’دونوں ممالک ایک ہی وجہ سے اکھٹے جشن منا رہے ہیں‘

انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے فیصلہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی گرما گرم بحث جاری ہے جس میں پاکستانی اور انڈین صارفین اس فیصلے کو اپنے اپنے ملک کی فتح اور دوسرے ملک کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔
جہاں کچھ سوشل میڈیا صارفین کلبھوشن جادھو کی تصویریں اور ان کے اعترافی بیان کی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں تو کچھ لوگ اس کیس کو لڑنے والے ججز کی تصویریں بھی ٹویٹ کر رہے ہیں۔
پاکستانی صارف محسن نصیر نے انڈین جاسوس کی تصویر پینٹ ہوئے کپ کے ساتھ لکھا کہ ’فیصلہ فینٹاسٹک ہے انڈیا کے لیے نیا سرپرائز ہے۔‘

 
انڈیا کی پورنیما شیٹی نے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کی تصویر شیئر کی ہے جس میں انہوں نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’آپ کے فارن آفس کے ڈاکٹر فیصل اس طرح خوشی مناتے ہوئے۔‘

 

ماریہ نامی پاکستانی صارف نے پورنیما کی ٹویٹ کا جواب بھی ایک تصویر شیئر کر کے ہی دیا جس میں انڈین وکیل نے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے لکھا ہے کہ ’ان کے وکلا رو رہے ہیں اور انڈین خوش ہو رہے ہیں۔‘

 

ایک پاکستانی ٹوئٹر صارف تنزیل رانا نے لکھا کہ انڈین ساتھی یہ بتائیں کہ اگر آپ مقدمہ جیت گئے ہیں تو پھر کلبھوشن پاکستان کی حراست میں کیوں ہے؟ دراصل عالمی عدالت انصاف نے انڈیا کو قونصلر رسائی کی صورت میں لالی پوپ دیا ہے۔

انڈین صارف امبیکا کھنہ نے ٹویٹ کیا کہ یہ فیصلہ انڈیا کی کامیابی ہے اور انڈیا کو قونصلر رسائی ملنا اس کا حق ہے۔ تاہم کیس پر نظر ثانی کے حوالے سے عدالت نے واضح نہیں کیا کہ یہ سویلین عدالت سنے گی یا فوجی عدالت۔
 

پاکستان کے سن شائن نامی ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا کہ ایک چیز تو واضح ہے کہ سفارتی محاذ پر ’نیا پاکستان‘ جیت رہا ہے، لیکن ساتھ ریکو ڈک ذخائر کیس میں پاکستان کی ہار کا بھی زکر کیا۔

 

 

عزیر الطاف نامی صارف نے لکھا کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ہی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر جشن منا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حقیقی فاتح کون ہے؟ اگر کلبھوشن کو پھانسی دی گئی تو یہ پاکستان کی کامیابی ہو گی، اور اگر انہیں انڈیا بھیج دیا جاتا ہے یا سزائے موت پر کوئی ریلیف ملتا ہے تو پھر یہ انڈیا کی کامیابی ہو گی۔

 
انڈین صارف ابھی ناو کمار لکھتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان دونوں اس فیصلے کو اپنی اپنی جیت ظاہر کر رہے ہیں، اچھی بات یہ ہے کہ دونوں ممالک ایک ہی وجہ سے اکٹھے جشن منا رہے ہیں۔

 

عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر پاکستان کے ہیپی نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا ’ انصاف مل گیا، شکر الحمد للہ۔‘ 

انڈیا سے تعلق رکھنے والی ٹوئٹر صارف شویٹا شالنی لکھتی ہیں ’ کلبھوشن جادھو کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہو جائیے۔‘

 

 

شیئر: