Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بحیرۂ روم میں طوفان سے متعدد کشتیاں لاپتہ، ’سینکڑوں تارکین کی ہلاکت کا خدشہ‘

رپورٹس کے مطابق طوفانی کیفیت کے باعث 10 روز میں کئی کشتیاں ڈوبیں (فوٹو: روئٹرز)
اقوام متحدہ کے ادارے برائے امیگریشن نے بحیرۂ روم میں سینکڑوں افراد کے ڈوب کر ہلاک یا لاپتہ ہونے کے خدشات ظاہر کیے ہیں کیونکہ خراب موسم کی وجہ سے پچھلے 10 روز کے دوران کئی بحری جہاز ڈوبنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو جاری ہونے والے بیان میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے کہا ہے کہ ’حتمی ہلاکتوں کی تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے جس سے یہ تلخ یاددہانی ہوتی ہے کہ یہ ہجرت کے لیے دنیا کی مہلک ترین گزرگاہ ہے۔‘
بیان کے مطابق ’تیونس کے قریب ڈوبنے والی ایک کشتی میں اٹلی سے تعلق رکھنے والے تین افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں 9 برس کی دو جڑواں بہنیں بھی شامل ہیں جبکہ ان کی والدہ کو بچا لیا گیا۔ اسی واقعے میں ایک اور شخص کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔‘
اسی کشتی پر سوار بچائے گئے دیگر افراد کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ہی ایک اور کشتی بھی روانہ ہوئی تھی تاہم بعد میں وہ لاپتہ ہو گئی اور ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔
ادارے کی جانب سے اس اس کشتی کے بھی ڈوبنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ’پچھلے 10 روز کے دوران سمندر میں شدید طوفان آئے اور یہ حتمی امکان موجود ہے کہ ایسی کافی کشتیاں ان کی لپیٹ میں آنے کے بعد لاپتہ ہوئیں جن پر سینکڑوں کی تعداد میں لوگ سوار تھے جبکہ خراب موسم کی وجہ سے ان کی تلاش کے کام میں بھی کافی رکاوٹیں آتی رہیں اور ان کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔
ایجنسی کی جانب سے ایک اور کشتی پر سوار چند افرد کو بچائے جانے کی بھی تصدیق کی گئی ہے ان لوگوں کو مالٹا کے قریب ایک تجارتی جہاز کے عملے نے بچایا۔
اسی مقام کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہاں پر کم از کم 50 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں۔
اسی طرح لیبیا کے علاقے توبروک کے قریب ایک کشتی ڈوبنے پر 51 افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

آئی او ایم کے مطابق 2025 میں بحیرۂ روم کے وسطی حصے میں کم سے کم ایک ہزار 340 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

آئی او ایم کے مطابق ’تارکین وطن کی سمگلنگ اور کشتیوں پر گنجائش سے زیادہ افراد سوار کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔‘
اس کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سمندر میں شدید طوفان کے وقت لوگوں کو روانہ کرنا اس سے بھی زیادہ قابل مذمت ہے یہ جان بوجھ کر لوگوں کو ایسی سمت میں روانہ کرنے کے مترادف ہے جہاں موت سامنے ہوتی ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران بحیرۂ روم کے وسطی حصے میں کم سے کم ایک ہزار 340 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔
خیال رہے تیسری دنیا کے ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ انسانی سمگلروں کی وساطت سے غیرقانونی طور پر سمندری راستے سے یورپ جانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

 

شیئر: