ٹیگور کو گاندھی سے اختلاف، اقبال سے شکوہ

رابندر ناتھ ٹیگور نے 1913 میں ادب کا نوبیل انعام حاصل کیا۔ 106 برس بیت گئے، برصغیر میں یہ سرفرازی کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔
شاعر کا کلام کسی ایک ملک کا قومی ترانہ قرار پائے تو یہی اس کے لیے بڑے افتخار کی بات ہے، ٹیگور کے لیے اور بھی فخر کی بات ہے کہ دو ملکوں، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ان کے گیت قومی ترانے کے طور پر رائج ہیں۔ 
انگریز سرکار نے 1915 میں انہیں ’سر‘ کا خطاب دیا جو 1919 میں سانحہ جلیانوالہ باغ کے بعد احتجاجاً انہوں نے لوٹا دیا۔ وائسرائے کو خط میں لکھا  کہ انہیں ظلم کے ضابطے قبول نہیں۔ وہ تاریخی خط جو ایک سچے تخلیق کار کے ضمیر کی آواز ہے، اس میں سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’پنجاب میں ہمارے بھائیوں نے جو ذلتیں اور تکلیفیں اٹھائی ہیں ان کی روداد، ہر طرح کی زباں بندی کے باوجود، ہندوستان کے کونے کونے تک پہنچ چکی ہے اور ایک ہمہ گیر غم و غصے نے ہمارے عوام کے دلوں کو چھلنی کر دیا ہے، میں ان حالات میں اپنے ملک کی کوئی حقیرسی خدمت کر سکتا ہوں تو وہ یہی ہے کہ میرے دہشت زدہ ہم وطنوں کے دلوں میں جو آگ سلگ رہی ہے اور اس سے احتجاج کی جو لہریں اٹھ رہی ہیں ان میں اپنی آواز بھی ملا دوں۔ آپ کی طرف سے ہمارے سینوں پر لگائے ہوئے اعزازی تمغے ہماری تحقیر کا منہ بولتا ثبوت بن چکے ہیں کیونکہ ایک طرف آپ قومی سطح پر ہماری تذلیل کرتے ہیں اور دوسری طرف انفرادی طور پر عزت افزائی، میرے لیے اب یہی راستہ ہے کہ میں ایسے تمام خصوصی اعزازات سے اپنے آپ کو پاک کر لوں اور جا کر اپنے ان ہم وطنوں کی صف میں کھڑا ہو جاؤں جن کی، بقول کسے، کوئی حیثیت نہیں اور جن کے ساتھ وہ ذلت آمیز سلوک کیا جاتا ہے جو سراسر غیر انسانی ہے۔‘

انگریز سرکار نے 1915 رابندر ناتھ ٹیگور کو ’سر‘ کا خطاب دیا

رابندر ناتھ ٹیگور سات مئی 1861 کو کلکتہ میں بنگال کے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے نام کے ساتھ ٹیگور کا لاحقہ لفظ ’ٹھاکر‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔
گھر کا ماحول ادب پرور اور فنون لطیفہ میں بڑھنے چڑھنے کے لیے نہایت سازگار تھا۔ ان کے بڑے بھائی پہلے ہندوستانی تھے جنھوں نے آئی سی ایس کا امتحان پاس کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متمول خاندان جدید دور کے تقاضے سمجھ رہا تھا، خیر یہ بڑے عہدے اور مال ودولتِ دنیا اپنی جگہ لیکن وہ جو شاعر نے کہا ہے کہ 
’فخر ہوتا ہے گھرانے کا سدا ایک ہی شخص‘ 
تو وہ شخص ٹیگور تھے جن کے سامنے سب کی کامرانیاں ماند پڑ گئیں اور انہیں وہ رفعت ملی جس کی کوئی مثال نہیں۔
شاعری کی للک انہیں بچپن سے تھی۔ آٹھ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیا۔ ان کے خاندان کا اپنا ادبی جریدہ تھا۔ اس میں لکھنے لگے۔ بھائی اور بھابی نے خوب حوصلہ افزائی کی۔ سکول کالج کی رسمی تعلیم سے چڑ تھی۔ اس میں ان کا جی کبھی نہ لگا۔
بیرسٹری کی تعلیم حاصل کرنے گئے مگر ان کا تخلیقی ذہن اس سلسلہِ تعلیم سے نباہ نہ کرسکا اور بے نیلِ مرام وطن لوٹ آئے۔ ساری توجہ لکھنے پر مرکوزکرلی، جم کر لکھا، خوب لکھا۔ پذیرائی بھی ہوئی۔ شاعری، ڈراما، فکشن، مضامین ان سب اصناف میں رواں تھے۔ 

رابندر ناتھ ٹیگور 1912 میں لندن روانہ ہوئے تو ” گیتان جلی “ کی نظموں کا انگریزی ترجمہ ان کے ساتھ تھا

1890 میں نظموں کی کتاب ’مانسی ‘کی اشاعت سے بطور شاعر انہیں صحیح معنوں میں پہچان ملی۔ اس کے بعد اور بھی تخلیقی کام سامنے آیا۔ 
1910 میں نظموں کی کتاب ’گیتان جلی‘ ادبی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ 
 1912میں لندن روانہ ہوئے تو ’گیتان جلی‘ کی نظموں کا انگریزی ترجمہ ان کے ساتھ تھا۔ یہ قیمتی اثاثہ جس بریف کیس میں تھا اسے باقی سامان کے ساتھ ٹیگور کا بیٹا اٹھانا بھول گیا، وہ تو بھلا ہو اس مہربان کا جس نے یہ بھاری امانت ان تک پہنچا دی۔ یہ قیمتی مسودہ جس نے ادبی دنیا میں بھونچال لانا تھا، گُم ہوجاتا تو مغرب کو ان کی عظمت کا راز پانے میں نہ جانے کتنا عرصہ اور لگ جاتا؟
لندن میں ٹیگور کے مصور دوست روزنتھائن نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں انھوں نے نظموں کا ترجمہ سنایا۔ سامعین میں ممتاز شاعر ڈبلیو بی ییٹس اور ایذرا پاﺅنڈ بھی تھے۔ یہ منفرد شاعری ان کے دل میں اتر گئی۔ دونوں نے اسے پسند تو کیا ہی اس کا خوب چرچا بھی کیا۔ ییٹس نے نظموں کا انتخاب کیا ،ان کا تعارف لکھا ۔انڈیا سوسائٹی آف لندن نے کتاب شائع کردی۔
1913 میں اشاعتی ادارے میکملن نے ’گیتان جلی‘ کو چھاپ دیا تو اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ تھوڑے سے عرصے میں اس کے کئی ایڈیشن نکل گئے۔ اسی برس ٹیگور کو ادب کا نوبیل انعام مل گیا اور ان کی شہرت چاردانگ عالم میں پھیل گئی۔ شاعری میں جو سروراور روحانی کیفیت تھی اس نے قارئین کو اپنی گرفت میں لے لیا:
تو نے مجھے لامحدود بنایا ہے، تو نے یہی چاہا تھا، اس کمزور پیالے کو تو بار بار خالی کرتا ہے اور پھر اسے بھر دیتا ہے نئی زندگی سے۔

1910 میں نظموں کی کتاب ’گیتان جلی‘ رابندر ناتھ ٹیگور کی ادبی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی

تو ہی اس چھوٹی سی بانسری کو پہاڑیوں پر اور گھاٹیوں میں لیے لیے پھرا ہے، اور اس کو ایسے سُروں اور راگوں سے بھرا ہے جو ہمیشہ نئے رہتے ہیں۔ تیرے ہاتھوں کے  زندہ  جاوید لمس سے میرا چھوٹا سا دِل اپنی حدود کو نشاطِ بیکراں میں کھو دیتا ہے اور امربولوں کو جنم دیتا ہے۔
تیری لامحدود بخششیں صرف میرے ان بہت چھوٹے ہاتھوں کو ملتی ہیں۔ جگ بیتتے جاتے ہیں اور تو برابر اپنی بخششیں برساتا جاتا ہے اور ان بخششوں کو پانے کے لئے جگہ خالی رہتی ہے۔ (ترجمہ: فراق گورکھپوری)
دنیا کی مختلف زبانوں میں گیتان جلی کا ترجمہ ہوچکا ہے۔ اردو میں نیاز فتح پوری، فراق گورکھپوری، عبدالعزیز خالد اور شاہنواز زیدی سمیت کئی دوسروں نے اس عظیم شہ پارے کا ترجمہ کیا۔ 
شاعری ٹیگور کی پہلو دار شخصیت کا سب سے توانا حوالہ ضرور ہے لیکن ان کی ادبی شناخت کے دوسرے ذرے بھی اپنی جگہ آفتاب ہیں۔ فکشن نگار کی حیثیت سے ان کا رتبہ بہت بلند ہے۔ گورا، گھرے باہرے، چوکربالی ، ان کے مشہور ناول ہیں۔ تینوں کا اردو میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ کابلی والا جیسا عظیم افسانہ لکھنے والے ٹیگور کو بنگالی زبان کا پہلا ممتاز افسانہ نگار کہا جاتا ہے۔ ان کے موضوعات کی رینج بہت وسیع ہے۔ 1992 میں بنگالی سکالرکلپنا بردھن نے ایک سو سال کے بنگالی ادب سے 20 ایسے افسانوں کا انتخاب کیا جن میں ستم رسیدہ طبقے کی کہانی بیان ہوئی تھی، اس انتخاب میں سب سے اول نمبر ٹیگور کا ہے جن کے پانچ افسانے کتاب میں شامل ہیں۔ ڈرامہ نگاری بھی ان کی پہچان کا معتبر حوالہ ہے۔ ان کے نمایاں ڈراموں میں چترا، ڈاک گھر، راجا، اورکنیرشامل ہیں۔ 
 ٹیگور نے ہزاروں گیت لکھے، بہت سوں کی دھنیں تخلیق کیں۔ مصوری میں انفرادی رنگ جمایا۔ تعلیمی میدان میں ان کا عظیم کارنامہ شانتی نکیتن (وشو بھارتی) جیسی منفرد درس گاہ ہے جس کا قیام ان جیسا عالی دماغ ہی عمل میں لاسکتا تھا۔ 
ٹیگور جتنے گنوں کی حامل شخصیت ان کے عہد میں تو کیا ہوگی ان کے بعد بھی نہیں آئی۔ ایسی ہستیوں کے لیے انگریزی میں پولی میتھ کا لفظ برتا جاتا ہے، اردو میں اسے جامع العلوم کہا جاسکتا ہے۔ 
 ٹیگور نے اپنی زندگی میں برصغیر سے باہر بہت سے ملکوں کا دورہ کیا جس سے انہیں دنیا کی مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، عبقری شخصیات سے ان کی ملاقات رہی۔ 
 ٹیگور بھرپور کامیابیوں سے مالامال زندگی گزارنے کے بعد سات اگست 1941 کو فوت ہوئے۔ انھوں نے جو لازوال علمی و ادبی ورثہ چھوڑا  اس کی اہمیت ان کی وفات کے 78 برس بعد بھی برقرار ہے۔

 گاندھی اور ٹیگور


ٹیگور کو گاندھی جی کے فلسفہ قومیت سے اتفاق نہیں تھا

ان کی برصغیر کی سیاست پر گہری نظر تھی، اس میں ہونے والی اونچ نیچ سے بخوبی واقف تھے۔ ایک صائب الرائے آدمی تھے۔ سامراج کے مخالف لیکن اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جذباتی اشتعال کے بجائے تدبر اور فہم سے کام لینے پر زور دیتے۔
گاندھی جی کا ان کے جی میں بڑا احترام تھا لیکن ان کی فکر اور پالیسیوں سے کھلے بندوں اختلاف  کرتے۔ 
ٹیگور ایک جدید ذہن رکھتے تھے اور گاندھی جی پرانی سوچ کے آدمی تھے جو چرخہ کاتنے  کو تحریک کی صورت دینا چاہتے تھے، ٹیگورکا خیال تھا کہ اس سے غریبوں کے دلدر دور نہیں ہوں گے۔ انھوں نے اس بارے میں مضمون ’کلٹ آف چرخہ‘ میں اپنی پوزیشن واضح کی۔
سودیشی تحریک پر بھی ان کے تحفظات تھے۔ غیر ملکی اشیا کا بائیکاٹ ان کے نزدیک بے سود تھا۔ بدیسی کپڑے جلانے کی پالیسی بھی انہیں کھلتی تھی کہ ان کی دانست میں، اس سے غریب غربا اس کپڑے لتے سے بھی محروم ہوجائیں گے، جس سے ان کی سفید پوشی کا بھرم قائم رہتا ہے۔ گاندھی جی کے بدیسی کپڑوں کو ناپاک قرار دینے کی بات بھی ان کا ذہن قبول نہیں کرتا تھا۔ گاندھی جی نے بہار میں زلزلے کا ذمہ دار گناہگار انسانوں کو ٹھہرایا اور اسے بھگوان کا انتقام قرار دیا تو ٹیگورنے اس موقف کو غلط قرار دیا اور کہا گاندھی کی یہ بات بھگوان پر بہتان ہے۔ 
 انہیں گاندھی جی کے فلسفہ قومیت سے بھی اتفاق نہیں تھا جو ان کے خیال میں مختلف قوموں کے درمیان باعثِ عناد ہے، اس کے مقابلے میں وہ بین الاقوامیت پر زور دیتے جس سے انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جاسکتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ چھوت چھات ، ذات پات اور طبقاتی تقسیم کی دیواریں گرانے کی ضرورت ہے، اسی سے قوم کی زندگی میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ 

 ٹیگور لاہور میں

1935 میں ٹیگور لاہور آئے۔ انارکلی میں جوتوں کی مشہور دکان بھلہ شو سٹور کے مالک دھنی رام بھلہ کی کوٹھی، جو نواں کوٹ میں تھی ، اس میں ان کا قیام رہا۔ انفرادی حیثیت میں بہت سے لوگوں سے ملے۔ لالہ لاجپت رائے ہال میں تقریر کی۔ ٹیگور مادری زبان سے بڑی محبت کرتے تھے۔ لاہور میں ایک تقریب میں ان کا کوئی نغمہ گایا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ پنجاب میں آئے ہیں، اس لیے انہیں پنجابی زبان میں کوئی چیز سن کر زیادہ مسرت ہو گی، اس پر ان کو ہیر وارث شاہ کے منتخب اشعار سنائے گئے جو ان کے کانوں میں رس گھول گئے۔
 ٹیگور کو علامہ اقبال سے بھی شکوہ تھا کہ انھوں نے اپنی مادری زبان پنجابی کے بجائے اردو اور فارسی کو شاعرانہ اظہار کا ذریعہ بنایا۔

شیئر: