تعلیم کے لیے صرف پیسہ ضروری؟ سوشل میڈیا پر بحث

ایک صارف کا کہنا تھا کہ وہ تمام لوگ جو لمز جاتے ہیں انہیں ان لوگوں کی نسبت اونچا مقام ملتا ہے: فائل فوٹو
سوشل میڈیا پر کون سی یونیورسٹی کس یونیورسٹی سے اور کس وجہ سے بہتر ہے کی بحث چل رہی ہے۔
اس بحث کا آغاز تب ہوا جب لاہور میں موجود پاکستان کی مشہور یونیورسٹی لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) سے تعلیم حاصل کرنے والے ایک ٹوئٹر صارف محمد علی رضا نے ایک خاتون کی ٹویٹ پر ایسا جواب دیا جس کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین نے نہ صرف انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ لمز کا ہیش ٹیگ  ٹویٹر پر ٹریند بھی ہو رہا ہے۔
ایک خاتون ٹوئٹر صارف نے ٹویٹ کی تھی کہ اگر کوئی لمز میں تعلیم حاصل کر رہا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ بہت ذہین یا کوئی دانشور ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے والد اس یونیورسٹی کی فیس ادا کر سکتے ہیں ۔
اس ٹویٹ کے جواب مین علی رضا نام کے لمز کے طالب علم نے لکھا کہ لمز میں پڑھائی کر نے کے لیے پیسے کی نہیں بلکہ ’کلاس‘ کی ضرورت ہوتی ہے اور پیسے سے ’کلاس‘ نہیں خرید ی جا سکتی ۔
علی رضا کے اس جواب پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غصے کا اظہار کیا۔ سمیع یوسف نام کے ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’آپ کو خود پر ’شرم آنی چاہیے‘ آپ سے زیادہ کلاس مجھے اپنے گھر کے چوکیدار میں نظر آتی ہے کیونکہ کلاس پیسے سے نہیں خریدی جا سکتی۔  میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے خیالات پر غور کر کے انہیں بدلنے کی کوشش کریں گے لمز کے لیے بھی اور خود کے لیے بھی!‘
سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ اگر لمز اس قسم کے طالب علم تیار کر رہی ہے تو پھر ہمیں تعلیمی اداروں کی  ایڈمیشن پا لیسی پر سخت نظر ثانی کی ضرورت ہے اور میرے خیال سے داخلے سے قبل  SAT کے بجائے اگر اخلاقیات کا ٹیسٹ لیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
SAT ایک امتحان کا نام ہے جو یونیورسٹی اور کالجوں میں داخلے کے لیے دیا جاتا اور جس کا زیادہ تر استعمال امریکہ میں ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا غصہ دیکھتے ہوئے علی رضا نے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا جس میں انہوں نے اپنا موقف بیان کرتے ہو ئے کہا کہ میرے ایک ٹویٹ پر لوگ بہت غصہ کر رہے ہیں جس میں میں نے کہا تھا کہ لمز میں پڑھنے والا ہر بندہ امیر نہیں ہو تا۔
’لمز ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے بہت سے دانشور ، سی ایس ایس کے امتحان میں اول نمبر لینے والے افراد اور ذہین طلبہ بھی پاس آوٹ ہوتے ہیں ۔ لیکن یہ قسمت کی بات ہوتی ہے کچھ لوگوں کو داخلہ مل جاتا ہے اور کچھ کو نہیں۔ مگر انہی میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو داخلہ نہ ملنے کی صورت میں اسے ذہنی طور پر تسلیم نہیں کر پاتے اور ان تمام لوگوں کی جگہ یہاں ہے اس کچرے کی ڈھیر میں۔‘
علی رضا کے اس ویڈیو بیان کے سامنے آتے ہی انہیں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ایک مرتبہ پھر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
سعد نام کے صارف کا کہنا تھا کہ اگر علی رضا جیسے لوگ لمز سے تعلیم حاصل کر تے ہیں تو پھر انہیں اپنی پڑھائی پر فخر ہے۔
طیب نے کہا کہ لمز سے پڑھ کر خود کو ذہیں سمجھنا تکبر کی علامت ہوگا۔
بینش خانزداہ نے کہا کہ اس کا تعلق ذہین ہونے سے زیادہ پیسے سے ہے۔ وہ تمام لوگ جو لمز جاتے ہیں انہیں یقینی طور پر امتیازی مقام ان لوگوں کی نسبت زیادہ ملتا ہے جو کچھ وجوہات کی وجہ سے لمز نہیں جا پاتے۔
سماجی کارکن نداکرمانی کا کہنا تھا کہ لمز میں داخلے کے لیے صرف پیسہ ضروری نہیں لیکن جب عوام کے لیے معیاری تعلیم کا وجود نہ ہونے کے برابر ہو تب ضرور پیسے سے راستہ بنتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لمز میں چند ایسے طلبا بھی پڑھتے ہیں جن کا تعلق اونچی کلاس سے نہیں ہوتا لیکن بہت سے طلبا کے لیے کلاس معنی رکھتا ہے۔   
اعزاز خالد کا کہنا تھا کہ آپ کی ویڈیو دیکھ کے  شکر کررہا ہوں کہ لمز میں داخلہ لینے کی کوشش نہیں کی۔
 

شیئر: