Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خواب دیکھتے رہیں‘، نیٹو چیف نے امریکہ کے بغیر یورپ کے دفاع کو ناممکن قرار دے دیا

گرین لینڈ کے معاملے پر صدر ٹرمپ اور یورپی حکام کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
یورپی ممالک کے اتحاد نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے خبردار کیا ہے کہ یورپ امریکہ کی مدد کے بغیر اپنا تحفظ نہیں کر سکتا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی اور ایسے مطالبات سامنے آئے کہ براعظم کو اپنے دم پر چلنا چاہیے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے ہفتے مارک روٹے کے ساتھ بات چیت کے بعد ڈنمارک کے خودمختار علاقے پر قبضے کی دھمکی دی جس پر اٹلانٹک اتحاد میں شدید ہلچل پیدا ہوئی۔
سفارتی سطح پر پیدا ہونے والے اس بحران کے بعد یورپ کی وکالت کرنے والوں کی جانب سے ایسی آرا میں تیزی آئی کہ اسے ٹرمپ کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا اور واشنگٹن پر فوجی انحصار ختم کرنا چاہیے۔
مارک روٹے نے پورپین پارلیمنٹ میں قانون سازوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہاں کسی کا یہ خیال ہے کہ یورپ یا یورپی یونین امریکی مدد کے بغیر اپنا تحفظ کر سکتا ہے تو وہ یہ خواب دیکھتا رہے، مگر ایسا ممکن نہیں۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’یورپی یونین میں شامل ممالک کو اپنے دفاعی اخراجات کو پانچ سے بڑھا کر 10 فیصد کرنا ہو گا اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر بھی اربوں خرچ کرنا ہوں گے۔‘
ان کے مطابق ’آپ اپنی آزادی کے حتمی ضامن سے محروم ہو جائیں گے جو کہ امریکہ کی جوہری چھتری ہے۔ اگر یہ منظور ہے تو گُڈ لک۔‘

صدر ٹرمپ کے بیانات پر گرین لینڈ میں سخت احتجاج بھی ہوا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

سابق ڈچ وزیراعظم نے یہ اصرار بھی کیا کہ امریکہ کی نیٹو کے تحفظ کی شق فائیو پوری طرح فعال ہے مگر امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ یورپی ممالک اپنی فوجوں پر خرچ بڑھائیں۔
’ان کو ایک محفوظ یورو اٹلانٹک کے ساتھ ساتھ محفوظ یورپ بھی چاہیے اسی لیے امریکہ نیٹو میں بہت دلچسپی رکھتا ہے۔‘
وہ رواں ماہ کے آغاز میں یورپی یونین کے ڈیفنس کمشنر اینڈرس کوبیلیس کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے نظر آئے جو ایسی ممکنہ دفاعی قوت سے متعلق ہے جو براعظم میں امریکی فوجیوں کی جگہ لے سکے۔
’اس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گی، میرے خیال میں ولادیمیر پوتن اس سے محظوظ ہوں گے اس لیے ایک بار پھر سوچ لیں۔‘
گرین لینڈ کے حوالے سے مارک روٹے نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نیٹو آرکٹک اتحاد کے دفاع کی زیادہ ذمہ داری لے گا لیکن جزیرے پر امریکی آمد پر بات چیت کا معاملہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام پر منحصر ہے۔
’میرے پاس ڈنمارک کی جانب سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں اس لیے میں نے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کروں گا۔‘
خیال رہے امریکی صدر ٹرمپ ڈنمارک کے زیرانتظام آنے والے جزیرے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں جس پر یورپ اور امریکہ کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے جبکہ گرین لینڈ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج بھی ہوئے ہیں۔

شیئر: