’وزیراعظم کا ٹویٹر پر ان فالو کرنا اعزاز کی بات ہے‘

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے معروف صحافی حامد میر کو ٹویٹر پر ان فالو کر دیا ہے جس کے بعد صحافتی حلقوں اور اور سوشل میڈیا پر اس بحث نے جنم لیا ہے کہ آخر وزیر اعظم نے ایسا کیوں کیا؟
خیال رہے  کہ اس سے قبل عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کل 19 ہینڈلز کو فالو کیا جا رہا تھا جن میں سے ایک حامد میر بھی تھے تاہم اب وزیر اعظم کی اس لسٹ میں صرف 18 ٹویٹر ہینڈلز رہ گئے ہیں۔
آج صبح ’سیاست بوٹ‘ نامی ایک ٹویٹر ہینڈل نے ٹویٹ کی کہ عمران خان کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے حامد میر کو ان فالو کر دیا گیا۔

اردو نیوز نے حامد میر سے رابطہ کیا تو انہوں نے ان فالو کیے جانے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا ہے ’ایک صحافی کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ایک سیاست دان اپوزیشن میں ہو کر اسے فالو کرے لیکن حکومت میں آنے کے بعد ان  فالو کر دے۔‘
مزید بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں کہتا ہوں میڈیا پر پابندیاں ہیں مگر وہ یہ بات ماننے کو تیا ر نہیں۔ ‘
حامد میر کو ان فالو کیے جانے کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ کسی نے ان فالو کیے جانے کی حمایت کی تو کسی نے تنقید کے نشتر برسائے۔

ٹوئٹر صارف بالاج منہاس نے لکھا کہ یہ تو ایک بریکنگ نیوز ہے۔
مہوش بھٹی نے کہا کہ ’یہ کیا ہوا، لگتا ہے پکی دوستی ختم ہو گئی۔‘
ایک اور ٹویٹر صارف نوید زیدی بھی میدان میں کودے اور لکھا کہ ’حامد میر سے دوستی ختم اور اب  صابر شاکر نئے دوست ہیں۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ کچھ دنوں سے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر موجودہ حکو مت پر شدید تنقید کرتے نظر آرہے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے انہیں ان فالو کر دیا ہے۔
ایک ٹویٹر صارف معیز قریشی نے لکھا کہ فالو ان فالو کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ آپ کی سوچ بتا رہی ہے کہ آپ کو تنقید پسند نہیں ہے۔‘
’جو حق پے ہے وہ سچ پے ہے۔ بس اب تنقید برداشت نہیں کر سکتے، لولز۔ چلو اب اس کے بدلے صابر شاکر کو جلدی فالو کرو۔ وہ تو تمہاری تعریف کرتا اور تمہارے سائیڈ دیتا اب ان کو فالو تو بنتا ہے۔‘
انکڈو نامی ٹویٹر ہینڈل نے میر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میر نے خان صاحب کے خلاف بہت سخت باتیں کیں۔

شیئر: