بانو قدسیہ اردو ادب کا اثاثہ تھیں،پاکستانی کمیونٹی

ریاض(ذکاءاللہ محسن) معروف ڈرامہ نگار بانو قدسیہ کے انتقال پر پاکبانوں کی جانب سے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا ہے۔ بزم ریاض سے تعلق رکھنے والے وقار نسیم وامق کا کہنا ہے کہ بانو قدسیہ جیسی لکھاری صدیوں میں پیدا ہوتیں ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم سے معاشرے کو اپنی منفرد تحریروں سے سنوارنے کی کوشش کی۔ لیگی رہنماوں راشد محمود بٹ، چوہدری مبین اور ڈاکٹر سعید وینس کا کہنا تھا کہ بانو قدسیہ ادب کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔ ان کے شوہر اشفاق احمد بھی پاکستانی ادب کا عظیم اثاثہ تھے۔ بانو قدسیہ نے اپنی پوری زندگی اپنی منفرد تحریروں سے لوگوں کی اصلاح کی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے رہنماوں محمد خالد رانا، فیاض احمد خان اور قاضی اسحاق میمن نے بانو قدسیہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بانو قدسیہ دورحاضر کے میں ادب سے منسلک افراد میں سب سے نمایاں تھیں۔ انہوں نے اپنی تحریوں کے ذریعہ لوگوں کو مل جل کر رہنے اور اخلاقیات کا عظیم درس دیا ہے۔ 

شیئر: