری۔
دوسرا ٹیسٹ لکھنئو میں تھا۔ پاکستان نے یہ میچ ایک اننگز سے جیت کر ٹیسٹ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کرلی۔ نذر محمد نے پاکستان کی طرف سے پہلی ٹیسٹ سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس پر بس نہ ہوئے اور بیٹ کیری کیا۔ ایک اور منفرد ریکارڈ یہ بنایا کہ میچ میں تمام وقت گراﺅنڈ میں موجود رہنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بنے۔ 
نذر محمد کے بیٹ کیری کرنے کے 30 برس بعد ان کے فرزند مدثر نذر نے ہندوستان کے خلاف سنچری بنائی اور باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بیٹ کیری بھی کیا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں کسی اور باپ بیٹے نے یہ اعزاز حاصل نہیں کیا۔ 
نذر محمد کی ایک خوبی جو پاکستانی کھلاڑی ہونے کے ناتے اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہے، وہ ان کا عمدہ فیلڈر ہونا تھا۔ وہ گلی پوزیشن کے بہت اچھے فیلڈر تھے۔ 
ہندوستان کے خلاف سیریز کا آخری ٹیسٹ کلکتہ میں ہوا جس کی پہلی اننگز میں نذر محمد نے 55 اور دوسری اننگز میں 47 رنز بنائے۔ اس وقت کون سوچ سکتا تھا کہ یہ ان کا آخری ٹیسٹ ثابت ہوگا۔ اس وقت یہی نظر آرہا تھا کہ ٹیم کو ایک لمبا عرصہ ان کا ساتھ میسر رہے گا لیکن ایک حادثے نے ان کا سفر کھوٹا کردیا۔ وہ صرف پانچ ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرسکے۔
کرکٹ کے نامور مبصر اور لکھاری ڈاکٹر نعمان نیاز نے اپنی کتاب 'THE FLUCTUATING FORTUNES' میں لکھا ہے کہ نذر محمد کے ساتھ حادثہ پیش نہ آتا تو وہ دس سال مزید پاکستان کے لیے کھیل سکتے تھے۔ 

نور جہاں کے ساتھ، نذر محمد کے مراسم شاہ نور سٹوڈیو میں پنجابی فلم ’چن وے‘ کی فلم بندی کے دوران استوار ہوئے

نذر محمد کے ساتھ جو حادثہ ہوا اس کا تعلق کرکٹ سے نہیں عشق کے میدان سے تھا۔ وہ کوئی یوں ہی سی تو نہ تھی جس نے نذر محمد کو مٹا ڈالا تھا بلکہ ملکہ ترنم نور جہاں تھیں۔ اس معرکہ عشق میں دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔
کرکٹ میں نذر محمد کے کمالات اپنی جگہ لیکن ان کی آواز بھی سریلی تھی۔ دورہ ہندوستان میں انھوں نے ایک محفل میں آواز کا جادو جگایا تو معروف گلوکار طلعت محمود نے بھی ان کی آواز کو سراہا۔ نورجہاں کے ان کی طرف التفات کی ایک وجہ ان کی آواز بھی تھی۔
ممتاز موسیقار فیروز نظامی ان کے بھائی تھے، اس لیے فلم نگری کی فضا ان کے واسطے اجنبی نہ تھی۔ نور جہاں کے ساتھ، نذر محمد کے مراسم شاہ نور اسٹوڈیو میں پنجابی فلم ’چن وے‘ کی فلم بندی کے دوران استوار ہوئے، جہاں ان کا آنا جانا رہتا ۔ یہ فلم نور جہاں کے شوہر شوکت حسین رضوی بنا رہے تھے۔
یہ 1953 کا سال تھا۔ اس فلم کے مکمل ہونے کے بعد بھی دونوں پیار کی پینگیں بڑھاتے رہے۔کچھ عرصے بعد لاہور میں ہنگامے شروع ہوگئے۔ حالات اتنے بے قابو ہوئے کہ مارشل لا لگانا پڑا۔ شہر میں کرفیو بھی لگ گیا۔
شیخ سعدی نے تو کہا ہے کہ دمشق میں ایک دفعہ ایسا قحط پڑا کہ لوگوں نے عشق کرنا چھوڑ دیا، لیکن لاہور میں کرفیو میں بھی کاروبارِعشق چلتا رہا، اسی لیے راجندر سنگھ بیدی نے کہا تھا: ’عشق کے لیے لاہور سے بہتر دنیا میں کوئی اور جگہ نہیں۔‘
نور جہاں نے وہ پاس حاصل کرلیا، جو اگر کسی کے پاس ہوتا تو اسے دورانِ کرفیو نقل وحرکت کی اجازت ہوتی۔ لیکن برا ہو عشق کا جو چھپائے نہیں چھپتا۔ نذر محمد اور نورجہاں کے ربط ضبط کی سن گن شوکت حسین رضوی کو ملی، اپنے ذرائع سے یہ بات کنفرم کرلینے کے بعد انھوں نے فیصلہ کن وار کا فیصلہ کیا۔ 
ممتاز صحافی علی سفیان آفاقی نے اپنی کتاب ’فلمی الف لیلہ‘ میں اس قصے کوکچھ یوں بیان کیا ہے:
’پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہندوستان کا پہلا دورہ کر کے واپس آئی تو اس میں اوپننگ بیٹسمین نذر محمد کی بہت واہ واہ ہو رہی تھی۔ نذر محمد نے ٹیسٹ میچ میں اوپننگ کرنے کے بعد آخری کھلاڑی تک کے ساتھ کھیلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا اور پھر بھی آؤٹ نہیں ہوئے تھے۔ ہر طرف ان کے کھیل کی دھوم تھی۔ وہ فضل محمود کی طرح قومی ہیرو بن گئے تھے۔ خوش شکل اور مردانہ شخصیت کے مالک تھے۔ باتیں بہت دلچسپ کرتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موسیقی کے دلدادہ تھے اور خود بھی بہت سُریلے تھے۔ سننے میں آیا کہ میڈم نور جہاں کی ان سے ملاقات ہوئی تو یہ سلسلہ باقاعدہ ملاقاتوں تک پہنچ گیا یہاں تک کہ دوسری جگہوں پر بھی ملاقاتیں ہونے لگیں۔
ایک روز میڈم نور جہاں ان سے ملاقات کے لیے گئی ہوئی تھیں کہ کسی کھوجی نے شوکت صاحب کو خبر دے دی۔ شوکت صاحب آگ بگولا ہو کر مخبر کے ہمراہ گئے۔ اس گھر پر پہنچے تو میڈم نور جہاں وہاں موجود تھیں مگر نذر محمد کا نام و نشان تک نہ تھا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ شوکت صاحب کے گرجنے کی آواز سنی تو نذر محمد نے مکان کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی اور اپنا ایک بازو تڑوا بیٹھے۔ اس طرح پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک مایہ ناز کھلاڑی سے محروم ہو گئی۔
نذر محمد ڈاکٹروں کے پاس جانے کے بجائے جراحوں اور پہلوانوں کے چکّر میں رہے جس کی وجہ سے بازو کی ہڈّی ہمیشہ کے لیے خراب ہو گئی اور وہ پھر کرکٹ نہ کھیل سکے(نذر محمد نے انگلینڈ میں سپیشلشٹ ڈاکٹر سے بھی علاج کرایا لیکن بازو اس قابل نہ ہوسکا کہ وہ کرکٹ جاری رکھ سکیں) البتہ انھوں نے اپنے فرزند مدثر نذر کی صورت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک نامور کھلاڑی کا تحفہ ضرور پیش کر دیا۔

مدثر نذر، نذر محمد کے صاحبزادے ہیں۔ تصویر: گیٹی امیجز

اب شوکت صاحب اور نور جہاں کا قصہ سنیے۔ شوکت صاحب نے اس مکان میں نور جہاں کو پا لیا مگر نذر محمد موجود نہ تھے۔ میڈم نور جہاں نے اپنی صفائی میں یہ کہا کہ وہ اپنی عزیز سہیلی سے ملنے کے لیے آئی تھیں لیکن شوکت صاحب کا دل صاف نہ ہوا۔ انھوں نے بُرا بھلا کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور غصے میں نور جہاں کو وہیں چھوڑ کر واپس چلے آئے۔
اگلے ہی روز نذر محمد کا بازو ٹوٹ جانے کی خبر بھی عام ہو گئی۔ اس زمانے میں دنیا بہت سمٹی ہوئی تھی۔ ہر بات پَل بھر میں عام ہو جایا کرتی تھی۔ میڈم نور جہاں تو اس واقعے کی تردید ہی کرتی رہیں مگر شوکت صاحب کو یقین نہ آیا۔ وہ غصّے میں پیچ و تاب کھاتے ہوئے واپس لوٹ گئے اور سب کو بتایا کہ وہ نور جہاں کی صورت تک نہیں دیکھنا چاہتے۔‘
شوکت حسین رضوی کا بیان علی سفیان آفاقی سے اس اعتبار سے مختلف ہے کہ انھوں نے ’نور جہاں کی کہانی، میری زبانی‘ (یہ کتاب منیر احمد منیر کے شوکت حسین رضوی سے طویل انٹرویو پر مشتمل ہے) میں بتایا ہے کہ وہ اسلامیہ پارک میں واقع مکان میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گئے تو وہاں انھوں نے نور جہاں کے ساتھ نذر محمد کو موجود پایا، انھیں دیکھ کر نذر محمد گھبرا کر کھڑکی سے باہر کود گیا جو زمین سے تقریباً پچیس فٹ اونچی تھی۔ شوکت رضوی کے بقول ’.... اس وقت اگر میرے پاس پستول ہوتا تو میں نور جہاں اور نذر دونوں کو گولی مار دیتا۔‘
اس واقعے کے بعد مکان کے باہر خوب تماشا لگا۔ لوگ جمع ہوگئے۔ ڈرامے کے سب کرداروں کی تھڑی تھڑی ہوئی۔ کریسنٹ فلمز کے میاں احسان، نور جہاں کو وہاں سے لے گئے تو معاملہ ٹھنڈا ہوا۔
نذر محمد کا بازو ٹوٹ گیا اور ان کا کرکٹ کیریئر اختتام کو پہنچا۔ ممتاز صحافی خالد حسن کے بقول ’نذر محمد پھر کبھی کرکٹ کا بلا نہ تھام سکا اور شاید پاکستان کی کرکٹ کے لیے یہ سب سے بڑا المیہ تھا۔‘

شیئر: