سعودی فلم پہلی بار گولڈن لائن لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی دوڑ میں

ہیفا المنصور کے علاوہ سعودی عرب کی ایک اور ہدایت کار خاتون شہد امین بھی وینس کے انٹرنیشنل فلمی میلے میں شریک ہو رہی ہیں۔ فوٹو: سی این این
انٹرنیشنل وینس فلمی میلے نے سعودی فلم ’المرشحہ المثالیہ (مثالی امیدوار)‘ کو 76ویں مقابلے میں ’گولڈن لائن لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ کے لیے نامزد کر لیا ہے۔
اس ایوارڈ کی دوڑ میں سعودی فلم سمیت 14 دیگر بین الاقوامی فلمیں شامل کی گئی ہیں۔ یہ فلمی دنیا میں معتبر ایوارڈ مانا جاتا ہے۔ پروگرام کے مطابق فلمی میلے کا آغاز 28 اگست کو ہو گا اور 7 ستمبر تک جاری رہے گا۔
سعودی سینما کی تاریخ میں پہلی بار کسی سعودی فلم کو وینس کے اس فلمی مقابلے میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔
خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق معروف ہدایت کار خاتون ہیفاء وہبی کی اس فلم میں ایک ایسی سعودی خاتون کی کہانی پیش کی گئی ہے جس نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی ٹھانی تھی۔ ہیروئنز کا کردار میلا الزہرانی اور نورہ العوض نے ادا کیا ہے۔


سعودی سینما کی تاریخ میں پہلی بار کسی فلم کو اس مقابلے میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔ فوٹو: سی این این

سکرپٹ براد نیمن اور ہیفاء المنصور نے ترتیب دیا ہے جبکہ تمام فلمی مناظر کی عکسبندی سعودی عرب میں ہی ہوئی ہے۔
ہیفاء المنصور 2012ءکے دوران وینس کے انٹرنیشنل فلمی میلے میں ’وجدہ‘ فلم پیش کر چکی ہیں۔ اس مرتبہ وہ نئی فلم ’مثالی امیدوار‘ کے ساتھ ایوارڈ جیتنے کے لیے میلے میں شرکت کر رہی ہیں۔
ہیفا المنصور کے علاوہ سعودی عرب کی ایک اور ہدایت کار خاتون شہد امین بھی وینس کے انٹرنیشنل فلمی میلے میں شریک ہو رہی ہیں۔ یہ ’سیدةالبحر (سمندر کی ملکہ )‘ نامی فلم پیش کر رہی ہیں۔
ان کی فلم باقاعدہ مقابلے میں شامل نہیں البتہ اس موقعے پر ’بین الاقوامی ناقدین کا ہفتہ‘ بھی منایا جائے گا جس کے مقابلے میں ان کی شریک ہوں گی۔
اس فلم کی کہانی ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو اپنے ارد گرد گردش کرنے والی افسانوی کہانیوں کا مقابلہ دلیری کے ساتھ کرتی ہے۔ 

شیئر: