کرکٹ تاریخ کی پہلی ٹیسٹ چیمپیئن شپ

آسٹریلیا اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے مابین یکم اگست 2019ءسے ایشز سیریز شروع ہونے کے ساتھ ہی کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ٹیسٹ چیمپیئن شپ شروع کرنے کا مقصداس کھیل کو پرانے اور طویل فارمیٹ میں زندہ رکھنا ہے جہاں ٹی ٹوئنٹی اور ٹی 10کرکٹ کے بعد ٹیسٹ کرکٹ دم توڑتی نظر آرہی تھی ۔
آئی سی سی کی ویب سائٹ کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں شامل 12 ٹیموں میں سے 9 ٹیمیں ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں حصہ لے رہی ہیں ۔اس چیمپیئن شپ میں جون 2021ء تک مجموعی طور پر27سیریز کھیلی جائیں گی۔ اس میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے علاوہ پاکستان، انڈیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کی ٹیمیں شامل ہیں۔ پہلے اور دوسرے نمبر پر رہنے والی ٹیموں کے درمیان فائنل کے ذریعے فاتح کا فیصلہ ہوگا۔اس سے قبل آئی سی سی نے ٹیسٹ کرکٹ میں رینکنگ سسٹم لاگو کر رکھا ہے ، ہر سال یکم اپریل کو نمبر ون ٹیم کو ٹرافی اور نقد انعام دیا جاتا ہے۔اس وقت انڈیا کی ٹیم 113کی ریٹنگ کے ساتھ رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ نیوزی لینڈ111کے ساتھ دوسرے اور جنوبی افریقہ 108کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے ، پاکستان کی ٹیم انگلینڈ ، آسٹریلیا اور سری لنکا کے بعد ٹیسٹ رینکنگ میں 84کی ریٹنگ کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے ۔

ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں اس طریقے کے تحت پوائنٹس سسٹم اور ٹیسٹ کی تعداد سے پوائنٹس تقسیم ہوں گے(فوٹو: ای ایس پی این)

ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں میچ کی فاتح ٹیم کیلئے پوائنٹس سسٹم
یہ چیمپیئن شپ پوائنٹس سسٹم پر کھیلی جائے گی ہر سیریز کے لئے120پوائنٹس رکھے گئے ہیں ، سیریز کے مطابق دو یا پانچ ٹیسٹ میچ پر پوائنٹس تقسیم ہوں گے۔ اگر سیریز میں دو ٹیسٹ ہیں تو میچ جیتنے کیلئے 60پوائنٹس جبکہ پانچ ٹیسٹ کی سیریز میں میچ جیتنے کیلئے 24 پوائنٹس رکھے گئے ہیں۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں ہر ٹیم دوسے پانچ ٹیسٹ میچوںکی تین، تین سیریز کھیلے گی جو ہوم اور اوے کی بنیاد پر ہوں گی۔ تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں آسکیںگی، ہر سیریز بھی ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ نہیں ہو گی کچھ سیریز فیوچر ٹور پروگرام کے تحت بھی کھیلی جائیں گی۔اس کا فیصلہ کرکٹ بورڈز کریں گے کہ فیوچر ٹور پروگرام کے تحت کون سی سیریز کھیلی جائے۔
 ٹیسٹ میچ ٹائی ہونے کی صورت میںفتح سے آدھے پوائنٹس دئیے جائیں گے۔ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں سلو اوور ریٹ پر آئی سی سی کے نئے قانون کے تحت دو پوائنٹس فی اوور کے حساب سے کٹ جائیں گے۔اگر میچ ڈرا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں فتح کے ’ایک تہائی‘ پوائنٹس ہر ٹیم کو دے دیے جائیں گے، مثلاً ایشز سیریز کا ایک ٹیسٹ ڈرا ہونے پر ہر ٹیم کو 8 اور دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 20 پوائنٹس دیے جائیں گے۔

دو سال تک جاری رہنے والی ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں 9ٹیموں کے مابین 27سیریز کھیلی جائیں گی(فوٹو: ای ایس پی این)

چیمپیئن شپ کی دو بہترین ٹیموں کا تعین بھی پوائنٹس پر ہوگا اور سرفہرست دو ٹیموں میں فائنل جون 2021 میں کھیلا جائے گا۔ فائنل میچ ڈرا یا ٹائی ہونے کی صورت میں دونوں ٹیموں کو فاتح قرار دے دیا جائے گا تاہم اگر بارش کی وجہ سے وقت ضائع ہو تو میچ کیلئے ریزرو ڈے رکھا گیا ہے ۔زمبابوے ٹیم کو آئی سی سی کی جانب سے ٹیسٹ میں معطل کئے جانے کے علاوہ دونوں نوارد ٹیموں کے پاس ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں شمولیت کیلئے درکار پوائنٹس نہیںجس کے باعث ان تین ٹیموں کو ٹیسٹ چیمپیئن شپ سے باہر رکھا گیا ہے۔
انڈیا کی ٹیم اگست میں ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں ہوگی جبکہ اس دوران سری لنکا اور نیوزی لینڈ دو ، دو ٹیسٹ میچوں کیلئے آمنے سامنے ہوں گے۔پاکستان کی ٹیم نومبر میں آسٹریلیا میں دو ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔نومبر میں ہی انڈیا اور بنگلہ دیش مدمقابل ہوں گے۔چیمپیئن شپ کے پہلے سال مارچ 2020تک پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف دو جبکہ انڈیا کو ویسٹ انڈیز سے دو، جنوبی افریقہ سے 3، بنگلہ دیش سے 2اور نیوزی لینڈ سے دو میچ کھیلنا ہوں گے۔
 

شیئر: